RSS

سبز ہلالی پرچم میں سنگین غلطی


بے ربطگیان


گاڑی کا سلینسر کافی آواز کر رہا تھا ، سوچا تو یہی تھا کہ میں صبح ، صبح ٹھیک کروا کے وقت پر گھر واپس آجاؤں گا پر آنکھ ہی دھوکھا دے گئی اور بارہ بجے جب مستری کے پاس پہنچا تو لائن کافی لمبی تھی ، خیر میں بھی قطار میں لگ گیا ! تھوڑی دیر میں پھٹ پھٹ کرتی ایک اور کار آئی جس میں تین خواتین سوار تھیں ، چھوٹا بولا : استاد لیڈیز ہیں گرمی بھی ہے انکی گاڑی پہلے لگا دوں ؟ استاد نے جس کار کو ٹھیک کر رہا تھا کے نیچے سے سر باہر نکال کر خواتین کی کار کے درمیانی شیشہ پر لٹکتی صلیب کو دیکھ کر کہا “چھڈ یار چوڑیاں (چمار) نیں ایہنا دا کہڑا روزہ ہے! کھلوتی رہین دے توپپے، واری سرے ویکھاں گے” . اور اس معاشرے میں جہاں مرد خواتین کو ابھی بھی احترام دے کر لمبی لمبی…

View original post 377 more words

 
تبصرہ کیجیے

Posted by پر اگست 14, 2015 in سماجی

 

پوت سے کپوت



پچھلے وقتوں کے بڑے بوڑھے کہہ گے ہیں کے دودھ اور پوت کے خراب ہوتے دیر نہی لگتی اور اگر پوت خراب ہو جائے تو یہی اولاد نرینہ نعمت کی بجا ئے کسی امتحان سے کم معلوم نہی پڑتی .. اس کا اندازہ اور تجربہ صابر صاحب سے زیادہ کسی اور کو نا ہوگا جن کی اکلوتی اولاد دن رات ان کو اس بات کا احساس کرواتی رہتی تھی. بے جا لاڈ پیار سے بگڑے موصوف برخودار ہر وقت “بدلے” کے اصول پر کار فرما رہتا تھا . صابر صاحب اگر کسی بات پر ہلکی سی ڈانٹ ڈپٹ بھی کر دیتے تو وہ اتنی ہوشیاری سے اس ڈانٹ ڈپٹ کا بدلا لیتا کے صابر صاحب بےبسی کی تصویر بن کر رہ جاتے .. بدلے لینے کی پلاننگ اور ٹائمنگ اتنی عمدہ ہوتی کے ابا حضور کے پا س سواۓ کڑنے کے کوئی اور آپشن نہی ہوتی اور اس طرح باپ کے چہرہ پر بےبسی بیٹا کے دل کا سکون ٹھرتی .


بدلے کے یہ واردات عین مہمانوں کے درمیان کسی بے تقی فرمائش سے لے کر کھانے کے میز پر بلا وجہ رورو کر سارے دن کے تھکے باپ کے لیے دو نوالوں کو زہر بنانے جیسے ہت کنڈوں پر ہوتی . اک بار تو جناب نے فٹ بال کے فرمائش رد ہونے کا بدلا اپنے آپ کو “جان بوجھ” کر زخمی کر کے اس طرح لیا کہ مہنے کے آخری دنوں میں خالی جیب باپ کو اسکے علاج کے لیے ہاتھ پھیلانا پڑے گے حد تو یہ ہوتی کہ آخرمیں بیٹا جتلاتا کہ دیکھا آپ نے فلاں وقت یہ کیا یاں نہی کیا تھا .. اور باپ بیچارہ یہ سوچ کے رہ جاتا کے کس کرموں کی سزا مل رہی ہے اسے کہ بیٹا نا اگلنے بن رہا ہے نا نگلنے ..آخر اسکی غلطی لاڈ پیار ہی تو تھی .. اگر معلوم ہوتا که پوت کپوت بن جائے گا تو کبھی بھی اتنا لاڈ پیار نا دیتا ..


ہماری پوری قوم کے حالات بھی اس وقت صابر صاحب سے جدا نہی … جمہوریت کا پوت ہم سے کیسے کیسے بدلے لینے پر اترا ہوا ہے … وفا کی ،(ووٹ کے) اعتبار کی اپنے ہے ہاتھوں سے لگائی ہر گراہ ہم کو دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہے . پر اس پوت کے بدلے کی آگ ٹھنڈی ہونے کو نہی پڑ رہی


تم نے ہمارے لیڈر کو تخت دار پر لٹکایا .. لو مسٹر دس فیصد کو بھگتو


تم نے ہماری بی بی پر حملہ کیا .. لو کراچی والو روز اٹھاو لاشوں کو


ہماری لیڈر تمہارے ملک میں مار دی گئی .. لو ملک والو اور مہنگائی لو …


تمہارے صوبے سے ہمیں ووٹ نہی ملے.. لو صوبے والو تم سب سے زیادہ اندھرے میں رہو..


اور اب بڑی محنت سے، بڑی سوچ بچار کرنے کے بعد کہ کیسے اس صابر قوم کے صبرکا مزید امتحان لیا جاۓ؟ ایک نایاب “راجہ” آج ہم پر مسلط کر کے پوری قوم اور سپریم کورٹ کو جتلایا جا رہا ہے کہ تم نے ہمارا اک رتن رن بھومی سے باہر کیا ہے لو دیکھو اور بھگتو اس سے بھی بڑے کو… گیلانی تو کرسی عظمیٰ سمنبھالنے کے بعد میں ملزم ہوا تھا ، تم نے استثنیٰ کی ہماری بات نا مانی .. اب کے ہم پہلے سے ٹہرے رینٹل ملزم کو تمھارے سروں پر بٹھاتے ہیں.. … تم راجہ کے “بجلی کی سی مہارت” سے تو واقف ہوگے ..کیا ہوا جواک بجلی کو نکیل نا ڈال سکا اب دیکھنا کیسے پوری قوم کو نکیل ڈالے گا.. ہمارا نیا ںو نہال دیکھنا.. صرف اک محکمے سے اسنے چار سو ارب چھاپنے کا ہنر دکھا کر ثابت کر دیا تھا کہ ہونہار کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں .. اب دیکھنا کیسے ٹھکا ٹھک ٹھکا ٹھک مشین کام کریگی کہ تم ملتان زادے کو بھول جاؤ گے … ایک طرف تو پوت للکار رہا ہے کہ ابھی بھی وقت مان جاؤ ہماری بات ورنہ اس سے بھی بڑے بڑے لعل ہیں اسکی گڈری میں.. اور دوسری طرف قوم سوچتی ہے کہ اسنے تو پوت کو جمہوریت لے نام پر صرف لاڈ پیار ( ووٹ ) دیا تھا معلوم نا تھا کے یہ پوت ، پوت سے کپوت بن جائے گا ! اگر معلوم ہوتا تو کبھی بھی اتنا ..

 
2 تبصرے

Posted by پر جون 22, 2012 in سماجی, سیاسی

 

آنسوؤں پر میراث



میرے کانوں میں پہلی بار اسکی آواز اس وقت پڑی جب میں لڑکپن سے نو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا ، بڑے بھائی نے کیسٹ میں اپنی پسند کے نغمے بھرواۓ ، پر مجھ کو تو اسکی کاغذ کی کشتی ہی اپنے سنگ لے چلی . گو کہ ابھی بچپن کے دن دور نا گزرے تھے پر کانوں سے دل تک جاتی اسکی آواز نے بچپن میں ہی بچپن کی ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو انمول کردیا .. یہ بتا دیا کہ ابھی بھی وقت ہے کرلو قدر ان کی …

