RSS

تیلی کا لون

29 جون


سنہ اسسی کے اوائل کی بات تھی ، لاہور چھاؤنی کے نواحی علاقے برکی ہڈیارا میں ایک چھڑا چھانٹ شخص آ کر رہائش پذیر ہوا. مشکوک حرکات کے باوجود کسی نے کسی نے کوئی پوچھ تاچھ نہی کی کیونکہ مارشل لا کا دور تھا اور اوپر سے سرحدی علاقہ بھی ، تو لوگوں نے یہی گمان کیا کے پاک فوج کا کوئی خاص آدمی سادہ لباس میں علاقے اور لوگوں کی نگرانی کر رہا ہے . وہ روز ادھر اُدھر گھومتا اور واپسی میں ماجد عرف ماجے حلوائی کی دکان پر آ کر لسی پیتا ، ماجا لسسی بنانے سے پہلے ہر گھاہک کی طرح اُس سے بھی پوچھتا "باؤجی، لسسی مٹھی یاں لونی؟” (میٹھی یاں نمکین) اور وہ صاحب مٹھی کہه کر میٹھی لسسی سے لطف اندوز ہو کر اپنی رہائش پر لوٹ آتے. اسی معمول پر ایک کڑکتی دوپہر کو جناب ماجے حلوائی کی دکان پر پہنچے ، ماجے کی سوال "باؤجی، لسسی مٹھی یاں لونی؟” کے جواب میں یہ سوچ کر کہ گرمی کے توڑ کے لیے ہی سہی گویا ہوئے "چل یار اج لونی پیادے!” ، "باؤجی، لون کناں (کتنا) رکھاں ؟” ماجے نے مستعدی سے پوچھا، جواب ملا "یار زیادہ نہی بس تیلی دا پا دے” ( تیلی، اس وقت پنجابی میں پچاس پیسے کے سکّہ کو کہا جاتا تھا) اتنا سننا تھا کے ماجے کے کان کھڑے ہو گئے ، اس نے لسسی صاحب کو پیش کی اور ساتھ ہی دکان سے چھوٹے کو یہ کہ کر کھسک گیا یار باؤ ہوناں دا خیال رکھیں میں ذرا گھروں ہؤ آوان اور کسی نا کسی ذریعہ قریبی تھانے اطلاع پہنچا دی کے ایک بھارتی جاسوس دکان پر بیٹھا ہے کیونکہ جاسوس صاحب یہ سمجھنے میں غلطی کر بیٹھے کہ پاکستان میں اس وقت پچاس پیسے میں نمک کی تھیلی آ جاتی تھی اور وہ اس وقت بھارت میں نہی بیھٹے جہاں نمک بہت مہنگا تھا. اور یوں عادت یاں معصومیت میں موصوف جاسسوس صاحب دھر لیے گئے .

پچھلے دنوں ، ایک "ابھرتی” ہوئی پارٹی کے انقلابی لیڈر جناب "زمان پارک زئی” نے روڈ شو کا بینر اچانک تحریک ڈرون سے بدل کر ایسا رکھ دیا کہ میرے جیسے ماجوں کے کان کھڑے ہو گئے. یہی وہی نعرے تھے جو نوے کی دہائی میں جعلی "کالی بوتلوں” کے ایجنسی ہولڈر لگاتے ہوئے چند سو افراد کو اسلام آباد جمع کرتے، تھوڑا "اٹ کھڑکا” کروا کے "مقتدر حلقے” (سابقہ کالم کے شیخ صاحب ) عوام میں پائی جانے والی نام نہاد بےچینی کے نام پر اس وقت کی "نا پسندیدہ” حکومت کو ہٹانے کے لیے بنیاد بنا لیتے. اب ہم جناب لیڈر صاحب کی کی معصومیت کہیں یاں شیخ صاحب کی کم عقلی اور انکی قابلیت کی حد ( غالب امکان یہی ہے) کہ ہو با ہو وہی الفاظ استمعال کر لیے جو پہلےسے ہی اتنے ہی مشکوک ہیں جتنا کہ لفظ "کپی”. ان لیڈر محترم کے فیلڈرز کو تو ملک بچانے کا یہ نعرہ شاید اعلی ، عمدہ اور اچھوتا لگا ہو کیوں کہ ان کی زیادہ تعداد نے نوے کی دہائی میں یاں تو آنکہ کھولی یاں سکول جانا شروع کیا ہو گا ، لیکن میرے ہم عصروں کے شعور میں چار دفعہ تو یہ کھیل کھیلا ہی گیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ملک بچانے کے اس "فرمائشی نعرے” اورتیلی کے لون میں کوئی فرق نہی ہے اور دونوں سے خطرے کی بو آتی ہے . اب دیکھنا یہ ہے کہ بازی اسسی کا مڈل پاس ماجا حلوائی لے جاتا ہے یاں نئی صدی کے پڑھے لکھے نوجوان کیونکہ پاکستان میں ابھی بھی لسسی میں کوئی نہی ڈلواتا "تیلی کا لون” .

Advertisements
 
15 تبصرے

Posted by پر جون 29, 2011 in سماجی, سیاسی

 

15 responses to “تیلی کا لون

  1. Dr. Afaq Ahmad Qureshi

    جون 29, 2011 at 5:26 شام

    Correction: 2nd paragraph: In Punjabi ‘dheli’ was not 25 paisas but 50 paisas. 25 paisas were ‘chawanee’. Other than that, as I said earlier, my hats off. Very well done.

     
    • ابّو موسیٰ

      جون 29, 2011 at 6:16 شام

      محترم ڈاکٹر آفاق صاحب ، درستگی کا بہت بہت شکریہ ، دراصل جب یہ واقعہ میں نے سنا تھا تو اتنی ہوش نہی تھی کے دھیلے (تیلی) کی اصل قیمت یاد رہے ، میں نے اس تیلی کی اصل قیمت جاننے کی نیٹ پر بہت لاحاصل کوشش کی (جس کی وجہ سے یہ کالم ایک دن لیٹ بھی ہوگیا) پھر ایک بزرگ کی کہی کو درست مان کر پچیس پیسے لکھ دیے گئے. امید ہے غلطی کی صفائی قابل قبول ہو گی.

       
  2. Malik

    جون 29, 2011 at 8:13 شام

    sara mulk janta hay k Apni he army k khilaf kisi k kehnay ppe kis ne Morchay bana k RAW ka role pak ki hakomat mai beth k sambhala howa hay and pori dunya yeh bhe janti hay k dosray OBHARTAY HOWAY LEADERS( jo nojowaan nasal k sath sath poray mulk ki pasand bantay jareha hain ) pe ISI KA AGENT ka ilzam laganay walay kabhe khud dictators ki godh mai betha kertay thay.. jinka ana deen imaan yeh hay k pehlay sal kuch aur kahain ge dosray sal usi ko galiyan dain ge… ap ki kahani likhnay ka andaz acha hay laiqen ap jab apni kahani ko ik haqeqat se jorhtay hain tu ap bhol jatay hain k ap kisi ki payroll pe nhe balkay voluntarily likh rehe hain kion k ap ki likhai mai mjhe wo boo aa rehe hay jo aj kal punjab ki ik mashor badmash party k jalnay se ati hy..80 ki dahai ki baat se apko mulk k dushman tu nazar ae laiqen mulk k andar jamori nizam ko darham bharam kernay walay and us k saathi yad nhe ae…Middle class maja waisay bhe ab borha hogya hay us ki dunya ki otni samjh nhe ab khuda ra apni seat pe apnay bete ko bethnay ka moka de jo pora din bahir galion mai phirta rehta hay 🙂

     
  3. Shah

    جون 29, 2011 at 10:03 شام

    Malik… agr Majay ka beta bhi Maja hi nikla phir ???

     
    • ابّو موسیٰ

      جون 30, 2011 at 2:22 شام

      شاہ جی ، کیا ہی اچھا ہو ماجے کا بیٹا بھی ماجا نکلے ، مڈل پاس ماجے حلوائی میں اتنی فہم و فراست تو تھی کہ الفاظ سے ہی دشمن کا بھانپ لیا تھا ورنہ اگر عمل کا انتظار کرتا تو شاید جاسسوس کام دکھا کر رفو چکر بھی ہو چکا ہوتا ، پر آج کل کے منڈے "جعلی انرجی ڈرنک” کا جھانسا شاید اس وقت سمجھیں جب چڑیا چگ جائے گی کھیت

       
  4. افتخار اجمل بھوپال

    جون 30, 2011 at 11:51 صبح

    آپ نے اُس زمانے کا واقعہ رقم کيا ہے جب پاکستان ميں سب پاکستانی رہتے تھے ۔ ہمارے مہلے ۔ جھنگی محلہ راولپنڈی سے ايک ماشکی نے جو چِٹا اَن پڑھ تھا اسی طرح ايک جاسوس پکڑوايا تھا ۔ بدقسمتی پاکستان ميں رہنے والوں کی کہ اب کھال تو سب نے پاکستانی پہن رکھی ہے مگر اندر سے کوئی امريکی ہے کوئی بھارتی کوئی برطانوی اور کوئی سب کچھ ہے مگر پاکستانی بننا توہين سمجھتا ہے
    اللہ ميرے ہموطنوں کو چشمِ بصيرت عطا فرمائے

     
    • ابّو موسیٰ

      جون 30, 2011 at 2:32 شام

      افتخار بھائی ، ان سب کے ذمےدار ہم ذرا کم اور ہمارے بزرگ زیادہ ہیں، جو اچھے حالات میں بھی صرف اپنی دال روٹی کے چکر میں رہے یاں اپنی ذاتی پسند اور نا پسند کے چکر میں ریاست کے غلط فیصلوں کے خلاف چپ رہے ، اب کیا کا خمیازہ تو بگھتنا پڑتا ہی ہے چاہے وہ اگلی نسل ہی کیوں نا ھو، اسی امید پر لکھ ، بول رہے ہیں کے ہم نے تو جیسی تیسی بگھت لی پر اگلی نسل بچ جائے

       
  5. Waqas Yousaf

    جون 30, 2011 at 5:34 شام

    بہت عمدہ کالم۔۔ اسٹیبلشمنٹ واقعی آج کل عوام کو چکر دینے اور نواز شریف کا رومال اڑانے کے کھیل میں جتی ہوئی۔

     
  6. افتخار اجمل بھوپال

    جولائی 1, 2011 at 10:36 صبح

    يہ بات درست ہے کہ ميری ہمنوا نسل ميں کافی لوگوں نے ملک کے سلسلہ ميں حق نمک ادا نہيں کيا مگر موجودہ دور کی ابتدا 1968ء کے بعد ہوئی ۔ اس سے قبل بھاری اکثريت مُلک و قوم کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کو تيار رہتی تھی ۔ 1965ء کی جنگ کے حالات اس کا بيّن ثبوت ہيں
    موجودہ لوگ جو 35 سے 45 برس کے ہيں نے پيدل چل کر يا بسوؤ ويگنوں پر سفر کر کے تعليم حاصل کی ہے
    اب جو نسل تيار ہو رہی ہے وہ پيمپرڈ بے بيز کی ہے جو کار سے اُترتے ہيں اور کوشش ہوتی ہے کہ کار سکول کے پھاٹک کے اتنا قريب روکی جائے کہ پہلا قدم سکول کی حدود ميں رکھا جائے خواہ اس سے ساری ٹريفک بلاک ہو جائے ۔ يہ نسل انگريزی جانتی نہيں اور اُردو بھُلا چکی ہے ۔ مگر ايک نئی زبان بولتی ہے جس ميں انگريزی اُردو پنجابی کے ساتھ کوئی خود ساختہ زبان بھی شامل ہے ۔ ميں ان نوجوانوں سے گفتگو کرتا رہتا ہوں ۔ عام طور پر ان کا پہلا فقرہ ہوتا ہے "چھوڑيں جی ۔ پاکستان ميں رکھا کيا ہے ؟”
    پہلے انہيں يورپ اور امريکا کے سحر سے آزاد کرايئے پھر ہی پاکستانی بن سکيں گے

     
    • ابّو موسیٰ

      جولائی 1, 2011 at 3:02 شام

      افتخار بھائی ، آپ نے تو کئی محاذ کھول دِیے! جہاں تک 1968 تک کی نسل کی بات ہے تو بھائی افسوس کے ساتھ اس سے پہلے والوں نے پہلے وزیراعظم کے قتل پر، پہلے مارشلا لگنے پر ، پہلے بنگالی گونر جنرل اور بعد ازا وزیراعظم کو کس شرمناک نعروں اسی بزرگ نسل نے ہٹایا. اگر کسی نے اسی وقت کوئی پر اثر احتجاج کیا ہوتا تو شاید حالات یہاں تک نہی پہنچتے ، پر سب لوگ ساٹھ کی دہائی تک اپنی جھوٹی سچی جائیدادوں کے کلیم کے چکر میں رہے. ( ستر کی دہائی میں آپ دونوں ممالک کا تجزیہ کر لیں ، بھارتی لوگ اپنے حقوق کے لیے ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے اور ہم ملک توڑنے والے بڑے زمداروں کو دوبارہ ہار پہنانے کی تیاری کر رہے تھے ). موجودہ نوجوان نسل کا ستیا ناس بھی انکے بزرگوں نے کیا ہے ، جو بات گھر کے کھانے کی میز پر ، ڈرائنگ میں بڑوں کے منہ سے سنے گا بچہ تو اسی سوچ کو لے کر پروان چڑھے گا نا! نفرت اور پیار کا ڈھنگ بچہ بڑوں سے ہی سیکھتا ہے

       
  7. Afzaal Akram

    جولائی 7, 2011 at 1:22 شام

    IMRAN KHAN na kabi kisi k hath main pehle khaila tha, na abb khaile gha, or ye jo baat baat ap assign krne ki kr rahe ho totaly baseless hai, i was at PTI centeral office, when the PTI CEC meeting was going on thr, in which decide to turn the movement to border prospective frm just movement against drones attackes, becuase now PAKISTAN z on tht position whr we hv no option except this , othr wise we can aspect any in nxt 1.5 years

     
  8. Afzaal Akram

    جولائی 7, 2011 at 1:25 شام

    IK ka previous track record ap k samne hai uski base pe baat karain, or rahi baat farmaishi nare ki to han u right ye farmaishi nara he hai, or farmaish PAKISTANI awam ki hai, or kisi ki nahin, or iska responce me ne apni ankhon se Multan jalse main daikha tha Pakistan k nojawano or PAkistan ki awam ki tarf se, June k month me multan me 45 temp main thousnds of ppls ka ijtima is ki pizarai ka muh bolta saboot hai…. Drawing room main baith kr AC ki thandi hawa me PAKISTAN ki awam ki baat krna or kisi ko baghair kisi proper saboot blame krne se apko kuch nahin mile gha, we knew the realities

     
  9. Afzaal Akram

    جولائی 7, 2011 at 1:40 شام

    Where I Stand by Imran Khan

    It was Goebbels who came up with the brilliant theory that if the government wanted people to follow its policy, it must first instill fear in them and then slap all dissenters with the unpatriotic card. Anyone like me, who disagrees with the current indiscriminate military operation is accused of being a Taliban apologist. Let me state categorically that I have been against the military operations since the disaster of what was formerly the East Pakistan. From East Pakistan to the present Swat operation, the political mantra has always been “no option but the military”. Successive military operations in Balochistan have only added to the sufferings of the Baloch people, which nurtured the seeds of their disillusionment with the Pakistani state. When Bush decided to attack Afghanistan in less than a month after 9/11, I opposed this US policy at every forum, including through the print and electronic media. Later, when he ordered the invasion of Iraq, I joined the nearly 2 million marchers in London opposing the Iraq war. It is noteworthy that at the time, over 90 per cent of Americans supported Bush’s Iraq invasion. Today, the overwhelming opinion in the US is that Iraq was a disaster. Moreover, the so-called “good war” in Afghanistan is being lost and its support dwindling. It is not surprising to see the findings of a Rand Corporation study of the last 40 years of terrorist or asymmetric conflicts, which reveal that only 7 per cent of these conflicts were resolved through military means. When Musharraf buckled under the US pressure and sent the Pakistan Army into Waziristan, I opposed it in parliament and through the media. Speaking to the editors, Musharraf called me a “terrorist without a beard” – as if terrorism is the sole domain of bearded folk. When the Pakistan Army was sent into Waziristan, there were no militant Taliban in Pakistan. As a result of the Army operation, the tribal social and political structure was destroyed throughout Fata and Malakand, and the vacuum has been filled by nine major militant Taliban groups. Again, at the time Musharraf commenced military action in Balochistan I opposed it and was accused of backing the “anti-state” elements. Today, what was a movement for Baloch rights and autonomy within Pakistan has morphed into a Baloch independence movement. On opposing the Lal Masjid operation, some of the self-appointed “liberals” accused me of backing the Islamic fundamentalists. But soon most of the indefatigable crusaders for human rights joined the critics of the Lal Masjid operation. More sobering is the fact that there were 60 suicide attacks in the aftermath of the slaughter of the Lal Masjid inmates and a steep rise in extremism. The Swat flare-up is a direct consequence of the Lal Masjid operation. While discussing my opposition to the current military operation, I must state where I stand politically and ideologically. My political inspiration is derived solely from Quaid-i-Azam, Muhammad Ali Jinnah, the constitutionalist and democrat who believed in the rule of law above all else. My ideological moorings are firmly rooted in the political and spiritual dimensions of Allama Iqbal’s exposition of Islam, which not only liberates society from bondage but also the human soul from material desires – releasing the enormous God-given human potential. Above all, I am an ardent follower of our Prophet’s (PBUH) example of inspiring the heart and the intellect rather than forcing ideas through the sword – a far cry from what has been happening in Swat in the name of Islam. So on no count can I possibly either support the un-Islamic acts such as beheadings, flogging of women, or forcing a way of life on others, nor am I an apologist for such people – I am only answerable on this count to my conscience and to my God. As for my opposition to the Malakand military operation, first and foremost I believe that the military option, if it has to be used should always be a last resort. Yet in Swat, the military operation was started barely two weeks after the presidential signing of the accord without alternative political strategies being given a chance. In my opinion, a national conference of all stakeholders, including religious and political parties and groups, particularly those representing Swat, should have been called prior to the operation. A delegation from such a conference should have been mandated to visit Swat and talk reason to the militants and report back to parliament. In other words, every effort should have been made to make the militants abide by the peace deal. All along the political effort, a concerted effort should have been made to gain time to revive civil administration, police, and the paramilitary presence in Swat. The diehard militants who consistently refused to adhere to peace agreement could have been isolated over time – a key counter-insurgency tactic followed by precise military action to decapacitate the leadership. Assuming, there was no alternative to the military option, then while it was being planned, arrangements should have been made for the people who were going to be displaced. Sadly, and shamefully, the military operation began suddenly under increased US pressure, timed with Zardari’s US visit and with the least concern for the people of the area. The unfolding tragedy that is taking place in Swat is mindboggling. To flush out a few thousand militant Taliban, more than two million people have been forced to live in misery in camps not fit for animals in civilised societies. Even more disturbing is the use of heavy artillery shelling and bombing from the air alongside helicopter gunships in areas with significant civilian population. Despite a heavy blackout, the news coming from the war zone tell tales of dozens if not hundreds of innocent civilian casualties. Given the collapse of governance in the country, can we adequately look after so many displaced people – especially as summer temperatures soar? And for how long? The wheat crop has already been lost. If the IDPs cannot return within two months, the fruit cash crops will be at risk. Hence how will they sustain themselves for the coming year? Perhaps most dangerous is the possibility of IDPs’ anger and frustration that besides resulting in riots may also swell the ranks of the militants. In such a situation, according to the Army briefing given to the parliamentarians, there is every possibility of the Taliban resurfacing not just in Malakand Division but elsewhere in the country – possibly the urban centres. Can we afford further spread of terrorism in our cities given the precarious security and fragile economic situation? Military action breeds more militancy. An Army action which has already led to almost 2.5 million displaced countrymen cannot simply be accepted without questions. And, as if we do not already have a crisis, Zardari has declared that the war in Swat is merely the beginning of a wider war, which is likely to engulf other parts of the country. It is time to take stock and stop ourselves from committing collective suicide. What needs to be done is the following: * The military action unfortunately is already underway but there is no political, particularly governance, strategy which is guiding this operation. That should be the first priority so that the military action does not continue in a political vacuum. * A clear governance and political strategy that allows the IDPs to return following a swift end to military operation is needed. This strategy should be focused on a system of speedy justice through the Nizam-e-Adl and effective civil administration. The writ of the state and the rule of law go together and this has to be ensured if violent challenges to state and government are to be avoided in the future. * The military action, if at all, should have been extremely limited in scale and targeted with precision to minimise civilian casualties. Tragically, this did not happen and my fear is that widespread use of aerial weapons would only result in greater civilian casualties, swelling the ranks of the militants. So the military action needs to be revised to focus more on specific targeting and commando action. Will any of this happen? Unfortunately in the present mood of the ruling elite, this does not seem likely. Instead, we will see increasing military action in the tribal areas as long as the US is in occupation of Afghanistan. In other words, as long as US troops in Afghanistan are perceived to be an occupying force that is anti-Pushtun and anti-Islam, there will be no peace in this region. We are heading in a fatal direction unless we change our strategy and pull out of this insane war that is sinking us into chaos. The longer this persists, the deeper we will find ourselves in this quagmire and we will confront a deeply divided society. Finally, my heart bleeds for the poor soldier confronting his own people turned into misguided and brutalised militants and giving his life for a war wrought on him by a corrupt and decadent ruling elite that cannot see beyond the lure of American dollars that have become as much of a curse for this hapless nation as the criminal extremists in our very midst.
    Author Name

    Imran Khan

     
  10. Afzaal Akram

    جولائی 7, 2011 at 2:10 شام

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: