RSS

وہاں کیوں نہی ؟ – ٢

03 جون


گزشتہ سے پہوستھ ….

میں نے شاید ہی کبھی اپنے ملک کا مقابلہ کسی دوسرے سے کیا ہو ، پر جب کھبی بھی ٹی وی چینلز پر ایسے منظر دیکھنے کو ملتے جن میں وہاں کی خلقت بغیر خوف اور دہشت کے موج میلے کرتے نظر آتی تو دل میں اک پھانس سے لگ جاتی کہ ، کیا ہمارے نصیب میں ہی دہشت گردی کے تعفے لکھے ہیں ؟ کیا ہماری عوام طالبانی اسلام کی دائی ہے ؟ اور اگر نہی تو کیسے ان مسائل سے نجات حاصل کی جائے ؟

ہوٹل میں سب لوگ سو رہے تھے، پر میرے دل اور دماغ کی در و دیوار پر گزستہ چند گھنٹوں کے واقعیات مسلسل دستک دے رہے تھے . پٹتی ہوئی رات کی خنکی کو وہ نظارے مات دے رہے تھے جن سے میرے وطن کے بڑے شہر اور عوام کی اکثریت نا آشنا ہو گئے ہیں . میں یہ سوچنے پر مجبور تھا آخر کیا فرق ہے کہ پاکستان کا یہ حصّہ پاکستان ، میرے قائد کا پاکستان ہے، وہ پاکستان ہے جس کی آرزو ہم سب شدت سے کر رہے ہیں، کیا بات ہے کہ یہ علاقہ میرے ملک سے جڑا ہوکر بھی جدا جدا سے کیوں ہے ، کوئی تو بات ہے یہاں جس نے اسکو محفوظ رکھا ہے . عجب بات تھی ، سوال مشکل تھا پر جواب بہت آسان معلوم پڑا . ملک کے باقی حصوں سے امتیازی حثیت یہاں پر موجود معاشی آسودگی تھی . پیسہ کا مسلسل چلنا تھا ، اک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ .. دینے والا خرچ کرنے کے موڈ میں تھا اور لینے والا اپنے روزگار کو وسعت دینے کے لیے آگے رقم کو دبا کر نہی بیٹھا تھا ، یہاں معشیت کا ایسا پہیہ گھوم رہا تھا جو دہشت گردی اور بیروزگاری جیسے دشمن کو روندتا چلا جا رہا تھا . اور اس کی حفاظت کوئی حکومت ، کوئی فوج ، کوئی ادارہ نہی بلکہ دانستہ ، نا دانستہ طور پر خود یہاں کے مقامی لوگ کر رہے تھے کہ انکا مالی مفاد اس سے وابستہ تھا .

دہشت گردی کے کالے علم کی کاٹ صرف ایک ہی عامل کہ پاس ہے جو خوشحالی کے نام سے مشہور ہے . مہنگائی کا رونا اس لیے نہی کے اشیا مہنگی ہو رہی ہیں بلکہ اس سیاپے کی وجہ لوگوں کی دسترس سے اشیا کا باہر ہونا ہے. قیمت آپ جتنی مرضی بڑھا لیں، پر اسکے ساتھ ساتھ لوگوں کی قوت خرید بھی میں ابھی اضافہ ہوجائے تو کہیں سے کوئی کرا ہے گا بھی نہی . یہ سب کرنے اور اس معاشی پہیہ کو چلانے کے لیے کسی رانی توپ اور کسی گیڈر سنگهی کی ضرورت نہی ، آپ (حکومت) بس سازگار ماحول (زراعت کے لیے پانی اور صنعتوں کی لیے بجلی) مہیہ کردیں ، باقی عوام خود اپنا راستہ تلاش کرے گی ، خود ہی روزگار کے مواقعے پیدا ہونگے اور لوگ خود ہی اس کی حفاظت بھی کریں گے . خوف اور دہشت کے عفریت کو یہی نا ہتی عوام خود قابو کرلیں گے .

صبح کا سورج طلوع ہونے کو تھا ، میرے تمام سوالوں کے جواب میری دانست کے مطابق میرے پاس تھے، کہ بس اک دفعہ اس پہیہ کے چلنے کے دیر ہے پھر دیکھے کیسے دہشت گردی کا بھوت دہشت زدہ ہو کر بھاگتا ہے ، پھر کیسے ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترم کرتے ہیں پھر شاید ہم یہ نا سوچیں کہ صرف ہمارے حصّے میں یہ بددعا کیوں ہے اور آخر یہ بدامنی "وہاں کیوں نہی ؟” .

(یہ محض اتفاق ہے کہ آج بجٹ ھی پیش ہونا ہے، کاش کہ پہیہ چل پڑے )

Advertisements
 
4 تبصرے

Posted by پر جون 3, 2011 in سماجی

 

4 responses to “وہاں کیوں نہی ؟ – ٢

  1. pakcom

    جون 3, 2011 at 7:00 شام

    چلیں آپ بھی بجت اور لگاتار منی بجٹس دیکھ کر فیصلہ کر لی جئیے گا کہ آپ کے بقول ” آپ (حکومت) بس سازگار ماحول (زراعت کے لیے پانی اور صنعتوں کی لیے بجلی) مہیہ کردیں ، باقی عوام خود اپنا راستہ تلاش کرے گی ” آپ کی یہ آپحکومت کتنے پہیے چلانے میں مخلص ہے؟۔

    ہر عمل کا ایک ردعمل ہے۔ ابھی تو آپ بھارتی افغانی امریکی اسرائیلی برطانوی سبھی قسم کی ایجینسیوں کو پاکستان کے اندر دہشت گردی سے پاک صاف کرتے ہوئے اس طالبانی سوچ کو پاکستان میں دہشت گردی کا واحد ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔ ڈریے اس دن سے اور ڈرایے ان جعلی بجٹ منصوبے بنانے والوں کو کہ جس دن بھوک کے ہاتھوں اپنے بچے بیچنے والوں اور اپنے بثوں کے پیٹ کاٹنے والوں نے ۔ اٹھارہ کروڑ پسے پوئے لوگوں نہ کہہ دیا کہ ہاں اب بس۔ اب ہمیں اپنے حالات سدھارنے کے لئیے خود جدو جہد کرنے ہے تو وہ دن شاید پاکستان میں قیامت جیسا دن ہوگا۔ یہ ردعمل انھی بادشاہوں کی متواتر عیاشیوں اور گلچھروں کی وجہ سے ہوگا۔ جس میں فقیر کو کھال مست تک رہنے کی گنجائش ان لوگوں نہیں چھوڑی۔

     
    • بے ربطگیاں

      جون 3, 2011 at 7:32 شام

      اب ہمیں اپنے حالات سدھارنے کے لئیے خود جدو جہد کرنے ہے…

      اول اگر آپ "جدو جہد” کو مفصل بیان کردیں تو جواب میں آسانی ہوگی ..

      دوم ، حصّہ اول میں پریوں کے دیس کا ذکر نہی .. ہمارا پاکستان اور ہم جیسوں کی ہی وہ جگہ ہے … وہاں پر کوئی مجھے بھیک مانگتا نظر نہی آیا .. بچوں سے لے کر بھوڑھوں تک سب کو وہیں سے ، کسی بھی جائز طریقے سے رزق کماتے پایا..

      سوم ، حکومتوں پر انگلیاں تو سب اٹھاتے ہیں ، مجھ سمیت کتنے ہی ہزاروں ہونگے ، جو اعلی درجے کے ہوٹل میں ٥٠٠٠ کھانے کے بل کے طور پر تو ادا کرنے کو راضی ہوتے ہیں پر ساتھ ساتھ اس کوشش میں بھی جٹے ہوتے ہیں کہ بل میں ٹیکس نا شامل کیا جائے.. اس حمام میں سارے ننگے ہیں ….

       
  2. Saleemraza

    جون 9, 2011 at 10:05 شام

    محترم میں شرمندگئ کے ساتھ ساتھ معزرت کا بھی طلبگار ہوٍں جو اس تحریر پر اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کر سکا،
    دوبارہ اسیی گستاخی نہیں ہوگی،

     
    • بے ربطگیان

      جون 10, 2011 at 11:18 صبح

      رضا صاحب ، آپ تو شرمندہ کرنے پر آ گئے ہیں … وہ بھی بھگو بھگو کر

       

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: