RSS

پناہ گزین

14 جولائی


والٹن ، لاہور کا مضافاتی سرحدی علاقہ جس کو شاید چونسٹھ سال پہلے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے . جب لاکھوں لوگوں جو اس اطیمنان کے ساتھ کہ وہ مستقبل کے پاکستان میں بیٹھے ہیں کو فرنگی چال بازی کی وجہ سے راتوں رات گھر سے بے گھر ہونا پڑا . جہاں جان اور عصمت کی لالے پڑے تھے تو کون کیا مال اسباب سمیٹتا پس چل پڑا محفوظ پاکستان، اپنے پاکستان کی طرف تو لاہور شہر سے باہر اسی والٹن کے مقام پر ہجرت کر کر آنے والوں کو ٹہرایا گیا. بے یار و مددگار ان ہی لاکھوں خاندانوں میں سے ایک میرے ابّا و اجداد کا بھی تھا ، ابّو مرحوم جب بھی ہجرت کا واقعیہ سناتے تو نا ہی وہ اپنے پیچھے چھوڑ آنی والی حویلی کا ذکر کرتے ، نا ہی زمینوں اور رہ جانے والی جائیداد کا رونا روتے ، اس سارے کوچ میں ان کو بس ایک ہی دکھ رہا کہ جب وہ والٹن کے کیمپ میں آ کر رکے تو امداد کرنے والوں سے زیادہ "پناہ گزین” کی سرکس دیکھنے والوں کا تانتا زیادہ بندھا رہا ، اگر کسی نے امداد کی بھی تو حب الوطنی سے نہی بلکہ پناہ گزینوں پر اپنی زکات خیرات نکالی ، لاکھوں خاندان اس امید پر کہ اپنوں (مسلمانوں) میں جا کر نئی دنیا آباد کریں گے مگر قدم قدم ہتکانہ انداز میں لفظ "پناہ گزین” ایسے سننے کو پڑتا جیسے دروازے کی گھنٹی بجنے پر چوکیدار کہتا ہے "بی بی جی ، فقیر آیا ہے” . محسن کش لوگ ہم ہیں نہی اور احسان مندی گھٹی میں پلانی بھولی نہی گئی ، پر جب زبان کا زخم ان سے لگے جن پر مان ہو تو وہ اور بھی گھاتک ہو جاتا ہے. ایک لفظ سے لاکھوں خاندان اپنے ملک میں آکر بھی پناہ گزین یعنی عارضی رہاشی ہی بن کر رہ گئے …

اتنے سالوں کے بعد یہ قصّہ کہانی دوبارہ دوہرائی گئی ، سندھ کے سپوت جناب مرزا صاحب نے چند ہفتے پہلے حلیف اور اب حریف سیاسی جماعت کو جوش خطابت میں اوقات یاد کراتے کہا ، "ان بھوکے ننگے "پناہ گزینوں” کو سندھ کی دھرتی نے ہی پناہ دی…”. نشانے پر بنی اس سیاسی جماعت سے نا تو میری گاڑھی چھنتی ہے اور نا ہی کوئی ذاتی بیر. پر وزیر صاحب کے بیان پر ممکنہ پرامن ردعمل پر (کیونکہ برصغیر کے لوگ شاید اپنی بے عزتی تو کسی مصلحت سے برداشت کر لیں پر اپنے بزرگوں کی کسی بھی قیمت پر نہی، تو رد عمل تو یقینی ہے اور شروع ہو بھی گیا ہے ) میری ہمدردی اس جماعت کے ساتھ ہی ہو گی . اس گھٹ بندھن کی شاید اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہی کہ برسا برس کے قیام ، یہی پر پیدائش اور قبروں میں اترنے کے با وجود آخر ہماری پہچان اور اوقات ہے کیا ؟ آئینی طور پر میں، میرے بچے پیدائشی پاکستانی ہیں پر کیا خبر پنجاب میں بسنے کی وجہ سے کل کو کوئی پوٹھوہاری ، لاہوری ، سرائیکی اٹھه کر یہ ہی نا بولے کہ آخر تم ہو کون ہمارے ساتھ رہنے والے ؟ ہم نے تم لٹوں پهٹوں پر رحم کھایا ، تم بھوکھے ننگوں کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا ، رہنے کو جگہ دی ، اب تم قبضہ ہی کر کے بیٹھه گئے ؟ حق جماتے ہو ؟ ہماری مہربانی تھی رکھا یہاں پر اب ہماری مرضی ہے جاؤ یہاں سے . میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اب جینا مرنا تو اسی دھرتی کے ساتھ ہے تو قبر سے نکال کر کہاں جائے گا یہ “پناہ گزین” ؟