جوانی میں قدم رکھا تو اکھڑ دماغ کو دنیاوی خوہشات کی اوقات یاد دلانے کے لیے غالب کی “ہزاروں خوائشیں” کی نصیحت سنا ڈالی.. اسکے بعد ایسا سلسلہ ہوا کہ سینکڑوں بار اسنے میرے دل کا بوجھح کانوں سے جاتی اپنی آواز سے میری آنکھوں سے نکال باہر کیا ، چاہے وہ بھوج تھا میرے والد کی جدائی کا ، یاں پھر میرے ان دیکھے ، بنا انسانی شکل میں آئے چند ہفتے کوکھه میں پلے بچے کی جدائی کا یاں پھر والد ثانی (سسر) سے بچھڑنے کا جو سب جانے کس دیس چلے گئے تھے ..پر اس نے میرا من بہت ہلکا کیا ….

اسنے یہ بھی بتایا کہ “ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہی چھوٹا کرتے … ” اور یہ سن کر میں روٹھے اپنوں میں واپس لوٹا ، بار ، بار لوٹا کہ جهک کر کوئی چھوٹا نہی ہوتا, خون کے رشتے پھر بھی خون کے ہی رہتے ہیں …

اجتمائی طور پر بھلے نا مانیں ہم ، کہ اسنے اردو کی کتنی خدمت کی گو کہ اسکے ناقدین کو بھی یہی کہتے پایا کہ بازیچہ اطفال تھی غزل کی یہ دنیا اسکے آگے ، پر میں احسان فراموش نہی .. آج میری مقروض آنکھیں ، اسکی جدائی کا قرض اتارنے کی سعی کر رہیں ہیں .. مجھے نہی معلوم کے میں اسکو آنجہانی کہوں یاں مرحوم ، پر وہ لوٹ گیا ہے رب کے پاس جو اسکا بھی ہے اور میرا بھی… بہت سے یار لوگ میری بات کو پسند نا کریں پر “ہوش والوں کو خبر کیا، بے خودی کیا چیز ہے ؟” دکھی دل ، مذہب ، دیوار، سرحد ، دشمنداری نہی دیکھتا .. آنسوؤں پر صرف اپنوں کا حق نہی ہوتا وہ تو صرف بہ جاتے ہیں انکے لیے جن پر انکا حق ہوتا ہے، ان میں اپنے ، بیگانے یاں مذہب کی تفریق نہی ہوتی کیونکہ نہی ہے کسی کا “آنسوؤں پر میراث”!

 
7 تبصرے

Posted by پر اکتوبر 10, 2011 in سماجی

 

ہولی یاں گولی؟ حصّہ دوَم



گزشتہ سے پوستہ ….

متحرم دوست (خاور) ، زمانے کے بدلتے انداز اور قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اسسی کی دہائی میں ملک عزیز کے عظیم سائنسدانوں نے جنگی اور بھنگی اطوار کو مزید فعال اور کامیاب بنانے کے لیے ان کو نئی شکل دینے کے ساتھ ، ساتھ اشتہاری مہم کو بھی کچھ اس نئے انداز سے بدلا کہ آج تین دہایوں گزرنے کے باوجود ، یہ نئے اطوار عطیہ ، عہد حاضر تک کامیابی کے زینے پھلانگتے جا رہے ہیں … قوم میں خون کے فشار میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اس کو دو عدد نئی دریافتوں سے متعارف کروایا گیا

١ – ہولی
٢ – گولی

ہولی یعنی مقدس طریقہ کار کو رائج کرنے سے پہلے ، قومی جوان خون صرف ملکی ضرورتوں کو پورا کرتا تھا ، اس طریقہ کار کے تحت پہلی بار قوم نے ایک نیک کام کی خاطر سرحدوں کی مجبوری کو مٹا دیا اور اغیار کو بےلوث خون عطیہ کیا ، پہلے پہل یہ تجربہ صرف افغانستان تک محدود رکھا ، اور اس کے حیران کن فوائد کو دیکھتے ہوۓ اس کا دائرے کار چیچنیا سے لے کر برما اور بعد ازاں کشمیر کے ضرورت مند بھائیوں تک پھلا دیا گیا . ہولی (مقدس) طریقہ کار سے دو بڑے فوائد حاصل ہوۓ ، اول اس انداز سے خون کم وقت میں ، پر وافر مقدار میں عطیہ کیا جانے لگا اور دوم اس کے ساتھ ہی عطیہ کرنے والے رضاکاروں کو شہید اور جنتی جیسی اعلی اسناد سے نواز جانے لگا. اس طریقہ کار کی سب سے بڑی خوبی عمر کی قید کا ختم کرنا تھا ، نو عمر گرم سے لے کر بوڑھے ٹھنڈے خون کو کھلے دل سے قبول کرکے معاشرے میں رواداری کی حوصلہ افزائی کی گئی … اب تو یہ طریقہ اپنی تجربے کی بھٹی میں پک ایسا کندن ہوا ہے کہ بس .. اک جیکٹ ، تھوڑی خوشبودار محلول اور کھیلنے والی کچھ گول گول گیندیں ، پھر ایک نعرہ اور آن کی آن میں کیا شیر خوار، کیا جوان، کیا پیر ، کیا مرد کیا زن … خون کے عطیہ کا ڈھیر کا ڈھیر لگا دیتے ہیں … اور انعامی سکیم کے تحت معالج اور رضاکار دونوں ، جنت کے باغوں میں تازہ پھلوں کے رس سے ہر قسم کی جسمانی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں…


طریقہ گولی بھی اسسی کی دہائی میں متعارف ہوا . ابتدائی طور پر پنجاب میں مسجد اور منمبر کا انتخاب بہتر سمجھہ گیا اور علوم اور فقئ خزانے کو زیر استمعال لاتے ہوۓ بیش بہا خون عطیہ کیا گیا … عطیہ کے جوش کا یا عالم تھا کہ خون دان کرنے کی دیر ہوتی کہ ایک فرقہ دوسرسے کی فوری مدد کرتا کہ کہیں احسان چکانے میں دیر نا ہو جائے… خون گرم رکھنے کے لیے حرمت اور تقدس کے الفاظ کا درست ، درست استمعال کیا گیا .. اس طریقہ دان کے لیے، تجربہ گاہ میں خالی صرف ان ملا حضرات پر بھروسہ نہی کیا گیا کہ کیا پتا سارے اس وقت ہی MMA کے حلوے پر اکھٹے ہوجاتے ؟ اور ساری محنت غارت ہوجاتی!!! ، سو متوازی طور پر خون عطیہ میں استمعال ہونے والی نئی سرینج “کلاشن کوف ” کو سندھ کے بڑے شہروں میں فوری طور پر پروان چڑھا گیا اس میں کس نے کس کی کیا مدد کی کوئی ڈھکی چھپی بات نہی ہم نے کچھ ہی عرصے میں سندھی ، پنجابی ، پٹھان ، مہاجر سب سے برابر، برابر خون عطیہ کروایا اور ابھی تک کیا خوب انداز سے یہ سلسلہ جاری ہے…خون عطیہ کروانا کے بعد رضاکار کو باعزت طریقے سے پارسل کرنے کا بھی انتظام ہے .. بھائی موت بر حق ہے اور قبر میں تو جانا ہی ہے … کچھ بھی ہو ہم لوگ صرف انسانوں کا نہی دوسری مخلوقات کا بھی خیال رکھتے ہیں ، کہاں وہ بھاری بھرکم جسد کو کھینچتی پڑیں گیں تو انکی سہولت کے لیے پارسل میں ران ، دستی ، پٹھ ، مغز الگ الگ کر کے ہی ڈالے جاتے ہیں ..حشرات تک کا تو خیال رکھتے ہیں اور پھر بھی الزام ہے کہ ہم جاہل اور نا ہنجار قوم ہیں…


میرے محترم دوست ، جناب خاور کھوکھر صاحب ، یہ جاننے کہ بعد کہ ہم خون عطیہ کرنے میں کتنے دریا دل ہیں ، امید ہے آپ کو اپنی آبائی قوم پر اب ناز اور فخر ہوگا … ورنہ میدان بھی حاضر ہے آکر دیکھ لیجیے کہ خون کا دباؤ برقرار رکھنے کے لیے جاپانیوں کا سوئی والا فرسودہ نظام بہتر ہے یاں “ہولی یاں پھر گولی” والا ؟

 
تبصرہ کیجیے

Posted by پر ستمبر 30, 2011 in سماجی, سیاسی

 

ہولی یاں گولی؟



زندگی میں بہت سے واقعات ایسے ہو جاتے ہیں ہیں کہ بندہ چپ سادھنے اور صبر کرنے میں بہتری جانتا ہے یا جسے پنجابی میں کہتے ہیں نا “در وٹ جانا” میں آفیت سمجھتا ہے . سو ایک ایسی ہی بات پر ہم نے بھی سادھ لی چپ، پر آخر کب تک ؟ یہ غم اب زیادہ سمنبھالا نہی جا رہا کلیجہ پھٹنے کو ہے کے اگر دل کی بات باہر نا آئی! ضمیر بار بار ملامت کرتا ہے کہ ایسی بےغیرتی کیوں ؟ ہوا کچھ یوں تھا کہ عرصہ پہلے میرے ایک ساتھی بلاگر خاور کھوکر نے “خون کا عطیہ کریں” کے نام سے تحریر لکھی ، اور اس میں فشارخون کو برابر رکھنے کے لئے جاپانیوں کے رواج کو تو بہت اعلی مقام پر پہنچا دیا اور سات سمندر دور بیٹھ کر پاکستانیوں کے خوب لتے لئے کہ آخر ہم بھی ایسا کیوں نہی کرتے؟ جناب نے خوب کوشش کی کہ ہمیں اور ہماری قوم کو جاہل ثابت کیا جائے . دوسروں کی طرح میں نے بھی یہ دلآزاری کو سہا اور چپ رہا پر اب نہی سہا جا رہا …. اور بلا آخر خاور صاحب کی تحریر کا جواب آج دے کر اپنا فرض پورا اور ضمیر مطمئین کر رہا ہوں ..تو محترم عرض ہے …

پاکستانی، اپنے بچپن سے دنیا میں نا صرف سب سے زیادہ خون “عطیہ” کرتے آ رہے ہیں بلکہ دنیا کو خون عطیہ کرنے کے نت نئے اور محفوظ طریقوں سے آشنا بھی کرواتے آئے ہیں اور ابھی تک کروا رہے ہیں .. موصّوف ، “دان” کا یہ رواج تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا .. اس وقت کے نا مساعد حالات اور بنا کسی جدید سائنسی تجربہ گاہ کے اہل پاکستان نے یہ دریافت کر لیا تھا کہ “سوئی” بڑی ظالم چیز ہے .. جانے کس کی گندی بیماری کس کو لگ جائے اور بندہ گناہ بے لذت مارا جائے … ایسی بےمقصد موت ؟؟ توبہ توبہ!! ایک مسلمان اوپر سے وہ بھی پاکستانی کو بلکل قبول نہی تھی . پر کیا کیا جاتا جوان خون کا دباؤ بھی تو برقرار رکھنا تھا .. تو فوری طور پر دو متوازی طریقے لوگوں میں متعارف کرائے گے .

اول – جنگی
دوَم – بھنگی

طریقہ اول تو پیدائش پاکستان کے ساتھ ہی اپنا لیا گیا اور سنہ 48 سے 71 تلک ہم نے اجتمائی طور پر خون خوب عطیہ کیا .. لوگوں کو راغب کرنے کے لئے تین بار بڑی بڑی مہم بازی کی گئی .. دوران عطیہ ، خون کا دباؤ زیادہ رکھنے کے لیے رضاکار کو “دشمن دشمن” ، “غیرت غیرت” کے پر جوش صوتی اورسماتی ترانہ نما انجکشن متواتر دیے جاتے رہے .. عطیہ کے اس طریق کار سے نا صرف قوم میں خون کا دباؤ بھی متوازی رہا اور ساتھ کے ساتھ “موت بے مقصد” کے نفسیاتی ڈر کو بھی ختم کرنے کے لئے “شہید” کا لقب نوازا گیا …

بھنگی طریقہ کار قوم میں ساٹھ کی دہائی میں متعارف کروایا گیا .. اور اشد ضروت پر اس کو فوری طور پر اپنا لیا گیا کیوں کہ خون بہت تھا اور بلند فشار سے نقصان بھی بہت ہو رہا تھا کہ ہزاروں میل دور سے بنگال کے کالے بھنگی اپنے کالے جادو سے اہل پاکستان کو تنگ کر رہے تھے .. اور ہم “سید ، شاہوں” کی برابری پر اتارو تھے کہ اس خون عطیہ کرنے کے طریقہ کار کو رائج کر کے ایک طرف قوم کے ٹھا ٹھے مارتے خونی سمندر کے مدو جذر کو بھی برقرار رکھا گیا اور ساتھ کے ساتھ ہم نے کالے بنگالی بھوتوں کے بھیس میں بھنگیوں سے بھی جان چھڑا لی جو ملک کے ترقی میں حائل ہوتے جا رہے تھے . گو کہ سنہ 71 میں “مشن مکمل” ہو گیا تھا پر خون کا دباؤ برابر رکھنے کا یہ طریق کار دل کو ایسا بھایا کہ کچھ عرصے بعد ہی ہم نے اس کو پہاڑی بلوچ پٹھ مغزوں پر آزمانے کا فیصلہ کیا کیوں کہ بھلے رنگت کچھ بھی ہو ، شاہوں کی برابری کے چاہ رکھنے والا ہوتا تو بھنگی ہی ہے نا …سو پھر سے آزمودہ نسخے کو زیر استمعال لایا گیا اور یوں بلوچی خون کی حدت میں کافی کمی کر دی گئی ..

پاکستانی قوم میں خون عطیہ کرنے کا جذبے اور تجربہ گاہوں میں نئے اور مستند طریقوں کی دریافت کے سلسلے میں بہت سے فراز ہی فراز ہیں ..جو اگلی قسط تک مجھ پر قرض ہیں .
(جاری ہے ….)

حوالے کے لیے، آپ محترم خاور صاحب کی مذکورہ تحریر درج ذیل لنک سے پڑھ سکتے ہیں ..

http://khawarking.blogspot.com/2011/08/blog-post_2741.html

 
4 تبصرے

Posted by پر ستمبر 23, 2011 in سماجی

 

کاش وہ بھی ویلو ہوتے



گھر میں آرائش کا کام جاری تھا ، گھر کے تمام لوگ اسی سلسلے سے جڑے تھے کہ جانے اسکے من میں کیا آیا اور وہ گھر سے نکل پڑی. فرصت ملنے پر جب گھر والوں کو اسکے کے غائب ہونے کا احساس ہوا تو ورثا کے ساتھ ، ساتھ حکومتی اداروں نے بھی نے اس کو ڈھونڈنے کی لاکھ کوشش کی، قریب کے گھروں میں ڈھونڈا ، ارد گرد کے محلوں ، گلی کوچوں میں دیکھا ، شہر چھان مارا، اعلانات کرواے گے ، پر سب لا حاصل رہا اور بلآخر اسکو لاپتا قرار دے دیا گیا . ورثا تو کچھ عرصہ بعد نا امید ہوکر صبر کر کے بیٹھ گئے پر حکومتی اداروں نے اپنی آنکھیں نا موندیں اور مسلسل ورثا سے رابطے میں رہے کہ انکی ڈھارس بندھی رہے .. اس سلسلے کو کیلنڈر نصف عشرہ کھا گیا اور پانچ سال بعد وہ اپنے گھر سے کئی سو میل دور آوارہ ماحول سے بازیاب ہو گئی .. گھر والوں کو اطلاع کی گئی اور متعلقہ حکام نے شناخت کے بعد اسکو ورثا کے حوالے کر دیا …اس طویل عرصے کے دوران ، اداروں میں کتنے افسر تبدیل ہو گئے ہونگے پر نا کسی نے سوچا کہ یہ پچھلے کا ادھورا کام تھا ، یاں اتنے وقت گزر جانے کے بعد اب وہ کہاں ملے گی ؟ یاں بازیابی میں سینکڑوں میل کی دوری ہماری حدود اور اختیارات میں حائل ہے اور نا ہی یہ سوچا کے یہ کونسی انسان کی بچی ہے … اک بلی ہی تو ہے ! جی ہاں یہ کہانی ویلو نامی بلی کی ہی ہے اور اسکو اک جاندار اور لاپتا سمجھہ کر اسی طور پر انتھک محنت سے تلاش کیا گیا جیسے کسی لاپتا انسان کو تلاش کیے جانے کا حق ہے….

تصویر کے دوسری طرف پچھلے کئی سالوں سے لاپتا “بنائے” جانے والے انسانوں (متواتر اضافے کے وجہ سے جن کی تعداد کا اب صہیح اندازہ بھی نہی) کے لواحقین ہر حکومتی ، ہر غیر سرکاری تنظیم ، ہر ذرائےابلاغ کے در پر سر پٹخ پٹخ کر مایوس اور نا امید ہوگئے تو عدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس نے ان کی بے نور آنکھوں میں زندگی کی پھر سے رمق پیدا کردی .. پر وہ معصّوم کیا جانیں کے ہر در پر بیٹھے ہاتھی کے دونوں دانت انکی کوئی مدد نہی کر سکتے اور وہ تو کسی اور کو دکھانے اور کھانے کے لیے ہیں .. یاں تو اصل اور متعلقہ حکام تک پہنچتے، پہنچتے انکے پر جل جاتے ہیں یاں پھر ان اعلی مسندوں پر بیٹھے اعلی افراد کو پانی میں اپنی گاڑی پھنس جانے جیسے عظیم مسائل سے فرصت ہی نہی مل پا رہی کہ اس بیکار کے کیس کی (مکمل) سنوائی بھی کر لی جائے. شاید کہ کوئی حقیقی اور جائز رکاوٹ لاپتا افراد کی تلاش میں حائل بھی ہو . پر اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھنے والی ، بالوں میں چاندی اترواتی سوہاگنیں، شیر خواری سے جوانی کے حد کو پہنچے والے “یتما بلجبر” اور اپنے جوان کندھوں کے انتظار میں بیگانوں کے ہاتھوں لحد میں اترتی روحیں ویلو کی خبرسن کر اتنا تو رشک کر ہی رہیں ہونگی کے ہمارے پیارے جو لاپتا بن یاں بنا کر بھلا دِیے گئے ہیں کاش وہ بھی ویلو (بلی) ہوتے ، کہ آخر مل تو جاتے…

 
4 تبصرے

Posted by پر ستمبر 16, 2011 in سماجی, سیاسی

 

مجھے فخر ہے کنول کے پھولوں پر



گاؤں میں بدبودار جوہڑ کی طرف کوئی نہی جاتا تھا کہ ٹہرے پانی کی بدبو لوگوں کی سانس تک کو اکھاڑ دیتی ، جا بجاہ گھومتے پھرتے گندے کیڑوں مکڑوں سے لے کر زہریلے حشرات، لوگوں کے دلوں میں جوہڑ کے لیے مزید نفرت اور دوری کا سامان پیدا کرتے … اپنی دنیا میں مست بستی والوں کو اتنی فرصت کہاں تھی کے بدبودار پانی کا سوچتے، پس بہتر حل یہی نکلا کہ اس بے فیض پانی کے ٹکڑے کو اسکے حال پر چھوڑنا اور خود اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے … یونہی سال پر سال بیتتے گئے اور زندگی چلتی رہی کہ اک دن دور سے جوہڑ میں نہایت ہی سفید اور چمکتی شہ دکھائی دی ، فطرت انسانی کے عین مطابق ناپسنددیگی ، کراہت اور خوف کو تجسس نے زیر کر دیا اور لوگ جوہڑ کے طرف بھڑنے لگے کے آخر یہ سفیدی ہے کیا ؟ یہ سفیدی اور چمک کسی موتی اور انمول شہ کی نہی بلکہ کنول کے اس شاندار پھول کی تھی جو جوہڑ کے بچیوں بیچ کھل اٹھا تھا … عجب بات ہے کہ سفید رنگ نے تمام مذاہب کو ہر دور میں اپنی طرف کھینچا ہے سو گاؤں والوں کو بھی کنول کا بڑا سا سفید پھول قدرت کا وردان معلوم ہوا اور آپسی مشورے کے بعد یہ تہہ پایا کہ اس سال دیوی کے لیے اس سے بہتر چڑھاوا کوئی اور نہی ہوسکتا اب چاہے اس کے واسطے پر خطر بدبودار جوہڑ میں ہی کیوں نا جانا پڑے …اور پھر ایک بدبودار جوہڑ میں اگے کنول کو مندر کی زینت بنانے کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ….اور وہی جوہڑ لوگوں کی مستقل توجہ کا مرکز بن گیا جو کل تک کسی کو بھاتا نا تھا ..

کیا عجب اتفاق ہے کہ پوری دنیا (گلوبل ویلج) کو آج پاکستان دور سے کسی بدبودار ، گندے جوہڑ سے کم معلوم نہی پڑتا ، جس میں غربت اور جہالت کے کیڑے مکڑوں سے لے کر دہشت گردی جیسے موزی حشرات پائے جاتے ہیں.. اور گاؤں کے لوگ اس سے نا آشنائی میں ہی عافیت گردانتے ہیں .. پر کیا کریں کہ نظام قدرت کو روکا نہی جا سکتا اور کنول کے پھول کو کھلنا ہے ہی ٹہرے ، گدلے پانی میں … متواتر، ایک نہی، دو نہی ، تین کنول کھلے اور کیا خوب کھلے کہ ہزاروں لاکھوں پر رشک نظریں اسی گندے ، بدبودار جوہڑ کے جانب لگ گئیں جس سے دور رہنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے … لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے ان کنول کے پھولوں کو دنیا کبھی علی معین نوزاش ، کبھی ابراہیم شاہد اور کبھی زوہیب اسد کا نام دیتی ہے . فطرت ہے کہ اگر کوئی خود اول نہی آتا تو یہ تو ضرور جاننے کی کوشش کرتا ہے کے وہ ہے کون جو اول آیا ؟.. کیمرج یونیورسٹی کے تحت ہر سال ہزاروں طالب علم O اور A لیول کے امتحانات میں بیھٹتے ہیں … اور آخر میں ان ہزاروں لوگوں کو جب یہ پتا چلتا ہوگا کہ کنول کا پھول اب کی بار پھر کہیں اور نہی ، اسی گندے ، بدبودار جوہڑ میں کھلا ہے تو جوہڑ کے بارے میں منفی خیالات میں کچھ نا کچھ تو تبدیلی آئی ہوگی .. کسی نے تو کہا ہی ہوگا کہ یہ کنول ہمارے مندر کی زینت ہونا چائیے! چاہے اس کے لیے جوہڑ میں ہی کیوں نا اترنا پڑے. دنیا کی نظر میں جوہڑ کو بے فیض سے با فیض بنانے کے سفر میں ان کنول کی پھولوں کا بھی کردار ہے …اور اسی جوہڑ کے اک کیڑے ہونے کے ناطے مجھے فخر ہے (ان) “کنول کے پھولوں” پر..

 
8 تبصرے

Posted by پر ستمبر 5, 2011 in سماجی