RSS

Monthly Archives: جولائی 2011

شوق شہادت



رحمان ڈکیت ، لیاری کراچی کا رابن ہڈ مشہور اور بدنام زمانہ مجرم ، جس کے ہاتھ اپنی سگی ماں سے لے کر ان گنت نا معلوم خونوں سے رنگے ہوۓ . ڈکیتی سے لے کر اغوا براے تاوان . رسہ گیری سے لے کر بھتا گیری تک ہر جرم میں ملوث . پر جب وہ ( جس طرح سے ) مارا گیا تو لیاری کے عوام کے لیے بہادر ہیرو بن گیا . لوگ اسکے جرائم کی لمبی فہرست کے باوجود اسے مظلوم بنائے بیٹھے ہیں. لوگوں کا اسکے لیے نرم گوشہ اسکی غریب پروری ہو یاں نا ہو پر اسکا انداز قتل اسکو شہید بنا گیا.

برصغیر کے لوگوں کی یہی نسفیات ہے کے بندہ چاہے جتنا بھی بڑا ظالم ، جابر ، مجرم ہی کیوں نا ہو اسکی مظلومیت اسکے باقی گناہوں پر چشم پوشی کروا دیتی ہے ( صدام حسین کی مثال بھی دور نہی ، اسکے انداز سزا نے اسکو بھی شہید بنا دیا ) . پاکستان کی مرکزی حکمران جماعت عوام کی اس نفسیاتی کمزوری کو با خوبی جگانا اور بعد میں اسے کمانا بھی جانتی ہے. چار سال تک عوام کو سپیرے کی بین اس آس پر کے شاید اب کچھ نکلے ، اب کچھ نکلے پر لگائے رکھنے کے بعد ، اب جب امتحان کا وقت بھی ختم ہو رہا ہے اور لکھنے کو کچھ سوجھ بھی نہی رہا تو خود کو یہ کہه کر کہ نگران نے غلط پھسا کر کمرے امتحان سے باہر کردیا ہے ورنہ سارے سوال حل کردینے تھے ، مظلوم ثابت کرنے کے پورے جتن میں ہے .. یہ جماعت جانتی ہے کیسے قبروں میں سویوں سے بنا جگائے بلوایا جا سکتا ہے اور معصوم عوام کیسے انکی آواز سن سکتی ہے قبر اور شہید کی سیاست کی ان سے زیادہ تجربہ کسی اور کو نہی ہے . پچھلی تین بار کی طرح اب کی بار بھی سیاسی شہدات کے چکر میں ہندی فلموں کے زخمی ولن کی مانند ہیرو کو مردانگی کی گالیاں دے کر مارنے پر اکسانے والے ہتکنڈے استمعال کر رہی ہے اور اب کی بار اس عظیم خواہش کو عملی جاماہ پہنانے کے لیے اعلی عدلیہ کا انتخاب کیا گیا ہے (کیسے؟ تفصیل سب کو معلوم ہے ) . (وقت سے پہلے) عدلیہ کے ہاتھوں قتل ہوکر عوام کو پھر یہی باور کروانا چاہتی ہے کہ لوگوں ، ہم مارے گئے ، ہماری حکومت کو ختم کر دی گئی ، ہم تو آپ کے لیے بہت کچھ کرنے والے ہی تھے کہ ہاتھ باندھ کر مار دیا گیا . لوگوں ، عوامی جماعت کی عوامی حکومت پھر سے شھید کر دی گئی ہے …

بہت سے تجربه کار سیاست دان اس بار پورا پورا موقع دے کر اس "عوامی جماعت” کو طبعی موت مرنا دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ بھوت کچھ عرصے بعد پھر سے کھڑا ہوکر سادہ لوح عوام کواپنے سحر میں نا جکڑ لے ، پر بہت سے نادان دوست ، حکمران جماعت کی چال کو غیرت کی للکار جان کر کبھی اول ذکر سیاستداوں کو بزدلی اور ساز باز کا تعنه اور کبھی عدلیہ کو ہوا دے رہے ہیں کہ بہت ہوا اب نکال باہر پھنکو ان کو . یہ دوست ، دانستگی نا دانستگی میں حکمرانوں کے مذموم عزائم پورے کرنے میں جتے ہیں … اب دیکھنا یہ ہے کہ کون ہوتا ہے کامیاب ، معصوم عوام کی آگے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اب کی بار پورا ہوتا ہے کے نہی یہ "شوق شہادت” !

Advertisements
 
1 تبصرہ

Posted by پر جولائی 29, 2011 in سیاسی

 

پراتوں کا شور



حیدرآباد شہر میں اسماعیلی جماعت خانے اور ہیرآباد کے درمیان ایک مخصوص کمیونٹی کا پاڑا (محلہ کہ لیجئے ) ہے . منفرد طرز رہائش ، چھوٹے چھوٹے گھر ، ہر گھر کے باہر دو تین فٹ اونچی گھر کی چوڑائی کے برابر چار دیواری. صبح، صبح گھر کی صفائی کے بعد سے شام ڈھلنے تک ، چوہلے چونکے سے لے کر مہانداری ، بچوں سے سے بزرگوں تک سب کی وقت گزاری اسی چھوٹی سے چار دیواری تک محدود ہے تا کہ گھر اندر سے صاف رہے چاہے باہر والے جتنا مرضی اضطراب میں رہیں . اب جب گھروں کے دهیلان ایک دوسرسے سے اتنے جڑے ہوں کہ ایک ہاتھ بھڑا کر دوسرے کی ہانڈی سے بوٹی اچک لے تو اس سارے ماحول میں معمولی معمولی باتوں پر دن میں دو چار بار آپسی جھڑپ ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہی . پر اس لڑائی کی سب سے خاص بات اس کا اختتام ہے . جب الفاظی جنگ سے تھک ہار جائیں ، یاں ایک دوسرے کو اوقات دکھانے کا مقصد پورا ہو جائے تو خواتین شدت سے آٹے کی پرات اور ہانڈی کی ڈوئی کو بجا کراتنا شور پیدا کرتی ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہی دیتی ، اس شور کو بند کرانے کے لیے یاں تو گھر کے مرد حضرات یاں پھر شور سے تنگ راہ گزر لڑائی بند کروا دیتے ہیں ، اور یوں بنا ہار جیت کے دونوں فریقین دوبارہ اپنے کام پر جٹ جاتے اور کافی حد تک صلح بھی ہو جاتی ہے، پر یہاں تک پہنچے کے لیے پراتوں کا شور ضروری ہے ورنہ جنگ بندی کی "ٹھوس” وجہ ہاتھ نہی لگتی .

کراچی کی ایک پارٹی کا روٹھنا ، گورنر ہاوس کا سوہنہ ہونا ، قتل در قتل ، جنازے پر جنازہ ، جان مال ، اربوں کھربوں کے نقصان کے پردے میں جس نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا ، اس "خونی ونی” میں کمشنری نظام ، پرانے اضلاح کی بحالی اور کشمیری جنت کے سیٹوں کا لین دین تو تہ تھا . پھر جنگ بندی کیسے ہوتی ؟ …ایسے میں حیدرآبادی پاڑے کی خواتین کی تلقید میں پہلے مرزا صاحب نے پراتی بیان اور پھر مخالف کے پراتی جلاؤ گھیراؤ کے شور نے وہ اسباب پیدا کر دیے کہ کوئی آکر اس ناٹکی جنگ کو بند کرائے تا کہ فریقین واپس اپنے اپنے اصل کام پر لگ جائیں ، ایک فریق کی خواہشات کی تکمیل کے بعد دوسرے کو صوبے کا عبادی گورنر اور جنت کی نشستیں مبارک! ، پاڑے کے مکینوں کے طرح اپنے گھر تو صاف رکھے پر نا معلوم کتنے پرائے آنگن خون سے رنگ گئے اور پراتی شور میں کتنے راہ گزر "عوام” جہنم میں گئی ؟. کراچی میں رہتے تو سب لوگ یہ ساتھ ساتھ ہی ہیں ، الله خیر کرے کیا معلوم پھر کب شروع ہو جائے یہ روز ، روز کی پاڑے کی لڑائی اور جس سے جان چھڑانے کے لیے پھر پیدا کرنا پڑے "پراتوں کا شور”


نوٹ : کسی کی بھی دل آزاری سے اجتناب کے لیے پاڑے کا پورا نام قصداً نہی لکھا گیا

 
3 تبصرے

Posted by پر جولائی 22, 2011 in سماجی, سیاسی

 

پناہ گزین



والٹن ، لاہور کا مضافاتی سرحدی علاقہ جس کو شاید چونسٹھ سال پہلے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے . جب لاکھوں لوگوں جو اس اطیمنان کے ساتھ کہ وہ مستقبل کے پاکستان میں بیٹھے ہیں کو فرنگی چال بازی کی وجہ سے راتوں رات گھر سے بے گھر ہونا پڑا . جہاں جان اور عصمت کی لالے پڑے تھے تو کون کیا مال اسباب سمیٹتا پس چل پڑا محفوظ پاکستان، اپنے پاکستان کی طرف تو لاہور شہر سے باہر اسی والٹن کے مقام پر ہجرت کر کر آنے والوں کو ٹہرایا گیا. بے یار و مددگار ان ہی لاکھوں خاندانوں میں سے ایک میرے ابّا و اجداد کا بھی تھا ، ابّو مرحوم جب بھی ہجرت کا واقعیہ سناتے تو نا ہی وہ اپنے پیچھے چھوڑ آنی والی حویلی کا ذکر کرتے ، نا ہی زمینوں اور رہ جانے والی جائیداد کا رونا روتے ، اس سارے کوچ میں ان کو بس ایک ہی دکھ رہا کہ جب وہ والٹن کے کیمپ میں آ کر رکے تو امداد کرنے والوں سے زیادہ "پناہ گزین” کی سرکس دیکھنے والوں کا تانتا زیادہ بندھا رہا ، اگر کسی نے امداد کی بھی تو حب الوطنی سے نہی بلکہ پناہ گزینوں پر اپنی زکات خیرات نکالی ، لاکھوں خاندان اس امید پر کہ اپنوں (مسلمانوں) میں جا کر نئی دنیا آباد کریں گے مگر قدم قدم ہتکانہ انداز میں لفظ "پناہ گزین” ایسے سننے کو پڑتا جیسے دروازے کی گھنٹی بجنے پر چوکیدار کہتا ہے "بی بی جی ، فقیر آیا ہے” . محسن کش لوگ ہم ہیں نہی اور احسان مندی گھٹی میں پلانی بھولی نہی گئی ، پر جب زبان کا زخم ان سے لگے جن پر مان ہو تو وہ اور بھی گھاتک ہو جاتا ہے. ایک لفظ سے لاکھوں خاندان اپنے ملک میں آکر بھی پناہ گزین یعنی عارضی رہاشی ہی بن کر رہ گئے …

اتنے سالوں کے بعد یہ قصّہ کہانی دوبارہ دوہرائی گئی ، سندھ کے سپوت جناب مرزا صاحب نے چند ہفتے پہلے حلیف اور اب حریف سیاسی جماعت کو جوش خطابت میں اوقات یاد کراتے کہا ، "ان بھوکے ننگے "پناہ گزینوں” کو سندھ کی دھرتی نے ہی پناہ دی…”. نشانے پر بنی اس سیاسی جماعت سے نا تو میری گاڑھی چھنتی ہے اور نا ہی کوئی ذاتی بیر. پر وزیر صاحب کے بیان پر ممکنہ پرامن ردعمل پر (کیونکہ برصغیر کے لوگ شاید اپنی بے عزتی تو کسی مصلحت سے برداشت کر لیں پر اپنے بزرگوں کی کسی بھی قیمت پر نہی، تو رد عمل تو یقینی ہے اور شروع ہو بھی گیا ہے ) میری ہمدردی اس جماعت کے ساتھ ہی ہو گی . اس گھٹ بندھن کی شاید اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہی کہ برسا برس کے قیام ، یہی پر پیدائش اور قبروں میں اترنے کے با وجود آخر ہماری پہچان اور اوقات ہے کیا ؟ آئینی طور پر میں، میرے بچے پیدائشی پاکستانی ہیں پر کیا خبر پنجاب میں بسنے کی وجہ سے کل کو کوئی پوٹھوہاری ، لاہوری ، سرائیکی اٹھه کر یہ ہی نا بولے کہ آخر تم ہو کون ہمارے ساتھ رہنے والے ؟ ہم نے تم لٹوں پهٹوں پر رحم کھایا ، تم بھوکھے ننگوں کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا ، رہنے کو جگہ دی ، اب تم قبضہ ہی کر کے بیٹھه گئے ؟ حق جماتے ہو ؟ ہماری مہربانی تھی رکھا یہاں پر اب ہماری مرضی ہے جاؤ یہاں سے . میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اب جینا مرنا تو اسی دھرتی کے ساتھ ہے تو قبر سے نکال کر کہاں جائے گا یہ “پناہ گزین” ؟

 
15 تبصرے

Posted by پر جولائی 14, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو



سولی پر لٹکتی زندگی کیسی ہوتی ہے، ان سات دن اور سات راتوں میں بخوبی اندازہ ہوگیا تھا ، ہر روز محشر اور ہر شام ، شام غریباں .. مسلسل بد خوابی سے آنکھوں میں جلن ہونے لگ گئی تھی . اگر آنکھ لگ بھی جاتی تو چند ہی لمحوں بعد ہڑبھڑا کر ایسے اٹھتا جیسے موت میرے سرہانے کھڑی ہو ، ڈرے ڈرے ٹی وی آن کرتا ، نیم کھلی آنکھوں سے ، دھڑکتے دل کے ساتھ چند چینل اوپر نیچے کرتا اور خیریت دیکھ اور سن کر پھر اگلے پہر تک سونے کی جدوجہد کرتا کہ آخر نیند تو تختے دار کو بھی نہی دیکھتی اور یوں یہ سلسلہ قیامت کی گھڑی تک جا پہنچا ، کہتے ہیں کہ قیامت کے وقت سورج سوا نیزے پر ہوگا ، پر کیسی تھی یہ قیامت کہ سورج کے اگنے کا انتظار بھی نا کیا ؟ شاید یہ قیامت تھی بھی نہی ، ایک عذاب تھا جو ہم کروڑوں فرعونوں پر اہل مصر کی مانند رات کی تاریکی میں اترنا تھا ، ایک لال خونی عذاب جو ڈھایا تو اسلام آباد کی لال مسجد پر گیا مگر برس وہ رہا ہے ابھی تک پوری قوم پر، کہ شاید ایسی اجتمائی بےحسی پر کچھ اور بعید نہی .

آج غریبان لال مسجد کے بین کو سنتے سنتے چار سال بیت گئے ، آج کے روز یہ سب لکھنے کا مقصد زخم ہرے نہی کرنا کیوں کہ وہ تو کبھی سوکھے ہی نہی، بلکے یاد کرنا اور دلائے رکھنا ہے کہ ہمارا اصل ہے کیا. اسے منافقت کہوں یاں انسانیت کی آخری رمک ، کہ مجھ جیسے نام نہاد روشن خیال جو شام غریباں سے چند روز پہلے تک حکومتی رٹ کے نا ہونے کا تانا کستے تھے ، پھبتیاں لگاتے تھے کے سب آپس میں ملے ہوئے ہیں ، وہی "روشن خیال” بعد ازاں نوحے پڑتے اور تکیوں میں منہ دِیے روتے پائے گئے . مجھے نہی معلوم کہ باقی بڑے شہروں کا کیا عالم ہوا ہو گا ، پر مردوں اور امراہ کے اسلام آباد کے نام سے جائے جانے والے شہر کے باسی کئی ہفتے ایسے رہے جیسے میت ابھی انہی کے گھر سے اٹھی ہو ، شہر میں بسے ملک کی دو فیصد اشرافیہ کے تعلق دار جن کو ہم ملک و قوم دشمن ہی سمجھتے اور ایک دوسرے طبقے کو نا محرم گردانتے ہیں ، آنکھوں سے ٹپکتے پانی سے اپنے داغ دھوتے ، ایک دوسرے کے کندھوں میں غموں کا مدوا ڈھونڈھتے نظر آئے . جڑواں شہروں کے ہر فرد کو یتتمی سے لے کر گود اجڑنے کا روگ کئی ماہ تک کھاتا رہا اور کئی سینے آج بھی ان نا آشناؤں کے لیے پھٹے جاتےہیں . ہم باہر سے جیسے بھی ہوں ، کتنا بھی لبرل ،لبرل کا راگ الاپیں، روشن خیالی کا لبادہ اوڑھ کر اپنے اصل سے چھپتے پھریں پر ایک سانحے نے قلعی کھول دی …

کیا تھے محرکات ، کون تھا قصور وار ؟ حق پر تھا کون؟ اور کون تھا شہید ؟ میں نہی جانتا ، نا ہی مجھے غرض ہے مسجد میں چھپے کسی فرد سے اور نا ہی باہر والوں کے مقصد سے ، نا ہی مجھے یاد ہے کہ کس نے ادا کیا جعفرانہ اور صادقانہ کردار… پر یاد ہیں مجھے اور مجھ جیسے "جھوٹے روشن خیالوں” کو وہ ، جنہوں نے ہم کو ہم ہی سے ملایا، اپنا پاک خون دے کر ہمارا اصل یاد دلایا ، بس یاد ہیں مجھے وہ معصوم , با عصمت، بیٹیاں جو ان دیکھی ہوکر بھی ایسی لگیں جیسی میری اپنی جائی ہوں. نقابوں سے جھانکتی انکی با حیا محسن آنکھیں جیسی کہ رہی تھیں :

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو ، کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوں کے ، دیس جانا ہے ….
ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی ، تتلیاں آواز دیتی ہیں ….

