RSS

شوق شہادت

29 جولائی


رحمان ڈکیت ، لیاری کراچی کا رابن ہڈ مشہور اور بدنام زمانہ مجرم ، جس کے ہاتھ اپنی سگی ماں سے لے کر ان گنت نا معلوم خونوں سے رنگے ہوۓ . ڈکیتی سے لے کر اغوا براے تاوان . رسہ گیری سے لے کر بھتا گیری تک ہر جرم میں ملوث . پر جب وہ ( جس طرح سے ) مارا گیا تو لیاری کے عوام کے لیے بہادر ہیرو بن گیا . لوگ اسکے جرائم کی لمبی فہرست کے باوجود اسے مظلوم بنائے بیٹھے ہیں. لوگوں کا اسکے لیے نرم گوشہ اسکی غریب پروری ہو یاں نا ہو پر اسکا انداز قتل اسکو شہید بنا گیا.

برصغیر کے لوگوں کی یہی نسفیات ہے کے بندہ چاہے جتنا بھی بڑا ظالم ، جابر ، مجرم ہی کیوں نا ہو اسکی مظلومیت اسکے باقی گناہوں پر چشم پوشی کروا دیتی ہے ( صدام حسین کی مثال بھی دور نہی ، اسکے انداز سزا نے اسکو بھی شہید بنا دیا ) . پاکستان کی مرکزی حکمران جماعت عوام کی اس نفسیاتی کمزوری کو با خوبی جگانا اور بعد میں اسے کمانا بھی جانتی ہے. چار سال تک عوام کو سپیرے کی بین اس آس پر کے شاید اب کچھ نکلے ، اب کچھ نکلے پر لگائے رکھنے کے بعد ، اب جب امتحان کا وقت بھی ختم ہو رہا ہے اور لکھنے کو کچھ سوجھ بھی نہی رہا تو خود کو یہ کہه کر کہ نگران نے غلط پھسا کر کمرے امتحان سے باہر کردیا ہے ورنہ سارے سوال حل کردینے تھے ، مظلوم ثابت کرنے کے پورے جتن میں ہے .. یہ جماعت جانتی ہے کیسے قبروں میں سویوں سے بنا جگائے بلوایا جا سکتا ہے اور معصوم عوام کیسے انکی آواز سن سکتی ہے قبر اور شہید کی سیاست کی ان سے زیادہ تجربہ کسی اور کو نہی ہے . پچھلی تین بار کی طرح اب کی بار بھی سیاسی شہدات کے چکر میں ہندی فلموں کے زخمی ولن کی مانند ہیرو کو مردانگی کی گالیاں دے کر مارنے پر اکسانے والے ہتکنڈے استمعال کر رہی ہے اور اب کی بار اس عظیم خواہش کو عملی جاماہ پہنانے کے لیے اعلی عدلیہ کا انتخاب کیا گیا ہے (کیسے؟ تفصیل سب کو معلوم ہے ) . (وقت سے پہلے) عدلیہ کے ہاتھوں قتل ہوکر عوام کو پھر یہی باور کروانا چاہتی ہے کہ لوگوں ، ہم مارے گئے ، ہماری حکومت کو ختم کر دی گئی ، ہم تو آپ کے لیے بہت کچھ کرنے والے ہی تھے کہ ہاتھ باندھ کر مار دیا گیا . لوگوں ، عوامی جماعت کی عوامی حکومت پھر سے شھید کر دی گئی ہے …

بہت سے تجربه کار سیاست دان اس بار پورا پورا موقع دے کر اس "عوامی جماعت” کو طبعی موت مرنا دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ بھوت کچھ عرصے بعد پھر سے کھڑا ہوکر سادہ لوح عوام کواپنے سحر میں نا جکڑ لے ، پر بہت سے نادان دوست ، حکمران جماعت کی چال کو غیرت کی للکار جان کر کبھی اول ذکر سیاستداوں کو بزدلی اور ساز باز کا تعنه اور کبھی عدلیہ کو ہوا دے رہے ہیں کہ بہت ہوا اب نکال باہر پھنکو ان کو . یہ دوست ، دانستگی نا دانستگی میں حکمرانوں کے مذموم عزائم پورے کرنے میں جتے ہیں … اب دیکھنا یہ ہے کہ کون ہوتا ہے کامیاب ، معصوم عوام کی آگے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اب کی بار پورا ہوتا ہے کے نہی یہ "شوق شہادت” !

Advertisements
 
1 تبصرہ

Posted by پر جولائی 29, 2011 in سیاسی

 

One response to “شوق شہادت

  1. Abdullah

    اگست 1, 2011 at 6:37 شام

    آپ نے غلط بندے کاانتخاب کیا،
    ہاں اگر اس کا تعلق ایم کیوایم سے ہوتا اور آپ اس کا آدھا بھی لکھتے تو یہاں کووں کا جمگھٹا اورکاؤں کاؤں دیکھنےکےقابل ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔!

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: