RSS

Author Archives: ابّو موسیٰ

الله میاں پر احسان



زور سے ٹھا کی آواز آئی ، دونوں اپنی اپنی گاڑیوں سے باہر نکلے ، لمحے بھر کو اپنی زخمی سواری کو دیکھا اور ایک دوسرے کے طرف ایسے لپکے جیسے پیچھے سے آواز آئی ہو "یلغار ہو” !

تمھیں دکھائی نہی دیتا؟ پہلا بولا .

چل چل ، نظر تو تم کو چیک کروانی چاہیے ، غلط اور ٹیک تم نے کیا ہے .اپنی حرام کی کمائی کا خیال نہی تو دوسرے کی حلال کا تو خیال کرلو! دوسرے نے جواب دیا .

کیا بولا حرام کی کمائی ؟ ابے روزے سے نا ہوتا تو ابھی بتا دیتا کمائی تو چھوڑ کون حلال اور حرام سے تعلق رکھتا ہے ؟

گالی دیتا ہے ؟ روزہ نا ہوتا تو یہنی تیری بوٹی بوٹی کر ڈالتا.

پھر کیا تھا ، دونوں کے ہاتھ اک دوسرے کے گریبان چاک کرنے کی مشق میں لگ گئے. یہ منظر آپ کو پاکستان کی ہر چھوٹی بڑی شاہراہ پر اکثر دیکھنا کو ملتا ہے پر رمضان میں اور خصوصً افطار سے تھوڑا پہلے اس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ایسے ہوتا ہے جیسے گوشت کا ٹکڑا دیکھا کر پل بھر میں چیلوں کی تعداد میں … ہر شخص ایسے جلدی میں ہوتا ہے کہ اگر وہ وقت پر گھر نا پہنچا تو روزے کا کفارہ ادا کرنا پڑ جائے گا . اور ایسی باہمی پیار محبت میں ایک جملہ کی تکرار ہوتی ہے کہ "میں روزے سے نا ہوتا تو…!”

دفاتر میں اوقات کار کی پابندی آگے پیچھے ہو نا ہو ، آپ ذرا رمضان میں آخر لمحوں کسی نا گہانی کام سے دفتر (خاص کر بینک) داخل ہوں تو جواب ملے گا "ٹائم ختم جناب ، رمضان ہیں دفتر جلدی بند ہو جاتا ہے !” اب کون پوچھے بھائی صاحب چار بجے کونسی مغرب ہونی ہے ؟ اگر کسی کو انتہائی مجبوری آن پڑی ہے تو چند منٹ کی تاخیر سے کوئی فتویٰ نہی لگے گا ! پر کیا کریں رمضان کا مہینہ جو ہے.

گراں فروشی پر بہت لکھا ، پڑھا ، بلکہ بگھتا بھی جا رہا ہے .. دوکاندار رمضان کے مہینہ کی ایسے تیاری کرتا ہے جیسے قصائی بقر عید کی رات کرتا ہے. اب اس پر لکھنا ایسے ہی ہے جیسے ہر قاری کو الف بے پڑھانا .

اپنی غرض کے ہر کام میں جوش و ولولے کی بنیاد ماہ رمضان ہی ہے. جلدی ہو تو روزہ ، دیر سے دفتر آنے کی وجہ روزہ ، کام سے جان چھڑانا ہو تو روزہ ، اور کسی کو مزہ نا چکھانے کی وجہ روزہ. نیتوں کا حال الله بہتر جانتا ہے پر حرکات سے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ روزہ رکھ کر ہم نے الله میاں پر احسان کیا ہے! ( نعوز باللہ) خالق کائنات کا محسن وہی ہے کہ اسکے دیا ہوۓ حکم کی سہی سہی بجا آواری اسی نے کی ورنہ اس دنیا میں اور کون تھا ؟ . سب سے افضل وہ اکیلا شخص ہی ہے . اسنے 11 مہینے بندگی ، عطاعت میں گزار دِیے اب بارواں مہینہ آیا ہے لین دین برابر کرنے کا ، کھل کے کرلو حساب چگتا ، کہ یہ ہے مہینہ "الله میاں پر احسان” کا !


امید ہے اس تحریر پر کوئی فتویٰ نہی لگے گا.

 
4 تبصرے

Posted by پر اگست 4, 2011 in سماجی

 

شوق شہادت



رحمان ڈکیت ، لیاری کراچی کا رابن ہڈ مشہور اور بدنام زمانہ مجرم ، جس کے ہاتھ اپنی سگی ماں سے لے کر ان گنت نا معلوم خونوں سے رنگے ہوۓ . ڈکیتی سے لے کر اغوا براے تاوان . رسہ گیری سے لے کر بھتا گیری تک ہر جرم میں ملوث . پر جب وہ ( جس طرح سے ) مارا گیا تو لیاری کے عوام کے لیے بہادر ہیرو بن گیا . لوگ اسکے جرائم کی لمبی فہرست کے باوجود اسے مظلوم بنائے بیٹھے ہیں. لوگوں کا اسکے لیے نرم گوشہ اسکی غریب پروری ہو یاں نا ہو پر اسکا انداز قتل اسکو شہید بنا گیا.

برصغیر کے لوگوں کی یہی نسفیات ہے کے بندہ چاہے جتنا بھی بڑا ظالم ، جابر ، مجرم ہی کیوں نا ہو اسکی مظلومیت اسکے باقی گناہوں پر چشم پوشی کروا دیتی ہے ( صدام حسین کی مثال بھی دور نہی ، اسکے انداز سزا نے اسکو بھی شہید بنا دیا ) . پاکستان کی مرکزی حکمران جماعت عوام کی اس نفسیاتی کمزوری کو با خوبی جگانا اور بعد میں اسے کمانا بھی جانتی ہے. چار سال تک عوام کو سپیرے کی بین اس آس پر کے شاید اب کچھ نکلے ، اب کچھ نکلے پر لگائے رکھنے کے بعد ، اب جب امتحان کا وقت بھی ختم ہو رہا ہے اور لکھنے کو کچھ سوجھ بھی نہی رہا تو خود کو یہ کہه کر کہ نگران نے غلط پھسا کر کمرے امتحان سے باہر کردیا ہے ورنہ سارے سوال حل کردینے تھے ، مظلوم ثابت کرنے کے پورے جتن میں ہے .. یہ جماعت جانتی ہے کیسے قبروں میں سویوں سے بنا جگائے بلوایا جا سکتا ہے اور معصوم عوام کیسے انکی آواز سن سکتی ہے قبر اور شہید کی سیاست کی ان سے زیادہ تجربہ کسی اور کو نہی ہے . پچھلی تین بار کی طرح اب کی بار بھی سیاسی شہدات کے چکر میں ہندی فلموں کے زخمی ولن کی مانند ہیرو کو مردانگی کی گالیاں دے کر مارنے پر اکسانے والے ہتکنڈے استمعال کر رہی ہے اور اب کی بار اس عظیم خواہش کو عملی جاماہ پہنانے کے لیے اعلی عدلیہ کا انتخاب کیا گیا ہے (کیسے؟ تفصیل سب کو معلوم ہے ) . (وقت سے پہلے) عدلیہ کے ہاتھوں قتل ہوکر عوام کو پھر یہی باور کروانا چاہتی ہے کہ لوگوں ، ہم مارے گئے ، ہماری حکومت کو ختم کر دی گئی ، ہم تو آپ کے لیے بہت کچھ کرنے والے ہی تھے کہ ہاتھ باندھ کر مار دیا گیا . لوگوں ، عوامی جماعت کی عوامی حکومت پھر سے شھید کر دی گئی ہے …

بہت سے تجربه کار سیاست دان اس بار پورا پورا موقع دے کر اس "عوامی جماعت” کو طبعی موت مرنا دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ بھوت کچھ عرصے بعد پھر سے کھڑا ہوکر سادہ لوح عوام کواپنے سحر میں نا جکڑ لے ، پر بہت سے نادان دوست ، حکمران جماعت کی چال کو غیرت کی للکار جان کر کبھی اول ذکر سیاستداوں کو بزدلی اور ساز باز کا تعنه اور کبھی عدلیہ کو ہوا دے رہے ہیں کہ بہت ہوا اب نکال باہر پھنکو ان کو . یہ دوست ، دانستگی نا دانستگی میں حکمرانوں کے مذموم عزائم پورے کرنے میں جتے ہیں … اب دیکھنا یہ ہے کہ کون ہوتا ہے کامیاب ، معصوم عوام کی آگے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اب کی بار پورا ہوتا ہے کے نہی یہ "شوق شہادت” !

 
1 تبصرہ

Posted by پر جولائی 29, 2011 in سیاسی

 

پراتوں کا شور



حیدرآباد شہر میں اسماعیلی جماعت خانے اور ہیرآباد کے درمیان ایک مخصوص کمیونٹی کا پاڑا (محلہ کہ لیجئے ) ہے . منفرد طرز رہائش ، چھوٹے چھوٹے گھر ، ہر گھر کے باہر دو تین فٹ اونچی گھر کی چوڑائی کے برابر چار دیواری. صبح، صبح گھر کی صفائی کے بعد سے شام ڈھلنے تک ، چوہلے چونکے سے لے کر مہانداری ، بچوں سے سے بزرگوں تک سب کی وقت گزاری اسی چھوٹی سے چار دیواری تک محدود ہے تا کہ گھر اندر سے صاف رہے چاہے باہر والے جتنا مرضی اضطراب میں رہیں . اب جب گھروں کے دهیلان ایک دوسرسے سے اتنے جڑے ہوں کہ ایک ہاتھ بھڑا کر دوسرے کی ہانڈی سے بوٹی اچک لے تو اس سارے ماحول میں معمولی معمولی باتوں پر دن میں دو چار بار آپسی جھڑپ ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہی . پر اس لڑائی کی سب سے خاص بات اس کا اختتام ہے . جب الفاظی جنگ سے تھک ہار جائیں ، یاں ایک دوسرے کو اوقات دکھانے کا مقصد پورا ہو جائے تو خواتین شدت سے آٹے کی پرات اور ہانڈی کی ڈوئی کو بجا کراتنا شور پیدا کرتی ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہی دیتی ، اس شور کو بند کرانے کے لیے یاں تو گھر کے مرد حضرات یاں پھر شور سے تنگ راہ گزر لڑائی بند کروا دیتے ہیں ، اور یوں بنا ہار جیت کے دونوں فریقین دوبارہ اپنے کام پر جٹ جاتے اور کافی حد تک صلح بھی ہو جاتی ہے، پر یہاں تک پہنچے کے لیے پراتوں کا شور ضروری ہے ورنہ جنگ بندی کی "ٹھوس” وجہ ہاتھ نہی لگتی .

کراچی کی ایک پارٹی کا روٹھنا ، گورنر ہاوس کا سوہنہ ہونا ، قتل در قتل ، جنازے پر جنازہ ، جان مال ، اربوں کھربوں کے نقصان کے پردے میں جس نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا ، اس "خونی ونی” میں کمشنری نظام ، پرانے اضلاح کی بحالی اور کشمیری جنت کے سیٹوں کا لین دین تو تہ تھا . پھر جنگ بندی کیسے ہوتی ؟ …ایسے میں حیدرآبادی پاڑے کی خواتین کی تلقید میں پہلے مرزا صاحب نے پراتی بیان اور پھر مخالف کے پراتی جلاؤ گھیراؤ کے شور نے وہ اسباب پیدا کر دیے کہ کوئی آکر اس ناٹکی جنگ کو بند کرائے تا کہ فریقین واپس اپنے اپنے اصل کام پر لگ جائیں ، ایک فریق کی خواہشات کی تکمیل کے بعد دوسرے کو صوبے کا عبادی گورنر اور جنت کی نشستیں مبارک! ، پاڑے کے مکینوں کے طرح اپنے گھر تو صاف رکھے پر نا معلوم کتنے پرائے آنگن خون سے رنگ گئے اور پراتی شور میں کتنے راہ گزر "عوام” جہنم میں گئی ؟. کراچی میں رہتے تو سب لوگ یہ ساتھ ساتھ ہی ہیں ، الله خیر کرے کیا معلوم پھر کب شروع ہو جائے یہ روز ، روز کی پاڑے کی لڑائی اور جس سے جان چھڑانے کے لیے پھر پیدا کرنا پڑے "پراتوں کا شور”


نوٹ : کسی کی بھی دل آزاری سے اجتناب کے لیے پاڑے کا پورا نام قصداً نہی لکھا گیا

 
3 تبصرے

Posted by پر جولائی 22, 2011 in سماجی, سیاسی

 

پناہ گزین



والٹن ، لاہور کا مضافاتی سرحدی علاقہ جس کو شاید چونسٹھ سال پہلے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے . جب لاکھوں لوگوں جو اس اطیمنان کے ساتھ کہ وہ مستقبل کے پاکستان میں بیٹھے ہیں کو فرنگی چال بازی کی وجہ سے راتوں رات گھر سے بے گھر ہونا پڑا . جہاں جان اور عصمت کی لالے پڑے تھے تو کون کیا مال اسباب سمیٹتا پس چل پڑا محفوظ پاکستان، اپنے پاکستان کی طرف تو لاہور شہر سے باہر اسی والٹن کے مقام پر ہجرت کر کر آنے والوں کو ٹہرایا گیا. بے یار و مددگار ان ہی لاکھوں خاندانوں میں سے ایک میرے ابّا و اجداد کا بھی تھا ، ابّو مرحوم جب بھی ہجرت کا واقعیہ سناتے تو نا ہی وہ اپنے پیچھے چھوڑ آنی والی حویلی کا ذکر کرتے ، نا ہی زمینوں اور رہ جانے والی جائیداد کا رونا روتے ، اس سارے کوچ میں ان کو بس ایک ہی دکھ رہا کہ جب وہ والٹن کے کیمپ میں آ کر رکے تو امداد کرنے والوں سے زیادہ "پناہ گزین” کی سرکس دیکھنے والوں کا تانتا زیادہ بندھا رہا ، اگر کسی نے امداد کی بھی تو حب الوطنی سے نہی بلکہ پناہ گزینوں پر اپنی زکات خیرات نکالی ، لاکھوں خاندان اس امید پر کہ اپنوں (مسلمانوں) میں جا کر نئی دنیا آباد کریں گے مگر قدم قدم ہتکانہ انداز میں لفظ "پناہ گزین” ایسے سننے کو پڑتا جیسے دروازے کی گھنٹی بجنے پر چوکیدار کہتا ہے "بی بی جی ، فقیر آیا ہے” . محسن کش لوگ ہم ہیں نہی اور احسان مندی گھٹی میں پلانی بھولی نہی گئی ، پر جب زبان کا زخم ان سے لگے جن پر مان ہو تو وہ اور بھی گھاتک ہو جاتا ہے. ایک لفظ سے لاکھوں خاندان اپنے ملک میں آکر بھی پناہ گزین یعنی عارضی رہاشی ہی بن کر رہ گئے …

اتنے سالوں کے بعد یہ قصّہ کہانی دوبارہ دوہرائی گئی ، سندھ کے سپوت جناب مرزا صاحب نے چند ہفتے پہلے حلیف اور اب حریف سیاسی جماعت کو جوش خطابت میں اوقات یاد کراتے کہا ، "ان بھوکے ننگے "پناہ گزینوں” کو سندھ کی دھرتی نے ہی پناہ دی…”. نشانے پر بنی اس سیاسی جماعت سے نا تو میری گاڑھی چھنتی ہے اور نا ہی کوئی ذاتی بیر. پر وزیر صاحب کے بیان پر ممکنہ پرامن ردعمل پر (کیونکہ برصغیر کے لوگ شاید اپنی بے عزتی تو کسی مصلحت سے برداشت کر لیں پر اپنے بزرگوں کی کسی بھی قیمت پر نہی، تو رد عمل تو یقینی ہے اور شروع ہو بھی گیا ہے ) میری ہمدردی اس جماعت کے ساتھ ہی ہو گی . اس گھٹ بندھن کی شاید اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہی کہ برسا برس کے قیام ، یہی پر پیدائش اور قبروں میں اترنے کے با وجود آخر ہماری پہچان اور اوقات ہے کیا ؟ آئینی طور پر میں، میرے بچے پیدائشی پاکستانی ہیں پر کیا خبر پنجاب میں بسنے کی وجہ سے کل کو کوئی پوٹھوہاری ، لاہوری ، سرائیکی اٹھه کر یہ ہی نا بولے کہ آخر تم ہو کون ہمارے ساتھ رہنے والے ؟ ہم نے تم لٹوں پهٹوں پر رحم کھایا ، تم بھوکھے ننگوں کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا ، رہنے کو جگہ دی ، اب تم قبضہ ہی کر کے بیٹھه گئے ؟ حق جماتے ہو ؟ ہماری مہربانی تھی رکھا یہاں پر اب ہماری مرضی ہے جاؤ یہاں سے . میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اب جینا مرنا تو اسی دھرتی کے ساتھ ہے تو قبر سے نکال کر کہاں جائے گا یہ “پناہ گزین” ؟

 
15 تبصرے

Posted by پر جولائی 14, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو



سولی پر لٹکتی زندگی کیسی ہوتی ہے، ان سات دن اور سات راتوں میں بخوبی اندازہ ہوگیا تھا ، ہر روز محشر اور ہر شام ، شام غریباں .. مسلسل بد خوابی سے آنکھوں میں جلن ہونے لگ گئی تھی . اگر آنکھ لگ بھی جاتی تو چند ہی لمحوں بعد ہڑبھڑا کر ایسے اٹھتا جیسے موت میرے سرہانے کھڑی ہو ، ڈرے ڈرے ٹی وی آن کرتا ، نیم کھلی آنکھوں سے ، دھڑکتے دل کے ساتھ چند چینل اوپر نیچے کرتا اور خیریت دیکھ اور سن کر پھر اگلے پہر تک سونے کی جدوجہد کرتا کہ آخر نیند تو تختے دار کو بھی نہی دیکھتی اور یوں یہ سلسلہ قیامت کی گھڑی تک جا پہنچا ، کہتے ہیں کہ قیامت کے وقت سورج سوا نیزے پر ہوگا ، پر کیسی تھی یہ قیامت کہ سورج کے اگنے کا انتظار بھی نا کیا ؟ شاید یہ قیامت تھی بھی نہی ، ایک عذاب تھا جو ہم کروڑوں فرعونوں پر اہل مصر کی مانند رات کی تاریکی میں اترنا تھا ، ایک لال خونی عذاب جو ڈھایا تو اسلام آباد کی لال مسجد پر گیا مگر برس وہ رہا ہے ابھی تک پوری قوم پر، کہ شاید ایسی اجتمائی بےحسی پر کچھ اور بعید نہی .

آج غریبان لال مسجد کے بین کو سنتے سنتے چار سال بیت گئے ، آج کے روز یہ سب لکھنے کا مقصد زخم ہرے نہی کرنا کیوں کہ وہ تو کبھی سوکھے ہی نہی، بلکے یاد کرنا اور دلائے رکھنا ہے کہ ہمارا اصل ہے کیا. اسے منافقت کہوں یاں انسانیت کی آخری رمک ، کہ مجھ جیسے نام نہاد روشن خیال جو شام غریباں سے چند روز پہلے تک حکومتی رٹ کے نا ہونے کا تانا کستے تھے ، پھبتیاں لگاتے تھے کے سب آپس میں ملے ہوئے ہیں ، وہی "روشن خیال” بعد ازاں نوحے پڑتے اور تکیوں میں منہ دِیے روتے پائے گئے . مجھے نہی معلوم کہ باقی بڑے شہروں کا کیا عالم ہوا ہو گا ، پر مردوں اور امراہ کے اسلام آباد کے نام سے جائے جانے والے شہر کے باسی کئی ہفتے ایسے رہے جیسے میت ابھی انہی کے گھر سے اٹھی ہو ، شہر میں بسے ملک کی دو فیصد اشرافیہ کے تعلق دار جن کو ہم ملک و قوم دشمن ہی سمجھتے اور ایک دوسرے طبقے کو نا محرم گردانتے ہیں ، آنکھوں سے ٹپکتے پانی سے اپنے داغ دھوتے ، ایک دوسرے کے کندھوں میں غموں کا مدوا ڈھونڈھتے نظر آئے . جڑواں شہروں کے ہر فرد کو یتتمی سے لے کر گود اجڑنے کا روگ کئی ماہ تک کھاتا رہا اور کئی سینے آج بھی ان نا آشناؤں کے لیے پھٹے جاتےہیں . ہم باہر سے جیسے بھی ہوں ، کتنا بھی لبرل ،لبرل کا راگ الاپیں، روشن خیالی کا لبادہ اوڑھ کر اپنے اصل سے چھپتے پھریں پر ایک سانحے نے قلعی کھول دی …

کیا تھے محرکات ، کون تھا قصور وار ؟ حق پر تھا کون؟ اور کون تھا شہید ؟ میں نہی جانتا ، نا ہی مجھے غرض ہے مسجد میں چھپے کسی فرد سے اور نا ہی باہر والوں کے مقصد سے ، نا ہی مجھے یاد ہے کہ کس نے ادا کیا جعفرانہ اور صادقانہ کردار… پر یاد ہیں مجھے اور مجھ جیسے "جھوٹے روشن خیالوں” کو وہ ، جنہوں نے ہم کو ہم ہی سے ملایا، اپنا پاک خون دے کر ہمارا اصل یاد دلایا ، بس یاد ہیں مجھے وہ معصوم , با عصمت، بیٹیاں جو ان دیکھی ہوکر بھی ایسی لگیں جیسی میری اپنی جائی ہوں. نقابوں سے جھانکتی انکی با حیا محسن آنکھیں جیسی کہ رہی تھیں :

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو ، کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوں کے ، دیس جانا ہے ….
ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی ، تتلیاں آواز دیتی ہیں ….

(اس سے آگے لکھنے کی مجھ میں سکت نہی کہ انہی لمحات میں صور پھونکا جا رہا تھا )

 
5 تبصرے

Posted by پر جولائی 10, 2011 in ذاتی, سماجی

 

کچھ نہی سیکھا



وہ بہت بڑا کالم نویس ہے ، الفاظ ، موضوعات کے انتخاب کی وجہ سے اپنے ہم عصروں اور ساتھیوں کو آن کی آن میں پیچھے چھوڑتا چلا گیا ، لاکھوں کے تعداد میں انٹرنیٹ پر اس کے مداح ہیں ، ہفتے میں پانچ دن ٹی وی پر نئے نئے موضوعات پر بات کرتا ہے ، اپنے مہمانوں سے راز اگلوانے کا ایسا فن آتا ہے کہ بڑے بڑے پھنے خان اسکے پروگرام میں احتیاط سے بولتے ہیں . پر ان تمام خوبیوں کے باوجود ، اپنی قابلیت اور ہنر کو بروکار لانے کی بجائے ، افسوس …. اس نے اپنے مقابل ہم روزگار کو ننگا کرنے کے چکر میں پچھلے دنوں اپنے قلم سے نام لے کر اسکی ذات ، اس کے خیالات ، اس کے مذہبی رجحانات سے لے کر کھانے ” پینے” کے ڈھب اور اس کے کتے تک گنوا دِیے.

یہ سلسلہ صرف ایک شخص تک محدود نہی رہا ، لگتا ہے میڈیا کے بہت سے نامی گرامی بُت ، اپنے مخالف سوچ اور نظریه کے حامل اپنے ہی دوستوں کو نیچا دکھانے میں اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں اور اس سعی میں ذاتی حملے ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کے گھروں تک تانکا جھانکی ہو رہی ہے . یہ پڑھے لکھے حضرات, سیاست دانوں کو گندا کرتے کرتے خود اپنی اصلیت ظاہر کر بیٹھے ہیں. لڑائی کی بظاھر کوئی ذاتی اور کاروباری رنجش نہی (مضمون کے آخر میں وجہ بیان ہے ) ، بس نظریاتی اور سیاسی عقا ئد ایک دوسرے سے میل نہی کھا رہے اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے چکر میں ایک غدار اور لا دین ہونے کے ثبوت پیش کرتا ہے تو دوسرا مخالف کو انتہا پسند اور دہشت گردوں کا یار بنا کر پیش کر رہا ہے . ہر ایک کے ہزاروں مداح ہیں ، یعنی ہزاروں ، لاکھوں لوگ انکی سوچ کو پاٹ رہے ہیں ، بہت سے مصّوم لوگ انکی ہر بات کو مذھبی سی حیثیت دے کر من وعن تسلیم کر اور وہی سوچ ، ڈھنگ ، افکار کو اپنا رہے ہیں، یہ دانشور حضرات عدم برداشت کے نئے اصول لکھ رہے ہیں ، معاشرے کو سکھا رہے ہیں کہ گفتگو کو گفتگو نہی رہنے دینا کیونکہ یہ بےغیرتی کی علامت ہوگی …

ہم میں اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو اندھی تقلید میں کوہلو کے بیل بن بیٹھے ہیں . تالوں میں بند اپنے ذھن کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم ان دانشور حضرات کے ٹھوس دلائل کو بہترین تیر بحدف نسخہ مانتے ہوۓ انکو آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں . انٹرنیٹ پر دوستوں سے بات چیت میں اب تک کا یہی حاصل رہا ہے کہ ہم گھٹیا سے گھٹیا مذاق ، باتوں باتوں میں ننگی گالیاں سب کچھ ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں، پر جیسے ہی (غیر مذہبی ) نظریاتی اور سیاسی عقائد کو ضرب لگتی ہے تو فورا ًً ہم اپنے خالی کندھوں پر بندوق تان کر للکارنا شروع کر دیتے ہیں. جنگ ایسی شروع ہوجاتی ہے کہ جو جیتا وہ غازی …ہمارے سیاست دانوں نے تو شاید کچھ نا کچھ تو ماضی سے سیکھ ہی لیا ہوگا اور ہمارے رہنما دانشوروں نے بھی کیوں کہ کل ہی خبر آئی ہے کہ وزارت اطلاعت کے خفیہ فنڈ میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے . اب ہر دانشور کا حق تو بنتا ہے کہ اس فنڈ کو غلط ہاتھوں لگنے سے بچائے اور اپنے پروگراموں اور تحریروں سے اسکا سہی سہی مصرف بتائے ، پر ہم عاشقان میڈیا نے نظریات اور سیاسی لڑائی کو ذاتی بنا دیا ہے ، ہم نے افسوس، "کچھ نہی سیکھا”!

 
10 تبصرے

Posted by پر جولائی 5, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

تیلی کا لون



سنہ اسسی کے اوائل کی بات تھی ، لاہور چھاؤنی کے نواحی علاقے برکی ہڈیارا میں ایک چھڑا چھانٹ شخص آ کر رہائش پذیر ہوا. مشکوک حرکات کے باوجود کسی نے کسی نے کوئی پوچھ تاچھ نہی کی کیونکہ مارشل لا کا دور تھا اور اوپر سے سرحدی علاقہ بھی ، تو لوگوں نے یہی گمان کیا کے پاک فوج کا کوئی خاص آدمی سادہ لباس میں علاقے اور لوگوں کی نگرانی کر رہا ہے . وہ روز ادھر اُدھر گھومتا اور واپسی میں ماجد عرف ماجے حلوائی کی دکان پر آ کر لسی پیتا ، ماجا لسسی بنانے سے پہلے ہر گھاہک کی طرح اُس سے بھی پوچھتا "باؤجی، لسسی مٹھی یاں لونی؟” (میٹھی یاں نمکین) اور وہ صاحب مٹھی کہه کر میٹھی لسسی سے لطف اندوز ہو کر اپنی رہائش پر لوٹ آتے. اسی معمول پر ایک کڑکتی دوپہر کو جناب ماجے حلوائی کی دکان پر پہنچے ، ماجے کی سوال "باؤجی، لسسی مٹھی یاں لونی؟” کے جواب میں یہ سوچ کر کہ گرمی کے توڑ کے لیے ہی سہی گویا ہوئے "چل یار اج لونی پیادے!” ، "باؤجی، لون کناں (کتنا) رکھاں ؟” ماجے نے مستعدی سے پوچھا، جواب ملا "یار زیادہ نہی بس تیلی دا پا دے” ( تیلی، اس وقت پنجابی میں پچاس پیسے کے سکّہ کو کہا جاتا تھا) اتنا سننا تھا کے ماجے کے کان کھڑے ہو گئے ، اس نے لسسی صاحب کو پیش کی اور ساتھ ہی دکان سے چھوٹے کو یہ کہ کر کھسک گیا یار باؤ ہوناں دا خیال رکھیں میں ذرا گھروں ہؤ آوان اور کسی نا کسی ذریعہ قریبی تھانے اطلاع پہنچا دی کے ایک بھارتی جاسوس دکان پر بیٹھا ہے کیونکہ جاسوس صاحب یہ سمجھنے میں غلطی کر بیٹھے کہ پاکستان میں اس وقت پچاس پیسے میں نمک کی تھیلی آ جاتی تھی اور وہ اس وقت بھارت میں نہی بیھٹے جہاں نمک بہت مہنگا تھا. اور یوں عادت یاں معصومیت میں موصوف جاسسوس صاحب دھر لیے گئے .

پچھلے دنوں ، ایک "ابھرتی” ہوئی پارٹی کے انقلابی لیڈر جناب "زمان پارک زئی” نے روڈ شو کا بینر اچانک تحریک ڈرون سے بدل کر ایسا رکھ دیا کہ میرے جیسے ماجوں کے کان کھڑے ہو گئے. یہی وہی نعرے تھے جو نوے کی دہائی میں جعلی "کالی بوتلوں” کے ایجنسی ہولڈر لگاتے ہوئے چند سو افراد کو اسلام آباد جمع کرتے، تھوڑا "اٹ کھڑکا” کروا کے "مقتدر حلقے” (سابقہ کالم کے شیخ صاحب ) عوام میں پائی جانے والی نام نہاد بےچینی کے نام پر اس وقت کی "نا پسندیدہ” حکومت کو ہٹانے کے لیے بنیاد بنا لیتے. اب ہم جناب لیڈر صاحب کی کی معصومیت کہیں یاں شیخ صاحب کی کم عقلی اور انکی قابلیت کی حد ( غالب امکان یہی ہے) کہ ہو با ہو وہی الفاظ استمعال کر لیے جو پہلےسے ہی اتنے ہی مشکوک ہیں جتنا کہ لفظ "کپی”. ان لیڈر محترم کے فیلڈرز کو تو ملک بچانے کا یہ نعرہ شاید اعلی ، عمدہ اور اچھوتا لگا ہو کیوں کہ ان کی زیادہ تعداد نے نوے کی دہائی میں یاں تو آنکہ کھولی یاں سکول جانا شروع کیا ہو گا ، لیکن میرے ہم عصروں کے شعور میں چار دفعہ تو یہ کھیل کھیلا ہی گیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ملک بچانے کے اس "فرمائشی نعرے” اورتیلی کے لون میں کوئی فرق نہی ہے اور دونوں سے خطرے کی بو آتی ہے . اب دیکھنا یہ ہے کہ بازی اسسی کا مڈل پاس ماجا حلوائی لے جاتا ہے یاں نئی صدی کے پڑھے لکھے نوجوان کیونکہ پاکستان میں ابھی بھی لسسی میں کوئی نہی ڈلواتا "تیلی کا لون” .

 
15 تبصرے

Posted by پر جون 29, 2011 in سماجی, سیاسی

 

کالی بوتل



شیخ صاحب چھوٹے لڑکے کو مسلسل کوسنے دے رہے تھے کہ آخر تجھے ضرورت کیا تھی ؟ ، ہوا کچھ یوں تھا کہ چند دن پہلے شیخ صاحب کی مشروب ساز فیکٹری میں چوری ہوگئی ، تقریباً آدھی رات کے وقت چوکیدار کے فون آنے پر چھوٹے نے فیصلہ کیا کہ اس وقت ابّا جی کو کیا تنگ کرنا ، خود ہی نبٹ آتا ہوں. سو جناب نے تھانے جا کر رپورٹ درج کروا دی. صبح جب پولیس تفتیش کے لئے کیا آئی ، شیخ صاحب کو لینے کے دینے پڑ گئے کیونکہ جناب کی مشروب ساز فیکٹری مشہور کالی بوتل کی دو نمبر تیار کرتی تھی ، سو چوری کا تو نقصان الگ، فیکٹری پر ہی تالہ لگ گیا اور نیک نامی اوپر سے الگ ہوئی . اب شیخ صاحب چھوٹے کو یہی کوسنے دے رہے تھے کہ کمبخت تجھے ضرورت کیا تھی تھانے جانے کی ؟

کاروبار کی بندش پر سارے مرد حضرات ڈرائنگ روم میں جمع تھے کہ اب کیا کیا جائے ؟ بڑا لڑکا جو شیخ صاحب کے صحبت میں رہ کر کافی کائیاں ہو گیا تھے بولا "ابّا جی الله کے ہر معملے میں کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے! شاید الله میاں ہم پر مزید مہربانی کرنا چاہ رہے ہیں” ، کیا مطلب ؟ شیخ صاحب بولے . دیکھیں ابّا جی ، لوگ ویسے بھی اب کالی بوتل کو اتنا پسند نہی کرتے اور بھی پہلے ایک دو واقعیات کے بعد لوگ اب محتاط ہوگئے ہیں اور کالی بوتل کو کم ہی استمعال کرتے ہیں . تو پھر اب ختم کردیں سب لگے لگائے کو ؟ شیخ صاحب پھر سے گرجے . نہی ابّا جی ، لوگ خاص طور پر نوجوان اب انرجی ڈرنک زیادہ پسند کرتے ہیں ، باپ کی آسانی کے لیے بیٹے نے کہا "ہوتا ہواتا وہ کچھ نہی ، بس ذرا رنگ بدل کر،دو چار ایسنس مکس کرکے ، کچھ اچھا سوڈا واٹر ڈال کر فولادی ٹن میں بھر دیں تو انرجی ڈرنک تیار اور بیوقوف لوگ اسے پی پر یوں اکڑتے ہیں جیسے آب حیات پی لیا ہو! ” تھوڑا سا خرچہ زیادہ ہے پر اسکے مقابلے میں آمدنی کئی گنا زیادہ اور سب سے بڑھ کر اپنا موجودہ پلانٹ ہی معمولی ردوبدل کے بعد استمعال ہو جائے گا . اتنا سننا تھا کے شیخ صاحب کا قبر پر رکھے مرجھائے پھول جیسا چہرہ نوشے کے سہرے سے جڑے کھلے گلاب جیسا ہوگیا . اور وہ تقریباً چیختے ہوے بولے تو ہی ہے میرا اصل شیخ بیٹا ، چل میرے لختے جگر جڑ جا نئے کام پر …

ہمارے مقتدر حلقے جنہیں ہم اسٹیبلشمنٹ کے نام سے بھی جانتے ہیں ایک خاص قسم کے گروپ کی پیداوار کرتے آئے ہیں جن کو اپنی مرضی اور پسند سے استمعال کیا جا سکے ، پر جب سے عوام انتہا پسند جنونیوں کا شکار ہوئے ہیں ان "خاص جعلی” جماعتوں سے بھی بدظن ہو گئے تو ان حلقوں کو یہی فکر تھی کہ اب ان کے لگی لگائی محنت کا کیا ہوگا اور عوامی مارکیٹ میں کیسے اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر کسی بھی مناسب وقت پر ڈوگڈوگی بجا کر اپنی مرضی کا پتلی تماشا کیسے سجا سکتے ہیں ؟ تو ایسے میں چند سیانے بڑوں کے فیصلہ پر اس بار روایتی لوگوں کی بجائے مقتدر حلقوں نے نئے چہروں کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے ، اور ان پر نوجوان نسل کے پسندیدہ "انقلابی انرجی ڈرنک” کے لیبل کے ساتھ پرانی بوتل کے بابے جیسے ماڈلوں کی جگہ جوان دکھنے والے بابے کی تصویر جلعی حروف سے "انقلاب ،انقلاب” کے نعرے کے ساتھ لگا دی ہے کہ پروڈکٹ نئی کے ساتھ جاذب نظر بھی لگے ..اور خالی اتنا ہی نہی ، اب کی بار اشتہاری مہم کے لیے دور جدید کے ذرائع بھی استمعال کیا جا رہے ہیں ، ٹی وی کے سیاسی اور کھیل کے پروگرام نما "پیڈ اشتہاروں” سے لے کر "دھرنا روڈ شو” منعقد کیے جا رہے ہیں اس سے بڑھ کر انٹرنیٹ پر بھی بوتل کے فوائد گنوائے جانے کے لیے پورا انتظام ہے ،سب اس لیے کہ کسی طرح عوام کو نئی بوتل پسند آجائے اور اس پر بھروسہ شروع کردے … اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس نئی پیکنگ میں چھپی جعلی انرجی ڈرنک کو کسی چھاپے تک اعتبار کر کے پی لیتے ہیں یاں اتنے ہوشیار ہوچکے ہیں کہ تجربے سے بھانپ لیں کیونکہ جعلی تو جعلی ہی ہوتی ہے اب چاہے وہ نئے ٹن میں موجود انرجی ڈرنک ہو یاں پرانی کالی بوتل …

 
20 تبصرے

Posted by پر جون 21, 2011 in سماجی, سیاسی

 

لکا چھپی بہت ہوئی



گرمیوں کی چھٹیوں میں جہاں بچوں کے فرصت کے لمحات بڑھ جاتے ہیں وھیں انکی شرارتیں بھی ، کھیل اور شرارت میں باز دفعہ وہ اپنے ساتھ بڑوں کو بھی گھسیٹ لیتے ہیں . میرے گھر کا حال بھی آج کل دوسروں سے مختلف نہی ہے ،سو اتوار کی شام میرے بیٹے اور بیٹی نے لکا چھپی (جسے چھپن چھپائی بھی کہا جاتا ہے) کی ضد کی . میرے حصّے ڈھونڈھنے والے کی آنکوں پر ہاتھ رکھنے کا کام آیا ، اصول کے مطابق چھپنے کی حد گھر کے اندرونی حصّے تک محدود تھی، یوں کھیل شروع ہوا تو کبھی آسانی اور کبھی مشکل سے جلد اور بدیر بچے ایک دوسرے کو ڈھونڈھ نکالتے، کرتے کرتے جب میرے بیٹے کی چھپنے کی دوبارہ باری آئی تو اشاروں سے میرے منا کرنے پر بھی (اشراتاً) پلیز پلیز کہتا وہ باہر لان میں جا کر چپ گیا ، گنتی ختم ہونے پر میری گڑیا نے اسکو ڈھونڈھنا شروع تو کیا پر لا حاصل رہی ، بیچاری گھر کے کونے کونے کو چھان مار کر تھک گئی پر بھائی نا مل پایا، بھائی بھائی کرتی نڈھال بیٹی کو دیکھ کر میں نے ایک دو بار کہا بھی کہ بیٹا باہر بھی چیک کرلو پر وہ شاید بھائی پر زیادہ اعتماد کرتی ہے کہ باہر جانے کا اصول کھیل میں نہی ہے اور بھائی گھر میں ہی ہیں پر کبھی وہ مجھ سے پوچھتی بابا سچ بتائیں نا ،ابھی اسکی یہ کشمکش چل ہی رہی تھی کہ برخودار برساتی کیڑے کو سانپ سمجھا کر چلاتا ہوا گھر میں داخل ہوا . بہن ، بھائی کو ڈرا سہما دیکھ کر اپنے ساتھ ہوئی نا انصافی بھول کر کبھی اسکے لیے پانی لاتی اور کبھی اسکو پیار کرتی .

جب سب سکون ہو گیا تو میرا ذھن اس بات پر پھنس کر رہ گیا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ بیٹے کو ڈر لگا اور وہ واپس اپنی حدود کی طرف بھاگا. خیال آیا یہ شاید نظام قدرت ہی ہو کہ مظلوم اور ناتواں پر جب مخالف حد سے زیادہ حاوی ہوجائے یاں پھر کوئی کسی کی کمزوری یاں پیار کا ناجائز فائدہ اٹھائے اور دوسرا یاں تو پیار میں یاں کسی اور مصلحت کی وجہ سے اسی پر اعتبار اور اعتماد کرتا ہی چلا جاتا ہے تو ایسے میں قدرت بھی کھیل میں کود پڑتی ہے اور بہت سے چھپی حقیقتوں سے پردہ فاش کردیتی ہے .

ہماری مجودہ حکمرانوں کی نالائقی کہیہ یاں دوسروں کی چالاکی کہ جو لوگ دو ہزار سات کے اواخر تک کھلے بندوں اپنی وردی میں نہی پھر سکتے تھے ، عوام تقریباً ان کے مقابل آگئی تھی ، وہی آج پھر اکڑ کر بلڈی سویلین کو کبھی سکول کے باہر لگی قطاروں سے باہر نکال کر اور کبھی انکو کسی بھی سڑک پربلا کسی ٹھوس وجہ آگے نا جانے دے کر اپنی برتری کا روز احساس جتانے جیسی شرارتوں (چھاؤنی کے علاقوں میں رہنے والوں کو بخوبی اندازہ ہوگا) سے لے کر بلوچ کشی جیسے عظیم کرتوتوں سے اپنی عظمت کا احساس جتلاتے . پھر سے ایک مخصوص طبقہ عوام میں یہ باور کرا رہا تھا کہ یہی معصوم فرشتے ہمارے نجات دہندہ ہیں ، یہی اور صرف اور صرف یہی وہ "محب وطن” ہیں جن کے ہاتھوں ہماری قسمت کی چابی ہے اور یہی ہماری نئیا پار لگا سکتے ہیں اور آہستہ ،آہستہ خاص ماحول سا بنا رہے تھے . اور بہت سے سادہ لوح ان پر پھر سے یقین کئیے بیٹھے تھے …پر لگتا ہے اس بار قدرت کا صبر ختم ہو گیا یاں اندھا اعتبار کرنے والوں پر رحم آگیا اور اوپر تلے چند واقعیات ایسے پیش آئے کہ دوسروں کو تماشا بنانے والے خود ایک تماشا بن کر رہ گئے ہیں . عوام کی آنکھوں اور زبانوں سے گرہ کھل گئی ہے کہ جو خود اپنے گھروں کی حفاظت نا کرسکے وہ ہماری کیا کریں گے ؟ جو اپنا نظم و نسق درست نا رکھ سکے وہ ملک کا کیا کریں گے ؟ کراچی جیسے واقعات پر اب غیر بلوچوں کو بھی یقین ہونے لگا ہے کہ شاید وہاں زیادتی ہو رہی ہے، اب وہ ہر بات پر بیرونی سازش کے جھانسے میں نہی آ رہے ، صدائیں بلند ہو رہی ہیں .. حدود و قیود پھیلانگے والے مخصوص ادارے اور افراد یہ سوچ لیں کے بہنوں جیسا پیار لڈانے اور واری صدقے جانے والی قوم اب یہ کہ رہی اپنے قبلے اور اعمال درست کرلو ، کھیل (آئین) کے متعین کردہ حدود میں رہ کر اپنے اصل کام کی طرف ہی رہو ورنہ آپ کے کچھ اور فرائض کے تفصیل اور قابلیت کے مزید بھانڈھے پھوٹنے پر یہ نا کہنا پڑ جائے کہ اب ہم آپ سے مزید وارا نہی وٹ سکتے ، اب ہم آپ کے ساتھ نہی کھیلتے ، اب "لکا چھپی بہت ہوئی….”

 
6 تبصرے

Posted by پر جون 15, 2011 in سیاسی

 

افضل کون ؟



مسرت ، سات ماہ سے پر مسرت ، کنیڈا کے شہر ایڈمونٹون کی پاکستانی نژاد خاتون تھی ، ویسے تو مغربی معاشرے کو مشرقی آنکہ نے ہمیشہ یاں تو مادر پدر آزاد ، بے راہروی کا شکار پا یا ، یاں اپنے نام نہاد اصولوں اور مادہ پسندی کے غلاف میں لپٹے دیکھا . پر جب بھی مسرت باہر نکلتی تو لاکھ انداز اور حرب اختیار کرنے پر بھی اپنے اندر پنپنے والی نننھی کلی کو چھپانے میں ناکام رہتی . اپنی دنیا میں مگن، دوسروں کی طرف ترچھی نگاہ سے مسلسل نا دیکھنے اور اپنے بنائے ہوئے اصّولوں پر قائم وہی قوم مسرت کا ایسے خیال رکھتے جیسے وہ انکی قومی ذمداری ہو ، اپنے صدور اور ملکاؤں کو بھی قطار میں کھڑے کرنے والے قانون مسرت کے لیے معَطل ہو جاتے ، بس میں سوار ہوتے ہی خالی سیٹ نا ملنے پر کیا جوان کیا ضعیف ، لوگ خود ہی اسکے احترم میں اپنی نشست خالی کردیتے . ان تمام حالات میں مسرت گھر سے باہر رہ کر بھی خود کو محفوظ سمجھتی .

کرنی خدا کی ، ابھی طبی حساب سے کونپل کھلنے میں کچھ ہفتے باقی تھے ، شہر سے باہر ، شوہر کی رات کی ڈیوٹی کی وجہ سے وہ گھر پر اکیلی تھی . شو مئی قسمت ، ہوائی طوفان (ٹویسٹر) کی وارننگ جاری ہو چکی تھی اور لوگوں کو اپنے مخصوص تہخانوں پر رہنے کی ہدایت تھی ، پر ننھے فرشتے کو وہی گھڑی دستک کی مناسب لگی ، نا تجربہ کار اور درد سے بےحال مسرت کو طوفانی رات میں کچھ اور تو نا سوجھہ پر اسنے فرنگی پڑوس پر دستک دیدی ، آن کی آن میں دو چار گھر کے انجان باسی بھی اکھٹے ہو گئے، کسی نے نہی سوچا ہم غیر ملکی ، غیر زبان یاں پھر غیر مذہبی کی مدد کو اپنی جان خطروں میں کیوں ڈالیں؟ . چند لمحوں میں ایمبولنس حاضر تھی ، بروقت طبّی امداد پر مسرت کی زنگدی پر مسرت اور اسکی آغوش ایک معصوم پھول سے بھر چکی تھی . خاوند کے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دونوں ہر خطرے سے باہر تھے . مسرت کے لیے یہ سارے احترام ، خدمات ، اہتمام اسکی خاص جنس یاں مقام کی وجہ سے نہی تھے ، بلکہ یہ سب قدر او منزلت ایک جان کے لیے تھے . وہ جان جو ابھی دنیا اور دنیا اس سے روشناس بھی نا ہوئی تھی …

خورٹ آباد کا واقعہ ابھی معدوم بھی نا ہوا تھا کے کراچی میں ایک نوجوان کے قتل کی دلخراش واردات ٹی وی کی زینت بن گئی. ساری دنیا کو ہم نے پھر بتا دیا کے کیسے ہم ایک جیتے جاگتے انسان کی آو بھگت کرتے ہیں ، سانحہ سیالکوٹ ہو یاں کراچی ، کیمرے کی آنکہ تو مشکل سے مشکل حالات میں بھی صاف صاف اور ایسی عمدگی سے کام کرتی ہے کہ جیسے ولیمے کی ویڈیو شوٹ ہو رہی ہو پر افسوس کوئی بھی ہاتھ ، کوئی بھی زبان انسان کو لاش بننے سے نہی روکتی ، کہنے کو عظیم مشرقی روایت کے دائی ، انسان کو افضل ترین مخلوق گرداننے والے عبادت گزار ، مظلوم کی پکار پر لبیک کہنے والے مجاہد ، اس وقت اور اس وقت تک کیوں سو جاتے ہیں جب تک لاشوں میں سانس کی رمک رہتی ہے؟ بعد ازاں جنازوں پر ڈھول پیٹنے والے ، تعزیناے نکلا نے والے ، کمیٹیاں بنانے والے ، مشرقیت کو مغربیت پر فوقیت دینے والے، خود ہی فیصلہ کر لیں کہ نگ پٹنگ ، بے حیا اور با ستر و باعصمت معاشرے میں سے افضل کون؟

 
6 تبصرے

Posted by پر جون 10, 2011 in سماجی