RSS

Category Archives: ذاتی

سبز ہلالی پرچم میں سنگین غلطی



گاڑی کا سلینسر کافی آواز کر رہا تھا ، سوچا تو یہی تھا کہ میں صبح ، صبح ٹھیک کروا کے وقت پر گھر واپس آجاؤں گا پر آنکھ ہی دھوکھا دے گئی اور بارہ بجے جب مستری کے پاس پہنچا تو لائن کافی لمبی تھی ، خیر میں بھی قطار میں لگ گیا ! تھوڑی دیر میں پھٹ پھٹ کرتی ایک اور کار آئی جس میں تین خواتین سوار تھیں ، چھوٹا بولا : استاد لیڈیز ہیں گرمی بھی ہے انکی گاڑی پہلے لگا دوں ؟ استاد نے جس کار کو ٹھیک کر رہا تھا کے نیچے سے سر باہر نکال کر خواتین کی کار کے درمیانی شیشہ پر لٹکتی صلیب کو دیکھ کر کہا "چھڈ یار چوڑیاں (چمار) نیں ایہنا دا کہڑا روزہ ہے! کھلوتی رہین دے توپپے، واری سرے ویکھاں گے” . اور اس معاشرے میں جہاں مرد خواتین کو ابھی بھی احترام دے کر لمبی لمبی لائن چھوڑ کر جگہ دیتے ہیں اسی معاشرے میں وہ خواتین تو کڑی دھوپ میں ہی گاڑی میں بیٹھی اپنا انتظار کرتی رہیں اور میں سوچتا رہ گیا کہ احترام اور لیحاظ بھی مذہب کا محتاج نکلا!

واپسی پر گھر لوٹتے ہوئے کئی واقعیات ماضی کے بوسیدہ کفن کو پھاڑتے ہوے دماغ کو کچوکے دینے لگے. گھر کے باہر گیس میٹر پر پڑے ٹوٹے پیالے سے لے کر کلاس روم میں پڑے دو الگ الگ مٹکوں تک، ہوٹلوں میں علیحدہ بیٹھنے کی جگہ سے لے کر اپنے انکل کی دکان پر دلت ہاریوں کے الگ برتنوں تک سب نے روح کو خوب تازہ کیا اورمیں اسی نتیجے پر پہنچا کے یہ قومی مزاج تازہ اور نیا نہی بلکے بیس پچیس سال سے اس کی گواہ تو یہ گناہگار آنکھیں بھی ہیں . ابھی میں اس تازگی سے باہر نکلا بھی نہی تھا کے اشارے پر رکی گاڑی کا شیشہ کھٹکھاتے بچے نے کہا ، صاحب جھنڈا خرید لو ، کل جھنڈے والا دن ہے… پرچم کیا لینا ، میرا دل اور دماغ اسکی ساخت پر اٹک گیا؟

بہت احترم کے ساتھ ، مگر یقیناً با نیانان پاکستان سے سبز ہلالی "قومی پرچم” کے تشکیل میں ایک بڑی غلطی سرزرد ہوئی ہے ، ١١ اگست 1947 کو پاکستانی دستور ساز اسمبلی میں امیر قدوائی کے تیار کردہ پرچم کو جب لہرایا گیا ہوگا تو اس میں ہلال ابھرتی ریاست اور ستارہ ترقی کی سہی رہنمائی اور ترجمانی کر رہا ہوگا ، پر اس کے ابتدائی حصّے کو سفید کر کے اقلیتی نمائندگی میں ان رہنماؤں سے نا صرف اپنی قوم کو سمجنے میں غلطی ہو گئی بلکہ وہ اپنی دور اندیشی کو بھی غلط ثابت کر بیٹھے ، بھائی اگر اقلیت کی نمائندگی ظاہر کرنی ہی تھی تو پرچم کے نچلے حصّے پر کر دیتے جو حقیقت کی سہی ترجمانی کرتی، کیا ضرروت تھی کہ آپ اپنے قومی پرچم میں ان کو نا صرف اپنے ساتھ جگہ دی اور تو اور اسکی ابتدا اور قائم رہنے کی بنیاد بھی اقلیتی حصّے کے سپرد کردی. کہتے ہیں نا ، دیر آید درست آید ، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم زمینی حقائق کو سمجھتے ہوۓ اور اپنی اکثریتی عوام کے جذبات کی سہی عکاسی کرتے ہوۓ ، تجدید پاکستان کے دن درست کردیں "سبز ہلالی پرچم میں سنگین غلطی”.

Advertisements
 
6 تبصرے

Posted by پر اگست 14, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

پناہ گزین



والٹن ، لاہور کا مضافاتی سرحدی علاقہ جس کو شاید چونسٹھ سال پہلے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے . جب لاکھوں لوگوں جو اس اطیمنان کے ساتھ کہ وہ مستقبل کے پاکستان میں بیٹھے ہیں کو فرنگی چال بازی کی وجہ سے راتوں رات گھر سے بے گھر ہونا پڑا . جہاں جان اور عصمت کی لالے پڑے تھے تو کون کیا مال اسباب سمیٹتا پس چل پڑا محفوظ پاکستان، اپنے پاکستان کی طرف تو لاہور شہر سے باہر اسی والٹن کے مقام پر ہجرت کر کر آنے والوں کو ٹہرایا گیا. بے یار و مددگار ان ہی لاکھوں خاندانوں میں سے ایک میرے ابّا و اجداد کا بھی تھا ، ابّو مرحوم جب بھی ہجرت کا واقعیہ سناتے تو نا ہی وہ اپنے پیچھے چھوڑ آنی والی حویلی کا ذکر کرتے ، نا ہی زمینوں اور رہ جانے والی جائیداد کا رونا روتے ، اس سارے کوچ میں ان کو بس ایک ہی دکھ رہا کہ جب وہ والٹن کے کیمپ میں آ کر رکے تو امداد کرنے والوں سے زیادہ "پناہ گزین” کی سرکس دیکھنے والوں کا تانتا زیادہ بندھا رہا ، اگر کسی نے امداد کی بھی تو حب الوطنی سے نہی بلکہ پناہ گزینوں پر اپنی زکات خیرات نکالی ، لاکھوں خاندان اس امید پر کہ اپنوں (مسلمانوں) میں جا کر نئی دنیا آباد کریں گے مگر قدم قدم ہتکانہ انداز میں لفظ "پناہ گزین” ایسے سننے کو پڑتا جیسے دروازے کی گھنٹی بجنے پر چوکیدار کہتا ہے "بی بی جی ، فقیر آیا ہے” . محسن کش لوگ ہم ہیں نہی اور احسان مندی گھٹی میں پلانی بھولی نہی گئی ، پر جب زبان کا زخم ان سے لگے جن پر مان ہو تو وہ اور بھی گھاتک ہو جاتا ہے. ایک لفظ سے لاکھوں خاندان اپنے ملک میں آکر بھی پناہ گزین یعنی عارضی رہاشی ہی بن کر رہ گئے …

اتنے سالوں کے بعد یہ قصّہ کہانی دوبارہ دوہرائی گئی ، سندھ کے سپوت جناب مرزا صاحب نے چند ہفتے پہلے حلیف اور اب حریف سیاسی جماعت کو جوش خطابت میں اوقات یاد کراتے کہا ، "ان بھوکے ننگے "پناہ گزینوں” کو سندھ کی دھرتی نے ہی پناہ دی…”. نشانے پر بنی اس سیاسی جماعت سے نا تو میری گاڑھی چھنتی ہے اور نا ہی کوئی ذاتی بیر. پر وزیر صاحب کے بیان پر ممکنہ پرامن ردعمل پر (کیونکہ برصغیر کے لوگ شاید اپنی بے عزتی تو کسی مصلحت سے برداشت کر لیں پر اپنے بزرگوں کی کسی بھی قیمت پر نہی، تو رد عمل تو یقینی ہے اور شروع ہو بھی گیا ہے ) میری ہمدردی اس جماعت کے ساتھ ہی ہو گی . اس گھٹ بندھن کی شاید اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہی کہ برسا برس کے قیام ، یہی پر پیدائش اور قبروں میں اترنے کے با وجود آخر ہماری پہچان اور اوقات ہے کیا ؟ آئینی طور پر میں، میرے بچے پیدائشی پاکستانی ہیں پر کیا خبر پنجاب میں بسنے کی وجہ سے کل کو کوئی پوٹھوہاری ، لاہوری ، سرائیکی اٹھه کر یہ ہی نا بولے کہ آخر تم ہو کون ہمارے ساتھ رہنے والے ؟ ہم نے تم لٹوں پهٹوں پر رحم کھایا ، تم بھوکھے ننگوں کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا ، رہنے کو جگہ دی ، اب تم قبضہ ہی کر کے بیٹھه گئے ؟ حق جماتے ہو ؟ ہماری مہربانی تھی رکھا یہاں پر اب ہماری مرضی ہے جاؤ یہاں سے . میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اب جینا مرنا تو اسی دھرتی کے ساتھ ہے تو قبر سے نکال کر کہاں جائے گا یہ “پناہ گزین” ؟

 
15 تبصرے

Posted by پر جولائی 14, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو



سولی پر لٹکتی زندگی کیسی ہوتی ہے، ان سات دن اور سات راتوں میں بخوبی اندازہ ہوگیا تھا ، ہر روز محشر اور ہر شام ، شام غریباں .. مسلسل بد خوابی سے آنکھوں میں جلن ہونے لگ گئی تھی . اگر آنکھ لگ بھی جاتی تو چند ہی لمحوں بعد ہڑبھڑا کر ایسے اٹھتا جیسے موت میرے سرہانے کھڑی ہو ، ڈرے ڈرے ٹی وی آن کرتا ، نیم کھلی آنکھوں سے ، دھڑکتے دل کے ساتھ چند چینل اوپر نیچے کرتا اور خیریت دیکھ اور سن کر پھر اگلے پہر تک سونے کی جدوجہد کرتا کہ آخر نیند تو تختے دار کو بھی نہی دیکھتی اور یوں یہ سلسلہ قیامت کی گھڑی تک جا پہنچا ، کہتے ہیں کہ قیامت کے وقت سورج سوا نیزے پر ہوگا ، پر کیسی تھی یہ قیامت کہ سورج کے اگنے کا انتظار بھی نا کیا ؟ شاید یہ قیامت تھی بھی نہی ، ایک عذاب تھا جو ہم کروڑوں فرعونوں پر اہل مصر کی مانند رات کی تاریکی میں اترنا تھا ، ایک لال خونی عذاب جو ڈھایا تو اسلام آباد کی لال مسجد پر گیا مگر برس وہ رہا ہے ابھی تک پوری قوم پر، کہ شاید ایسی اجتمائی بےحسی پر کچھ اور بعید نہی .

آج غریبان لال مسجد کے بین کو سنتے سنتے چار سال بیت گئے ، آج کے روز یہ سب لکھنے کا مقصد زخم ہرے نہی کرنا کیوں کہ وہ تو کبھی سوکھے ہی نہی، بلکے یاد کرنا اور دلائے رکھنا ہے کہ ہمارا اصل ہے کیا. اسے منافقت کہوں یاں انسانیت کی آخری رمک ، کہ مجھ جیسے نام نہاد روشن خیال جو شام غریباں سے چند روز پہلے تک حکومتی رٹ کے نا ہونے کا تانا کستے تھے ، پھبتیاں لگاتے تھے کے سب آپس میں ملے ہوئے ہیں ، وہی "روشن خیال” بعد ازاں نوحے پڑتے اور تکیوں میں منہ دِیے روتے پائے گئے . مجھے نہی معلوم کہ باقی بڑے شہروں کا کیا عالم ہوا ہو گا ، پر مردوں اور امراہ کے اسلام آباد کے نام سے جائے جانے والے شہر کے باسی کئی ہفتے ایسے رہے جیسے میت ابھی انہی کے گھر سے اٹھی ہو ، شہر میں بسے ملک کی دو فیصد اشرافیہ کے تعلق دار جن کو ہم ملک و قوم دشمن ہی سمجھتے اور ایک دوسرے طبقے کو نا محرم گردانتے ہیں ، آنکھوں سے ٹپکتے پانی سے اپنے داغ دھوتے ، ایک دوسرے کے کندھوں میں غموں کا مدوا ڈھونڈھتے نظر آئے . جڑواں شہروں کے ہر فرد کو یتتمی سے لے کر گود اجڑنے کا روگ کئی ماہ تک کھاتا رہا اور کئی سینے آج بھی ان نا آشناؤں کے لیے پھٹے جاتےہیں . ہم باہر سے جیسے بھی ہوں ، کتنا بھی لبرل ،لبرل کا راگ الاپیں، روشن خیالی کا لبادہ اوڑھ کر اپنے اصل سے چھپتے پھریں پر ایک سانحے نے قلعی کھول دی …

کیا تھے محرکات ، کون تھا قصور وار ؟ حق پر تھا کون؟ اور کون تھا شہید ؟ میں نہی جانتا ، نا ہی مجھے غرض ہے مسجد میں چھپے کسی فرد سے اور نا ہی باہر والوں کے مقصد سے ، نا ہی مجھے یاد ہے کہ کس نے ادا کیا جعفرانہ اور صادقانہ کردار… پر یاد ہیں مجھے اور مجھ جیسے "جھوٹے روشن خیالوں” کو وہ ، جنہوں نے ہم کو ہم ہی سے ملایا، اپنا پاک خون دے کر ہمارا اصل یاد دلایا ، بس یاد ہیں مجھے وہ معصوم , با عصمت، بیٹیاں جو ان دیکھی ہوکر بھی ایسی لگیں جیسی میری اپنی جائی ہوں. نقابوں سے جھانکتی انکی با حیا محسن آنکھیں جیسی کہ رہی تھیں :

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو ، کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوں کے ، دیس جانا ہے ….
ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی ، تتلیاں آواز دیتی ہیں ….

(اس سے آگے لکھنے کی مجھ میں سکت نہی کہ انہی لمحات میں صور پھونکا جا رہا تھا )

 
5 تبصرے

Posted by پر جولائی 10, 2011 in ذاتی, سماجی

 

کچھ نہی سیکھا



وہ بہت بڑا کالم نویس ہے ، الفاظ ، موضوعات کے انتخاب کی وجہ سے اپنے ہم عصروں اور ساتھیوں کو آن کی آن میں پیچھے چھوڑتا چلا گیا ، لاکھوں کے تعداد میں انٹرنیٹ پر اس کے مداح ہیں ، ہفتے میں پانچ دن ٹی وی پر نئے نئے موضوعات پر بات کرتا ہے ، اپنے مہمانوں سے راز اگلوانے کا ایسا فن آتا ہے کہ بڑے بڑے پھنے خان اسکے پروگرام میں احتیاط سے بولتے ہیں . پر ان تمام خوبیوں کے باوجود ، اپنی قابلیت اور ہنر کو بروکار لانے کی بجائے ، افسوس …. اس نے اپنے مقابل ہم روزگار کو ننگا کرنے کے چکر میں پچھلے دنوں اپنے قلم سے نام لے کر اسکی ذات ، اس کے خیالات ، اس کے مذہبی رجحانات سے لے کر کھانے ” پینے” کے ڈھب اور اس کے کتے تک گنوا دِیے.

یہ سلسلہ صرف ایک شخص تک محدود نہی رہا ، لگتا ہے میڈیا کے بہت سے نامی گرامی بُت ، اپنے مخالف سوچ اور نظریه کے حامل اپنے ہی دوستوں کو نیچا دکھانے میں اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں اور اس سعی میں ذاتی حملے ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کے گھروں تک تانکا جھانکی ہو رہی ہے . یہ پڑھے لکھے حضرات, سیاست دانوں کو گندا کرتے کرتے خود اپنی اصلیت ظاہر کر بیٹھے ہیں. لڑائی کی بظاھر کوئی ذاتی اور کاروباری رنجش نہی (مضمون کے آخر میں وجہ بیان ہے ) ، بس نظریاتی اور سیاسی عقا ئد ایک دوسرے سے میل نہی کھا رہے اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے چکر میں ایک غدار اور لا دین ہونے کے ثبوت پیش کرتا ہے تو دوسرا مخالف کو انتہا پسند اور دہشت گردوں کا یار بنا کر پیش کر رہا ہے . ہر ایک کے ہزاروں مداح ہیں ، یعنی ہزاروں ، لاکھوں لوگ انکی سوچ کو پاٹ رہے ہیں ، بہت سے مصّوم لوگ انکی ہر بات کو مذھبی سی حیثیت دے کر من وعن تسلیم کر اور وہی سوچ ، ڈھنگ ، افکار کو اپنا رہے ہیں، یہ دانشور حضرات عدم برداشت کے نئے اصول لکھ رہے ہیں ، معاشرے کو سکھا رہے ہیں کہ گفتگو کو گفتگو نہی رہنے دینا کیونکہ یہ بےغیرتی کی علامت ہوگی …

ہم میں اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو اندھی تقلید میں کوہلو کے بیل بن بیٹھے ہیں . تالوں میں بند اپنے ذھن کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم ان دانشور حضرات کے ٹھوس دلائل کو بہترین تیر بحدف نسخہ مانتے ہوۓ انکو آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں . انٹرنیٹ پر دوستوں سے بات چیت میں اب تک کا یہی حاصل رہا ہے کہ ہم گھٹیا سے گھٹیا مذاق ، باتوں باتوں میں ننگی گالیاں سب کچھ ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں، پر جیسے ہی (غیر مذہبی ) نظریاتی اور سیاسی عقائد کو ضرب لگتی ہے تو فورا ًً ہم اپنے خالی کندھوں پر بندوق تان کر للکارنا شروع کر دیتے ہیں. جنگ ایسی شروع ہوجاتی ہے کہ جو جیتا وہ غازی …ہمارے سیاست دانوں نے تو شاید کچھ نا کچھ تو ماضی سے سیکھ ہی لیا ہوگا اور ہمارے رہنما دانشوروں نے بھی کیوں کہ کل ہی خبر آئی ہے کہ وزارت اطلاعت کے خفیہ فنڈ میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے . اب ہر دانشور کا حق تو بنتا ہے کہ اس فنڈ کو غلط ہاتھوں لگنے سے بچائے اور اپنے پروگراموں اور تحریروں سے اسکا سہی سہی مصرف بتائے ، پر ہم عاشقان میڈیا نے نظریات اور سیاسی لڑائی کو ذاتی بنا دیا ہے ، ہم نے افسوس، "کچھ نہی سیکھا”!

 
10 تبصرے

Posted by پر جولائی 5, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

ابو، آپ کہاں ہیں ؟



کہتے ہیں ماں دنیا کی سب سے عظیم ہستی ہوتی ہے … پر شاید نہی… ہر انسان کے لیے ہستی وہی عظیم ہوتی ہے جو اس کے پاس رہتی نہی .. روٹھ جاتی ہے ، دور چلی جاتی ہے اس سے منہ موڑ لیتی ہے … اسکے چلے جانے کہ بعد یاں زمانے کا چکر گھوم کر وہی حالات اس طرح اسکے سامنے لے آتا ہے کہ ہستی کی عظمت کا اندازہ اسے ہو جاتا ہے وہ اس ہستی کہ لیے تڑپتا ہے ، بلکته ہے ، دنیا کی ہر شہ قربان کرنے کو تیار ہوجاتا ہے کہ بس ایک بار، بس ایک بار ، کسی بھی طرح اسکا دیدار ہو جائے ، اسکو وہ سب کہ دے جو وہ اسکی زندگی میں نا کہ سکا اور اسکو بتائے کہ وہ سب کام جن سے وہ چڑ کھاتا تھا ،جن کی وجہ سے اس ہستی سے ناراض ہوتا تھا ، جن کاموں کو بےمعنی اور فضول سمجھتا اچانک وہ سب اس کے لیے اہم ہوگئے ہیں, اراداتاً یاں غیر اراداتاً اس نے بھی انہی سب کو اپنا لیا ہے جن کو وہ چند برس پہلے تک بے تکہ جانتا تھا .

زندگی کے سفر پر چلتے چلتے آج ایسا بند موڑ آگیا جس کے آگے آئینے کہ سوا کچھ نا تھا .. ایسا آئینہ جو حال نہی ماضی دیکھا رہا تھا بس کردار کچھ بدل گئے تھے . صبح میرے بڑے بیٹے کا پہلا تحریری اور باقاعدہ تعلیمی امتحان ہے . اس بند موڑ پر رکھا آئینہ مجھے وہ سب کچھ کرتا دکھا رہا جو میرے ابو امتحان کی رات کرتے تھے ….بس چہرے بدل گئے ..ابو کی وہ تمام باتیں جو میری نادانی یاں کم عقلی کے سبب مجھے ناگوار لگتی تھیں آج میں وہی کر رہا ہوں یاں اگلے چند گھنٹوں میں کروں گا… امتحان میرا ہوتا تھا ، اور بھوک اور نیند ابو کی اڑی ہوتی تھی .. کئی دن پہلے ہی نصف درجن مختلف روشنائیوں کے فونٹین پین لے کر انکو رواں کرنا تاکہ پرچے پر لکتھے ہوئے کوئی دقت نا ہو اور لاڈلے کا ایک ایک منٹ بچا رہے … امتحان کی رات پیپر کی مناسبت سے میز پر پنسل ، شارپنر، ربڑ کے جوڑوں سے لے کر، رول نمبر سلپ کی اصل اور فوٹو کاپی سجا کر ہر چند گھنٹوں بعد یہ بات یقینی بنانا کہ ضرورت کی کوئی چیز کم یاں غایب تو نہی. عشا تا فجر نوافل کا ایسا سلسلہ شروع کر دینا جس میں رب کہ حضور گڑگڑا کر دعا مانگتے رہنا اور میں چڑ کر یہ سوچتا تھا کہ میں کونسا محاذ پر لڑنے جا رہا ہوں ، اک پیپر ہی تو ہے …پر آج میرے بیٹے نے احساس دلا دیا کہ وہ صرف اک پیپر ہی نہی تھا ، ایک باپ کا پیار ، اسکی وسعی نظری ، انکی وہی کاوش جو انہو نے انگلی پکڑ کر مجھے زینہ چڑهنا سکهایا … ان کے لیے میرا ہر امتحان میری اگلی منزل کا زینہ تھا اور وہ اولذکر ہر انداز سے میری انگلی تھامے ہوے تھے کہ میں زینے سے گر نا جاؤں… انکی ہر کاوش میں سکون تھا جس سے میری روح آج پہلی دفعه آشنا ہوئی ہے .. امتحانی مرکز کہ باہر گھنٹوں کڑی دھوپ میں تھرموس میں شربت ڈالے کھڑے رہنا کہ باہر آتے لختے جگر کو پیاس بہت لگی ہو گی . اور خود خشک ہونٹوں سے صرف اور صرف ایک ہی سوال کرنا "بیٹا ، سارے سوال یاد کیے میں سے آئے ؟” اور میری سر کی مثبت جنبش انکے چہرے پر ایسا سکون لاتی جیسے جنت کی کنجی ہاتھ لگ گئی …شاید کل جب میرا بیٹا سکول کے دروازے سے باہر نکلے تو پہلا سوال یہی ہوگا "بیٹا ، سارے سوال یاد کیے میں سے آئے ؟”..

آج اس وقت یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد اپنے تجربے کو لکھنا نہی ، نا ہی میں کوئی نئی بات دریافت کر بیٹھا ہوں، .کہتے ہیں نا غلطی کہ احساس پر معافی اور پیار جتلانے میں دیر نہی کرنی چائیے کہ شاید پھر موقعه ملے نا ملے .. اور میں تو پہلے ہی برسوں کے تاخیر کر بیٹھا ہوں .. اس وقت میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ بس ایک دفعه ، صرف ایک دفعه میں ابو سے بات کر کے کہ سکوں کہ آپ ٹھیک تھے اور میں غلط ،ابو میں آپ سے معافی کا طلب گار ہوں کہ انجانے میں ، میں آپ کو سمجھ نا سکا ،ابو میں آپ کے پیار کو محسوس نا کر پایا ، ابو مجھے معاف کر دیں ، میں کھلے بندوں اس لیے کہ رہا ہوں کہ میری خطا بھی بڑی ہے اور شاید سر عام میری رسوائی اسکا کفارہ ہو ، ابو ،میں زندگی بھر جھوٹے بھرم اور شرم میں رہا اور کہ نا پایا، پر آج کہ رہا ہوں "ابو مجھے آپ سے بہت پیار ہے ، میں آپ کو بہت مس کرتا ہوں ، ابو آئی لو یو…” مجھے یقین کہ میرے جذبات آپ تک کسی نا کسی انداز سے پہنچ گئے ہو گئے .. پر ابو اس کسک کا کیا کروں جو آپ کے لمس سے ہی دور ہو سکتی ہے ، ابو میں بس ایک دفعہ ، چند لمحوں کے ہی لیے آپ سے گلے لگ کر رونا چاہتا .. ابو صرف ایک دفعہ میں آپ کے گال کا بوسہ لینا چاہتا ہوں جن کو میں ہوش سمنبھال کر بھول ہی گیا تھا .. ابو، میں آپ کے قدموں میں لپٹنا چاہتا ہوں کیوں کہ میری اصل جگہ ہی وہاں ہے …بس ایک بار ، بس . میں خود حاضر ہو جاتا ہوں آپ اتنا بتا دیں ابو، آپ کہاں ہیں ؟ بتا دیں نا ، آپ کہاں ہیں؟

 
16 تبصرے

Posted by پر مئی 24, 2011 in ذاتی