Advertisements
 
15 تبصرے

Posted by پر جولائی 14, 2011 in ذاتی, سماجی, سیاسی

 

15 responses to “پناہ گزین

  1. یاسرخوامخواہ جاپانی

    جولائی 14, 2011 at 5:51 صبح

    بچپن میں یہ باتیں سننے میں ملتی تھیں۔
    لیکن خود پناہ گزین نا تھے۔
    اس لئے کبھی بھی ہجرت کرنے والوں کے دلی جذبات محسوس نا کر سکے۔
    اب خود مہاجر ہوئے تو آپ لوگوں کا دکھ محسوس ہوا۔
    میرے خیال میں ابھی بھی عوام میں مہاجر لفظ تعصب کے طور استعمال ہوتا ہے۔
    بحر حال ایسا تعصب رکھنے والے مخصوص لوگ ہی ہیں۔زیادہ تر بیچارے تو اپنی زندگی سے ہی تنگ ہیں

     
  2. Saad

    جولائی 14, 2011 at 6:44 صبح

    جناب آپ ان سیاسی مداریوں کی باتوں پر مت جائیں۔ یہ ملک سب کا ہے اور ہم سب پاکستانی ہیں بس

     
  3. افتخار اجمل بھوپال

    جولائی 14, 2011 at 8:19 صبح

    جب چُوزوں کی راکھی گيدڑ يا بھيڑوں کی راکھی بھیڑيا بٹھا ديا جائے تو يہی کچھ ہوتا ہے

     
  4. ابّو موسیٰ

    جولائی 14, 2011 at 3:25 شام

    یہ ملک ، سندھیوں ، پنجابیوں ، بلچوں ، پٹھانوں، مہاجروں ، فوجیوں ، سیاستدانوں ، امیروں ، غریبوں ، مزدوروں ، شیعہ ، سنیوں ، وہابیوں ، صوفیوں ، سیکلروں ، مسلمانوں ، کافروں ، طالبانوں ، اور تو اور شیطانوں کا تو ہو سکتا ہے ، معلوم نہی انسانوں کے لیے اس میں جگہ ہے بھی یاں نہی؟ کیوں کہ مجھ سمیت شاید ہی کوئی انسان ہو یہاں.

     
  5. Saeed Ahmad

    جولائی 14, 2011 at 3:42 شام

    جب تک ان بزرگوار جیسے جھوٹ پھیلانے والے اور سچ کا گلا گھونٹنے والے لوگ موجود ہیں آپ ملک کے یہی حالات دیکھتے رہیں گے،
    میں نے ان سے عمار ابن ضیاء نامی بلاگر کی پوسٹ پر ان کی غلط بیانیوں کے جواب میں کچھ سوالات پوچھے تھے جنکا جواب دینا انہوں نے گوارا نہ کیا تو میں نے براہ راست ان کے بلاگ پر اس پوسٹ پرجس میں انہوں نے دوسروں کی غلط بیانیوں کا شکوہ کیا تھا یہی سوالات پوچھے جو انہیں اتنا نا گوار گزرے کے میرے وہ تبصرہ ہی ڈلیٹ کردیا گیا
    سوالات یہ تھے،
    بزرگوار،آپکی غلط بیانیاں میں ایک طویل عرصے سے پڑھ رہا ہوں،اور عنیقہ بی بی و کئی دوسرے سمجھدار لوگوں کے بار بار آپکو آئینہ دکھانے کے باوجود آپ باز نہیں آتے،
    آپ فرماتے ہیں کہ،
    1984سے قبل ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ تھا،پھر ایم کیو ایم نے کراچی میں پٹھانوں اور پنجابیوں کی اس طرح نسل کشی کیوں نہیں کی جس طرح ان کی ان قومیتوں پلس ایجینسیوں کے ہاتھوں کی گئی؟
    اور وہ اب تک کراچی کو پنجابیوں اور پٹھانوں سے خالی کروانے میں کامیاب کیوں نہ ہوسکے ،جبکہ آپ کے اور آپ کے حواریوں کے بقول کراچی پر بلا شرکت غیرے ایم کیو ایم کی حکومت عرصہ دراز سے قائم ہے؟
    آپکے اس تبصرے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپکو مذہبی دہشت گردوں کا گندہ کردار دکھانے پر بے حد تکلیف ہوئی ہے اسی لیئے آپ نے ایسے بے سروپا الزامات عائد کیئے ہیں جن پر کوئی احمق بھی شائد ہی یقین کرے،
    اور میرا آخری سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے اتنے مظالم کے باوجود پٹھان اور پنجابی مسلسل اس میں کیوں شامل ہورہے ہیں،ہر گزرتے دن کےساتھ ان کی تعداد میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟

    ویسے میں آج کی دو خبروں پر بھی آپ کے تبصرے کا منتظر ہوں،
    پہلی خبر لاہور کی شمالی چھاؤنی سے دو من چرس برآمد ہونے کی ہے
    اوردوسری فیصل آباد سے ڈھائی کروڑ کی منشیات برآمد ہونے کی ہے
    کیا یہ سب بھی ایم کیو ایم کے لوگ کررہے ہیں؟

    آپ کے آخری سوال کا جواب بھی دے دوں کہ اگر پختونوں کا اسلحہ بردار ہونا کراچی کے قتل عام کا سبب ہے تو پنجاب میں سندھ سے کئی گنا پختون رہتے ہیں یہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟راولپنڈی میں پختونوں کی بڑی بڑی آبادیاں ہیں وہاں مار کٹائی کیوں نہیں ہوتی؟
    وہاں مار کٹائی کیسے ہوگی وہاں تو ان کے باپ بیٹھے ہیں،جو انہیں پالتے ہیں،
    پتلی گردن تو ہم کراچی والوں کی ہے،اور ہماری زمینیں باپ کا مال ہیں،
    آج مظہر عباس نے کیپیٹل ٹالک میں یہی بتایا ہے کہ کراچی کی قیمتی زمینیں اصل فساد کی جڑ ہیں،اورکامران خان بھی اپنے تفصیلی پروگرام میں بتا چکا ہے کہ لینڈ مافیا کے سرغنہ پٹھان اور سندھی ہیں، جبکہ پنجاب کی زمینوں پر تو پہلے ہی فوج اور ایجینسیوں کا قبضہ ہے،
    جب کمزور پر بس چل رہا ہو تو طاقت ور سرپرستوں کو ناراض کرنے کی حماقت کون کرے گا؟
    سعید احمد

    http://www.ibnezia.com/2011/07/blog-post.html#comments

     
    • ابّو موسیٰ

      جولائی 14, 2011 at 8:04 شام

      سعید صاحب ، اگر آپ نام لکھ دیں تو آسانی ہوگی ، باقی سیاق و سباق کا معلوم نہی پر کیا ہی اچھا ہو اگر ہم برائے راست لسانی جنگ نا کریں!

       
  6. fikrepakistan

    جولائی 14, 2011 at 4:24 شام

    بہت ہی افسوس کے ساتھہ کہنا پڑھہ رہا ہے کے مجھے ڈر ہے کہیں تاریخ اپنے آپکو نہ دہرا دے، جن لوگوں نے بنگالیوں کو غدار کہا آج انکی نسلیں حقائق جاننے کے بعد دل سے مانتی ہیں کے بنگالی حق پر تھے انہیں دیوار سے لگایا گیا تعصب برتا گیا جسکا نتیجہ پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔ وہ انیس سو اکہتر تھا اور یہ دوہزار گیارہ ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان بنایا آج انہیں اپنے ہی ملک میں یہ سب سننا اور سہنا پڑھہ رہا ہے، پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے علمبرداروں میں سے کوئی بتائے کے سندھیوں نے …………….

     
    • ابّو موسیٰ

      جولائی 14, 2011 at 7:35 شام

      بھائی ، معذرت کے ساتھ آپ کچھ الفاظ حذف کی گستاخی کر رہا ہوں . ہم سب کو مل کر سر جوڑنا ہے نا کے کیچڑ اچھالنا ہے … جتنے بھی گلے پھاڑ لیں ، ناخونوں سے منہ نوچ لیں ، پر آخر میں آنا بات چیت پر ہی ہے تو پہلے ہی اتنا آگے نا جائیں کہ بات کرنے کے دروازے بھی بند ہو جائیں. امید ہے آپ برا نہی منائے گے

       
  7. Malik

    جولائی 14, 2011 at 7:25 شام

    kia he acha hota k aj ap apni aziz party PMLN k haaliya karnamay pe bhe kuch likhtay.. firing … ap k bakol sub pe case howa.. and apkay wazir e kanon k baqol sub begunnah hain haha.. laiqen ap k baqool wo koi ghalat baat nhe thi..

     
    • ابّو موسیٰ

      جولائی 14, 2011 at 7:49 شام

      ملک صاحب ، کیا ہی اچھا ہو اگر گھر کی لڑائی گھر تک ہی رہے … بہر حال جس واقعی کی آپ نے نشان دیہی کی ہے وہ کراچی کے معملات کے آگے کچھ نہی کم از کم کسی نا حق کی جان تو نہی گئی نا!، کراچی کے معمولات بہت گھمبیر ہیں اور میری وہاں کی سیاست میں دلچسپی بھی زیادہ نہی پر مرزا صاحب کے بیان نے ہلا کر رکھ دیا میں واقعی یہی سوچتا ہوں کہ کل کسی راجہ جی نے کہا "پاپا جی جھلو ایہتھوں..” تو پھر میں کیا کروں گا ؟؟؟ آخر میری پہچان ہے کیا ؟ اور اگر یہ سلسلہ شروع ہو گیا تو پھر شاید چند لاکھ لوگ ہی پاکستان میں رہ جائیں گے . کچھ کو ہند ، کچھ کو عرب، کچھ کو شام ، اور کچھ کو افغانستان اور روس تک واپس جانا پڑے گا کیوں کہ کوئی نا کوئی کسی نا کسی ناتے یہاں پناہ گزین ہی ہے … اب آپ ہی بتائے کون سی بات زیادہ پریشان کن ہے ؟

       
  8. raza saleem

    جولائی 16, 2011 at 10:45 شام

    السلام علیکم ،
    پاکستان ھم سب کا ملک ہے ، جولوگ آپنی مرضی سے ہجرت کر کے آئے تھے ، اور جن کو تو یہ دھرتی
    راس گئی ہے ، وہ تو خوش خرمُ لیکن جن کو تنگی حالات کا سامنا کرنا پڑا ،ان لوگوں نے اس کے وجود کو
    قبول ، قبول ۔ نہیں کیا ۔اور وقت بے وقت یہ رونا روتے پائے گئے ہیں ، کاش ھم ادھر ۔ ناں ، آتے تو ھمارے
    حالات مختلف ہوتے ، اور یہ وہ ہی لوگ ہیں جو پاکستان کو آپنا ملک نہیں سمجتے ، تو پھر پاکستان ان
    کو اپنا شہری کیوں کر سمجھے،

     
    • Abdullah

      جولائی 22, 2011 at 6:39 صبح

      زہر اگلتے ہوئے بزدلی کا یہ عالم ہے،کہ کوئی پتہ نشان نہیں چھوڑا ہے سوائے ایک جعلی نام کے!!!!!
      انہوں نے یہ رونا بھی تم جیسوں کی سن آف دی سوائن والی حرکتوں کے بعد رونا شروع کیا،
      تم کون ہوتے ہو کسی پر یہ حکم لگانے والے کے وہ اس ملک کواپنا ملک نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟
      تم سے زیادہ انہوں نے اس ملک کواپنا ملک سمجھا،اور اپنی جان مال محنت سب اس کو بنانے میں لگادی،کراچی ایسے ہی تو کراچی نہیں بن گیا کہ جسے دیکھ دیکھ کر اب تم سب کی رال ٹپکا پڑتی ہے!!!!!!
      اور تم جیسوں کی اوقات کیا ہے،کہ یہ دعوی کرو کہ پاکستان انہیں اپنا شہری نہیں سمجھتا،یہ چند ذلیل لوگ ،جنہوں نے اپنےمفادات کے لیئے ایسے گھٹیاپروپگینڈے کیئے ہیں کیونکہ وہ ان کی ذہانت سمجھداری اورسیاسی شعورسے خوف کھاتے ہیں!!!!

       
  9. raza saleem

    ستمبر 7, 2011 at 7:00 شام

    سن آف اے سواہن ،
    واہ کیا گفتار فرمائی ہے ۔ لگتا ہے جرمن زبان
    پر بہت جلد عبور حاصل کر لو گے ، گڈ لک

     
    • ابّو موسیٰ

      ستمبر 7, 2011 at 8:31 شام

      رضا صاحب ،

      اگر آپ کے لیے جرمن بھی سیکھنی پڑی تو کر گزریں گے ورنہ الف، ب، پ ، تو سب کو پسند کے کیونکہ ہم اسے سے آگے پڑھنا اور بڑھنا چاہتے ہی نہی ہیں. پر مجھے آپ کی انگریزی سے اندازہ ہو گیا ہے کہ آپ ان میں سے نہی اور شاید آپ کے جنون سے دوسروں میں بھی شوق پیدا ہو جائے ..

       
  10. Shah Ji

    ستمبر 9, 2011 at 2:52 شام

    Read the booklet "Ya Khuda” by Qudrat Ullah Shahaab. That may seem similar to your story.

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: