RSS

سبز ہلالی پرچم میں سنگین غلطی

14 اگست


گاڑی کا سلینسر کافی آواز کر رہا تھا ، سوچا تو یہی تھا کہ میں صبح ، صبح ٹھیک کروا کے وقت پر گھر واپس آجاؤں گا پر آنکھ ہی دھوکھا دے گئی اور بارہ بجے جب مستری کے پاس پہنچا تو لائن کافی لمبی تھی ، خیر میں بھی قطار میں لگ گیا ! تھوڑی دیر میں پھٹ پھٹ کرتی ایک اور کار آئی جس میں تین خواتین سوار تھیں ، چھوٹا بولا : استاد لیڈیز ہیں گرمی بھی ہے انکی گاڑی پہلے لگا دوں ؟ استاد نے جس کار کو ٹھیک کر رہا تھا کے نیچے سے سر باہر نکال کر خواتین کی کار کے درمیانی شیشہ پر لٹکتی صلیب کو دیکھ کر کہا "چھڈ یار چوڑیاں (چمار) نیں ایہنا دا کہڑا روزہ ہے! کھلوتی رہین دے توپپے، واری سرے ویکھاں گے” . اور اس معاشرے میں جہاں مرد خواتین کو ابھی بھی احترام دے کر لمبی لمبی لائن چھوڑ کر جگہ دیتے ہیں اسی معاشرے میں وہ خواتین تو کڑی دھوپ میں ہی گاڑی میں بیٹھی اپنا انتظار کرتی رہیں اور میں سوچتا رہ گیا کہ احترام اور لیحاظ بھی مذہب کا محتاج نکلا!

واپسی پر گھر لوٹتے ہوئے کئی واقعیات ماضی کے بوسیدہ کفن کو پھاڑتے ہوے دماغ کو کچوکے دینے لگے. گھر کے باہر گیس میٹر پر پڑے ٹوٹے پیالے سے لے کر کلاس روم میں پڑے دو الگ الگ مٹکوں تک، ہوٹلوں میں علیحدہ بیٹھنے کی جگہ سے لے کر اپنے انکل کی دکان پر دلت ہاریوں کے الگ برتنوں تک سب نے روح کو خوب تازہ کیا اورمیں اسی نتیجے پر پہنچا کے یہ قومی مزاج تازہ اور نیا نہی بلکے بیس پچیس سال سے اس کی گواہ تو یہ گناہگار آنکھیں بھی ہیں . ابھی میں اس تازگی سے باہر نکلا بھی نہی تھا کے اشارے پر رکی گاڑی کا شیشہ کھٹکھاتے بچے نے کہا ، صاحب جھنڈا خرید لو ، کل جھنڈے والا دن ہے… پرچم کیا لینا ، میرا دل اور دماغ اسکی ساخت پر اٹک گیا؟

بہت احترم کے ساتھ ، مگر یقیناً با نیانان پاکستان سے سبز ہلالی "قومی پرچم” کے تشکیل میں ایک بڑی غلطی سرزرد ہوئی ہے ، ١١ اگست 1947 کو پاکستانی دستور ساز اسمبلی میں امیر قدوائی کے تیار کردہ پرچم کو جب لہرایا گیا ہوگا تو اس میں ہلال ابھرتی ریاست اور ستارہ ترقی کی سہی رہنمائی اور ترجمانی کر رہا ہوگا ، پر اس کے ابتدائی حصّے کو سفید کر کے اقلیتی نمائندگی میں ان رہنماؤں سے نا صرف اپنی قوم کو سمجنے میں غلطی ہو گئی بلکہ وہ اپنی دور اندیشی کو بھی غلط ثابت کر بیٹھے ، بھائی اگر اقلیت کی نمائندگی ظاہر کرنی ہی تھی تو پرچم کے نچلے حصّے پر کر دیتے جو حقیقت کی سہی ترجمانی کرتی، کیا ضرروت تھی کہ آپ اپنے قومی پرچم میں ان کو نا صرف اپنے ساتھ جگہ دی اور تو اور اسکی ابتدا اور قائم رہنے کی بنیاد بھی اقلیتی حصّے کے سپرد کردی. کہتے ہیں نا ، دیر آید درست آید ، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم زمینی حقائق کو سمجھتے ہوۓ اور اپنی اکثریتی عوام کے جذبات کی سہی عکاسی کرتے ہوۓ ، تجدید پاکستان کے دن درست کردیں "سبز ہلالی پرچم میں سنگین غلطی”.

Advertisements
 
6 تبصرے

Posted by پر اگست 14, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

6 responses to “سبز ہلالی پرچم میں سنگین غلطی

  1. افتخار اجمل بھوپال

    اگست 15, 2011 at 6:43 صبح

    معذرت خواہ دخل اندازی کيلئے ۔ يہ اکلوتا واقعہ آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گيا وہ بھی ايک ايسے شخص کے ہاتھوں جو عورتوں يا مردوں سے مرغوب ہونے کی بجائے کسی اور چيز سے مرغوب ہوتا ہے ۔ کبھی آپ نے غير مُسلم ممالک ميں مسلمان کے ساتھ ہوتا سلوک ديکھا ہے ؟ چاہے بہر بڑی جمہوريت ہو جيسے امريکا يا بھارت

     
    • ابّو موسیٰ

      اگست 15, 2011 at 1:10 شام

      اجمل صاحب ، آپ کی دخل اندازی کا بہت بہت شکریہ !

      سب سے پہلے جیسے کے میں اوپر بھی تحریر کیا ہے اس سوچ کے محرکات صرف اک واقعہ نہی ہے، آپ اس گستاخ کو پیدائشی بد تمیز کہه سکتے ہیں. اس عمر میں جب بچے کو مذہب کیا ہوتا ہے کہ بارے ہی نہی پتا ہوتا ،محلے کے ہر دوسرے ، تیسرے گھر کے باہر پیالہ دیکھ کر والدین سے یہی سوال کرتا کہ "آخر ہم یہ برتن اندر کیوں نہی رکھ سکھتے ؟ یہ ٹوٹا والا کیوں ، نیا کیوں نہی ؟ وہ چائے پینے کے بعد خود کیوں اپنا برتن باہر ہی دھوتا / دھوتی ہے ؟ اسکو جب کھانا دیا تھا تو وہ سڑک پر کیوں بیٹھا تھا اندر کیوں نہی ” یہ سوال اس لیے اٹھتے تھے کہ جب گھر میں درس ہو کہ فقیر تک کو حقیر نا سمجھو تو یہ تضاد کیسا ؟

      مٹکے اور انکل کی دکان کے پیچھے ایک پوری پوری کہانی ہے (یہ واقعیات سندھ میں پیش ہے جہاں شہروں میں کافی بڑی تعداد میں ہندو بستے ہیں) . تو صرف بات ایک واقعیہ اور ایک شخص تک محدود نہی ، معاشرتی طور پر برابری کا تصور اگر نہی تو پھر پرچم میں اس کا حوالہ منفقانہ نہی کیا ؟ (اگر آپ بھارت کے جھنڈے کو دیکھیں تو اس میں مسلمانوں ( ہرے رنگ ) کو نیچے ہی رکھا گیا ہے ) تو پھر شکوہ کیوں ؟ ہمارے ہاں تو لگتا ہے یہ کام ذرا جلد بازی میں کیا گیا جب ہندوستانی اسمبلی نے جھنڈا منظور کیا تو ہمارے ہاتھ پاؤں بھی سوجھ گئے کہ ادھر بھی فاٹا فٹ بنا ڈالو اب چاہے وہ معاشرے کے مزاج سے میل کھاے یاں نہی ، آپ خود ہی گواہی دیجے کہ حقیت کیا ہے ؟

      جہاں تک غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے سلوک کی بات ہے تو کوئی بھی دلیل ہمیں ، ہمارے رویہ کو درست ثابت کرنے کی اجازت نہی دیتی کہ وہ بھی تو ایسے کرتے ہیں ! ہمیں تو اپنا گریبان دیکھنا ہے ،اگر ہم خود قابل تقلید ہوے تو شاید دوسرے پر تنقید کرتے اچھے بھی لگیں گے . اب دو ہی راستے ہیں یاں تو روایہ درست کرلیں ، یاں پھر اپنی پہچان . یہ منافقانہ حالت ہضم نہی ہوتی.

      امید ہے جواب میں ، اپنے ایک بزرگ کی گستاخی نہی کر بیٹھا .

       
  2. افتخار اجمل بھوپال

    اگست 15, 2011 at 5:26 شام

    ميں اس موضوع پر تفصيل ميں جانا مناسب خيال نہيں کرتا تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے ۔ جس علاقے کی بات آپ نے کی ہے وہاں معاملہ ہندو کا نہيں دولت اور رسوخ کا ہے ۔ وہاں محنت کش اچھوت سمجھا جاتا ہے ۔ ايک واقعہ جو ميں نے بہت پہلے لکھا تھا مختصر يہ ہے کہ جب بعد ميں قائدِ عوام کہلانے والا قيد سے رہا ہونے کے بعد پہلی بار لاہور کی ميکلوڈ روڈ پر ايک چھوٹا سا جلوس لے کر جا رہا تھا تو ايک درميانی عمر کے غريب آدمی نے شايد اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر اُسے چوم ليا ۔ بعد ميں قائدِ عوام بننے والا وڈيرے نے اُسے دھکا ديا ۔ وہ زمين پر گرا تو بعد ميں قائدِ عوام بننے والا اُسے ٹھُڈے مارنے کے بعد اُس کے اُوپر سے بھنگڑا ڈالتے ہوئے چلا گيا تھا ۔ اسی قائدِ عوام وڈيرے کی قبر پر لوگ چڑھاوے چڑھاتے اور منتيں مانتے ہيں ۔ اسی قائدِ عوام نے اپنے بعد ميں ليڈر بننے والی بيٹی کی آيا ہندنی عورت رکھی ہوئی تھی

     
    • ابّو موسیٰ

      اگست 15, 2011 at 5:47 شام

      اجمل صاحب، بات کرنے سے ہی بنتی ہے ، ہمارے بزرگوں نے بات تک نہی کی جس کا خمیازہ موجدہ نسل بھگت رہی ہے ، اور میں نہی چاہتا کہ اگلی نسل بھی میرے بارے میں یہی خیال رکھے.

      میٹر اور مٹکا ، لور اور مڈل کلاس کی نشانی ہے ، اور میرے سکول میں انہی طبقات سے بچے آتے تھے . بڑے طبقات میں یہ رجحان (برابری والے) کے ساتھ نہی ہے جبکے باقی طبقات میں برار والے کے ساتھ ایسا کرنا معمول ہے . موضوع کو بنا سیاسی رنگ دیے میں آپ کی رائے لینے میں دلچسپی رکھتا ہوں کہ کیا ایسا کرنا درست ہے ؟؟؟؟ اور ہے تو پرچم میں ہم ساتھ ساتھ کیوں ہیں ؟ کیوں نہی ہم نے سفید رنگ کو نیچے رکھا ؟

       
  3. Atif Salman

    دسمبر 31, 2011 at 11:51 صبح

    Maro Ghutna Phootay Aankh
    Yeh baat aaj apka mazmoon parh k samajh aai

     
  4. ابّو موسیٰ

    اگست 14, 2015 at 2:10 صبح

    Reblogged this on بے ربطگیان.

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: