RSS

خدا کا سا جگرہ

20 مئی


رفیق احمد چھوٹے سے کاروبار کا واحد مالک اور خوشحال آدمی تھا ، بڑوں نے مناسب سمجھا کہ اس سے پہلے لڑکا ہاتھ سے نکل جائے اسکی شادی کرکے کھونٹے سے باندھ دیا جائے ، اور کم عمر رفیق احمد اپنی رفیق حیات کے ساتھ زندگی کے نئے سفر پر گامزن ہو گیا. جیسکہ نئی نئی ازدواجی زندگی میں ہر جوڑے کے ساتھ ہوتا ہے گھومنا پھرنا ، کھانا پینا ، موج مستی کرنا ، الغرض "فکر نا فاقہ ، عیش کر کاکا…” سونے پر سوھاگہ ، رفیق احمد کی رفیق حیات اس فلسفے حیات سے متاثر تھیں "کہ زندگی دو چار دن کی ہے ، اسے کھل کھیل کر کے جینا چائیے.” اس طرح رفیق صاحب کام دھندے کی رفاقت سے دور اور رفیق حیات سے زیادہ قریب رہنے لگے .. پانچ برس میں رفاقت کے چارعدد نتائج مثبت اور کاروبار کے منفی رہے .. نصف درجن کنبے کے ساتھ بھی کھبی دورافتادہ پر فضا مقام ، اور ہر دوسرے تیسرے روز بیرونی طعام ، حیثیت سے بڑھ کر پہناوا اور دوسروں سے اعلی ملنساری کا دکھاوا …مختصراً اس فانی زندگی کے لمحات کو تو لافانی اور یادگار بناتے گئے پر ساتھ ہی سلسلے روزگار بھی یادگار بن کر رہ گیا….خوشحالی سے سفید پوشی میں آتے اتنا ہی وقت لگا جتنا غروب آفتاب سے گپ اندھیری رات تک . ایسے میں قریبی رشتےدار، صاحب ثروت سیٹھ اکرام صاحب پرانے رشتوں کا بھرم رکھتے ہوے خاندان رفیقاں کی امداد کرتے رہے …وہ جو کہتے ہیں نا چھٹتی نہی کافر منہہ کو لگی ہوئی ،دو طرفہ سلسلہ امداد اور اخراجات چلتا رہا اور اب تو تھا بھی مال مفت دل بے رحم جیسا احوال .. شروع شروع میں تو اکرام صاحب کا رویہ عمومی سا تھا ، پر آہستہ آہستہ رفیق صاحب کے گھر کے ہر معاملے میں انکی رائے خصوصی ہوتی گئی . بچے کے چلنے کے انداز سے لے کر انکو سکھلائے جانے والے آداب تک ، یہاں تک کہ کن رشتے داروں سے رکھنی ہے شناسائی ، کن کی میتوں کو کندھا دینا ہے یاں کس کے شادیانوں میں کان تک بند کر لینے ہیں؟ اور بچوں نے کہاں تک اور کن مضامین میں کرنی ہے پڑھائی؟ , وہ جب گھر آتے تو کبھی نرم اور کبھی گرم انداز میں بتاتے کہ سلیقہ کیا ہوتا ہے رواداری کیا ہوتی ہے ؟ حد یہ کہ کبھی کبھار رات گئے بنا اطلاح گھر آ کر کہه دیتے کہ میرا یہ مہمان دو دن آپ کے ٹہرے گا ، اسکا خیال رکھنا. مختلف انداز سے شعورً یاں لا شعورً جتلانے کی یہ بات بھی شاید فطری ہوتی ہے کہ دینے والے کا خدا کا سا جگرہ کبھی نہی ہو سکتا جو خاموشی سے بس دیتا ہی چلا جائے اور جتلائے نا بتلائے نا … انفرادی ہو یاں اجتمائی انسانی فطرت ایک جیسی ہی ہے ، جتلانے کی عادت اسکی گھٹی میں ہے .