(اس سے آگے لکھنے کی مجھ میں سکت نہی کہ انہی لمحات میں صور پھونکا جا رہا تھا )

 
5 تبصرے

Posted by پر جولائی 10, 2011 in ذاتی, سماجی

 

کچھ نہی سیکھا



وہ بہت بڑا کالم نویس ہے ، الفاظ ، موضوعات کے انتخاب کی وجہ سے اپنے ہم عصروں اور ساتھیوں کو آن کی آن میں پیچھے چھوڑتا چلا گیا ، لاکھوں کے تعداد میں انٹرنیٹ پر اس کے مداح ہیں ، ہفتے میں پانچ دن ٹی وی پر نئے نئے موضوعات پر بات کرتا ہے ، اپنے مہمانوں سے راز اگلوانے کا ایسا فن آتا ہے کہ بڑے بڑے پھنے خان اسکے پروگرام میں احتیاط سے بولتے ہیں . پر ان تمام خوبیوں کے باوجود ، اپنی قابلیت اور ہنر کو بروکار لانے کی بجائے ، افسوس …. اس نے اپنے مقابل ہم روزگار کو ننگا کرنے کے چکر میں پچھلے دنوں اپنے قلم سے نام لے کر اسکی ذات ، اس کے خیالات ، اس کے مذہبی رجحانات سے لے کر کھانے ” پینے” کے ڈھب اور اس کے کتے تک گنوا دِیے.

یہ سلسلہ صرف ایک شخص تک محدود نہی رہا ، لگتا ہے میڈیا کے بہت سے نامی گرامی بُت ، اپنے مخالف سوچ اور نظریه کے حامل اپنے ہی دوستوں کو نیچا دکھانے میں اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں اور اس سعی میں ذاتی حملے ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کے گھروں تک تانکا جھانکی ہو رہی ہے . یہ پڑھے لکھے حضرات, سیاست دانوں کو گندا کرتے کرتے خود اپنی اصلیت ظاہر کر بیٹھے ہیں. لڑائی کی بظاھر کوئی ذاتی اور کاروباری رنجش نہی (مضمون کے آخر میں وجہ بیان ہے ) ، بس نظریاتی اور سیاسی عقا ئد ایک دوسرے سے میل نہی کھا رہے اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے چکر میں ایک غدار اور لا دین ہونے کے ثبوت پیش کرتا ہے تو دوسرا مخالف کو انتہا پسند اور دہشت گردوں کا یار بنا کر پیش کر رہا ہے . ہر ایک کے ہزاروں مداح ہیں ، یعنی ہزاروں ، لاکھوں لوگ انکی سوچ کو پاٹ رہے ہیں ، بہت سے مصّوم لوگ انکی ہر بات کو مذھبی سی حیثیت دے کر من وعن تسلیم کر اور وہی سوچ ، ڈھنگ ، افکار کو اپنا رہے ہیں، یہ دانشور حضرات عدم برداشت کے نئے اصول لکھ رہے ہیں ، معاشرے کو سکھا رہے ہیں کہ گفتگو کو گفتگو نہی رہنے دینا کیونکہ یہ بےغیرتی کی علامت ہوگی …

ہم میں اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو اندھی تقلید میں کوہلو کے بیل بن بیٹھے ہیں . تالوں میں بند اپنے ذھن کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم ان دانشور حضرات کے ٹھوس دلائل کو بہترین تیر بحدف نسخہ مانتے ہوۓ انکو آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں . انٹرنیٹ پر دوستوں سے بات چیت میں اب تک کا یہی حاصل رہا ہے کہ ہم گھٹیا سے گھٹیا مذاق ، باتوں باتوں میں ننگی گالیاں سب کچھ ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں، پر جیسے ہی (غیر مذہبی ) نظریاتی اور سیاسی عقائد کو ضرب لگتی ہے تو فورا ًً ہم اپنے خالی کندھوں پر بندوق تان کر للکارنا شروع کر دیتے ہیں. جنگ ایسی شروع ہوجاتی ہے کہ جو جیتا وہ غازی …ہمارے سیاست دانوں نے تو شاید کچھ نا کچھ تو ماضی سے سیکھ ہی لیا ہوگا اور ہمارے رہنما دانشوروں نے بھی کیوں کہ کل ہی خبر آئی ہے کہ وزارت اطلاعت کے خفیہ فنڈ میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے . اب ہر دانشور کا حق تو بنتا ہے کہ اس فنڈ کو غلط ہاتھوں لگنے سے بچائے اور اپنے پروگراموں اور تحریروں سے اسکا سہی سہی مصرف بتائے ، پر ہم عاشقان میڈیا نے نظریات اور سیاسی لڑائی کو ذاتی بنا دیا ہے ، ہم نے افسوس، "کچھ نہی سیکھا”!

 
10 تبصرے

Posted by پر جولائی 5, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی