RSS

Monthly Archives: اکتوبر 2011

آنسوؤں پر میراث



میرے کانوں میں پہلی بار اسکی آواز اس وقت پڑی جب میں لڑکپن سے نو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا ، بڑے بھائی نے کیسٹ میں اپنی پسند کے نغمے بھرواۓ ، پر مجھ کو تو اسکی کاغذ کی کشتی ہی اپنے سنگ لے چلی . گو کہ ابھی بچپن کے دن دور نا گزرے تھے پر کانوں سے دل تک جاتی اسکی آواز نے بچپن میں ہی بچپن کی ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو انمول کردیا .. یہ بتا دیا کہ ابھی بھی وقت ہے کرلو قدر ان کی …

جوانی میں قدم رکھا تو اکھڑ دماغ کو دنیاوی خوہشات کی اوقات یاد دلانے کے لیے غالب کی "ہزاروں خوائشیں” کی نصیحت سنا ڈالی.. اسکے بعد ایسا سلسلہ ہوا کہ سینکڑوں بار اسنے میرے دل کا بوجھح کانوں سے جاتی اپنی آواز سے میری آنکھوں سے نکال باہر کیا ، چاہے وہ بھوج تھا میرے والد کی جدائی کا ، یاں پھر میرے ان دیکھے ، بنا انسانی شکل میں آئے چند ہفتے کوکھه میں پلے بچے کی جدائی کا یاں پھر والد ثانی (سسر) سے بچھڑنے کا جو سب جانے کس دیس چلے گئے تھے ..پر اس نے میرا من بہت ہلکا کیا ….

اسنے یہ بھی بتایا کہ "ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہی چھوٹا کرتے … ” اور یہ سن کر میں روٹھے اپنوں میں واپس لوٹا ، بار ، بار لوٹا کہ جهک کر کوئی چھوٹا نہی ہوتا, خون کے رشتے پھر بھی خون کے ہی رہتے ہیں …

اجتمائی طور پر بھلے نا مانیں ہم ، کہ اسنے اردو کی کتنی خدمت کی گو کہ اسکے ناقدین کو بھی یہی کہتے پایا کہ بازیچہ اطفال تھی غزل کی یہ دنیا اسکے آگے ، پر میں احسان فراموش نہی .. آج میری مقروض آنکھیں ، اسکی جدائی کا قرض اتارنے کی سعی کر رہیں ہیں .. مجھے نہی معلوم کے میں اسکو آنجہانی کہوں یاں مرحوم ، پر وہ لوٹ گیا ہے رب کے پاس جو اسکا بھی ہے اور میرا بھی… بہت سے یار لوگ میری بات کو پسند نا کریں پر "ہوش والوں کو خبر کیا، بے خودی کیا چیز ہے ؟” دکھی دل ، مذہب ، دیوار، سرحد ، دشمنداری نہی دیکھتا .. آنسوؤں پر صرف اپنوں کا حق نہی ہوتا وہ تو صرف بہ جاتے ہیں انکے لیے جن پر انکا حق ہوتا ہے، ان میں اپنے ، بیگانے یاں مذہب کی تفریق نہی ہوتی کیونکہ نہی ہے کسی کا "آنسوؤں پر میراث”!

Advertisements
 
7 تبصرے

Posted by پر اکتوبر 10, 2011 in سماجی