یہ کہانی صرف ایک رفیق احمد تک ہی نہی محدود ہے ، اگر سطحی طور پہ دیکھیں تو ہمیں اپنے ارد گرد سینکڑوں خاندان رفیقاں ملیں گے ، اور اگر وسعی طور پر دیکھیں کئی ممالک ہمیں رفیق احمد ہی نظر آئیں گے . ہم بھی انہی میں سے ایک اجتمائی رفیق احمد ہی ہیں . ہمارے بڑوں نے کم عمری میں ہی ایک اکھڑ، لاڈو ، من موجی ادارے کو ہمارا سدا کا رفیق حیات بنا دیا ، کچھ اس کے ناز و نخروں اور کچھ اپنی کم عقلی کی وجہ سے اللے تللوں کے اتنے عادی ہوگئے کہ بلا آخر ہمیں عالمی سیٹھ اکرام کو اپنا سگھا سمبندھی بنانا پڑا . جب راشن اسکے پیسوں کا ، جب اسلحہ اس کا ، سیلابوں طوفانوں میں ہم اسکے مہتاج ، امن میں بھی اس کے آنے کی آس کیوں کہ ہماری سفید پوشی اسی کے دم سے ہے ہماری عیاشی اور جیب کی گرمی اسی کے دم سے ہے .. تو پھر جب ہم نے اپنی کل خود مختاری بالرضا سیٹھ کو دے دی تو پھر یہ شکوہ کیوں کہ وہ ہم کو اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر اپنے پسند کے ملک (ایران) سے تجارت نہی کرنے دیتا یاں وہ آ کر ہمیں سکھاتا ہے کہ کیا اور کس سے واسطہ ہمارے لیے سہی ہے یاں نہی یاں پھر یہ بھی بتاتا ہے کہ سلیقہ (ٹیکس اکھٹا کرنا ) کیا ہے ، یاں پر دو مئی کی طرح رات گئے اپنے کسی مہمان کو چھوڑنے یاں لینے آ جاتا ہے تو پیشگی اطلاح کا واہ ویلا کیوں ؟ ہمیں معلوم ہونا چائیے کہ ہمارا ہاتھ نیچے ہی رہتا ہے اور دینے والا کسی نا کسی انداز میں جتلاتا رہتا ہے ، بتاتا رہتا ہے کہ تم میرے محتاج ہو اور میرا ہی دیا کھاتے ہو ، کیوں کہ فرد ہو یاں ملک ، کسی کا بھی نہی خدا کا سا جگرہ ….

Advertisements
 
5 تبصرے

Posted by پر مئی 20, 2011 in سماجی

 

5 responses to “خدا کا سا جگرہ

  1. Aslam Mir

    مئی 20, 2011 at 1:29 شام

    Beautiful! Very relevant!

     
  2. Mian Tariq Hanif

    مئی 20, 2011 at 3:11 شام

    Bohat hi natural baat kahi ha.Bohat important baat itney saada andaaz mein keh de.mein aap ki tahreeron ka regular reader hoon,aap bohat hi acha likhety hein.Jab Imdaad lein gy to phir kaisi azadi aur kaisi self respect.

     
  3. م بلال

    مئی 21, 2011 at 1:51 صبح

    بہت خوب جناب۔ ایک اور زبردست پوسٹ ہے۔ آپ کا اندازے تحریر ایسا ہے کہ کچھ پڑھنے کا موڈ نہ بھی ہو تو اگر ایک دو جملے پڑھ لیں تو پھر پڑھنے کو دل کرتا ہے۔
    بات آپ کی بالکل بجا ہے۔ جب ہمارا ہاتھ ہی نیچے ہے تو پھر ہم ان کو آنکھیں کیسے دکھا سکتے ہیں؟ بلکہ آنکھیں دیکھانا تو دور اب تو جینا مرنا ان کی مرضی سے ہے۔ شاید کہ ہمارے حکمرانوں کو عقل آ جائے اور انسانوں جیسی پالیسیاں بنائیں۔

     
  4. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    مئی 23, 2011 at 12:02 صبح

    بھائی صاحب!

    بہت کیا کبھی کسی نے ہمارے زخموں پہ نمک چھڑک دیا مگر آپ نے تو پورا ہاتھ ہمارے زخموں گھسیڑ دیا ہے ، حد ہے۔

     
  5. Naeem Ullah

    مئی 25, 2011 at 1:51 شام

    Very nice Khurram bhai, Excellent

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: