RSS

کاش

10 مئی


کمره عدالت کهچا کهچ بھرا ہوا تھا ، آج مشهور زمانہ ڈکیت ، راہزن ، کئی مصّوم لوگوں کے قاتل اعجاز عرف "جیرے” کا فیصلہ متواقع تھا اور کمرے میں مجود ہر شخص کسی نا کی طرح اسکے ظلم کا شکار تھا . جج صاحب تشریف لاے ،مقدمے کی سنوائی ہو چکی تھی بس اب فیصلہ سنایا جانا تھا ، حسب توقع مجرم کو سخت سے سخت سزا یعنی تا دم موت تخت دار پر لٹکاے جانے کا حکم ہوا، اس موقع پر منصف نے جیرے سے پوچھا "فیصلے کے خلاف یاں اپنے حق میں مزید کوئی بات کہنا چاہو گے ؟” مجرم نے جواب دیا "جناب والا ، میں اپنے تمام گناہوں کا کفارہ سمجتھے ہوے آپ کی دی ہوئی سزا کو قبول کرتا ہوں ، بس حضور ایک گزارش ہے که میں اپنی ماں کو قریب سے بنا کسی رکاوٹ ملنا چاہتا ہوں ، کیوں کے جیل میں تو سلاخیں حایل ہونگی اور شاید یہ رکاوٹ میری سزا پر عمل کہ بعد ہی ختم ہو ” جج نے اسے انسانی و جذباتی معاملہ جانتے ہوے ، مجرم کی ماں کو کٹہرے کے پاس آنے کی اجازت دے دی..” ماں کے قریب آتے ہی مجرم کود کر کٹہرے کے پار آیا ، اپنے بیڑی زدہ بھاری پاؤں سے اسکے پاؤں مسل ڈالے ، اپنی ہتھکڑیوں کے نوکیلے حصے اسکے دونوں کانوں میں ایسے پویست کیے کہ کانوں سے خون رسنے لگا ، ساتھ ہی اسنے اپنے دانت ماں کے دائیں ہاتھ پرکچھ اس طرح سے گاھڑے کہ ہاتھ سے گوشت کا ٹکڑا الگ ہوگیا… باقیوں کی مانند ، سینکڑوں پولیس اہلکاروں بھی سکتے میں آگئے اور اس کیفیت سے باہر نکلتے ہی مجرم کو بمشکل قابو کیا ، پر تب تک ماں کی حالت کافی نازک ہو چکی تھی اور جیرا سرعت کے ساتھ اپنا "کام” مکمل کر چکا تھا …اپنی سگی ماں کے ساتھ جیرے کا یہ سلوک دیکھ کر عدالت میں سب لوگ شدد رہ گے . مجرم کو واپس کٹہرے میں لایا گیا، جج نے گرجتے ہوے کہا "تم جیسے وحشی سے اب یہی امید رہ گئی تھی ، تم نے اپنی ماں جیسی مقدس ہستی تک کو نا بخشہ، اگر میرے پاس موت سے بڑی سزا ہوتے تو آج تم کو سنا دیتا!” پر ملزم کیے پر نادم ہونے کی بجائے بولا ، "جناب والا ، بیشک قانون کی نظروں میں میں ہی مجرم ہوں ، پر داراصل ان تمام کردہ گناہوں کی اور میری مجرم میری یہ ماں ہی ہے . کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں پیدائشی مجرم ہوں ؟ یقینن آپ کا جواب نفی میں ہی ہوگا تو میں کیسے اعجاز سے جیرا بن گیا ؟ جناب والا، میری موجودہ حالات کی ذمدارکوئی اور نہی یہ عورت ہی ہے ، میں نے اسکو سماعت سے محروم اس لیے کیا کیونکہ بچپن میں جب بھی محلے کے لوگ میری چھوٹی چھوٹی شرارتوں اور نقصانات پر شکایت لے کر آتے تو اپنے لاڈلے کی ہر برائی سنی ان سنی کر دیتی تھی ، جج صاحب اس ماں نے کبھی بھی قدم اٹھا کر یہ دیکھنے کی زحمت نہی کی کہ اسکا نو عمر بیٹا کہاں اور کس سنگت میں جا رہا ہے اسی لیے آج میں نے وہ پاؤں بھی زخمی کردِیے ، اور حضور اگر پہلی نا سہی ، دوسری تسسری یاں چوتھی غلطی پر یہ ہاتھ میرے پر اٹھا ہوتا تو شاید آج میں اس کمرہ عدالت میں کٹہرے کی جگہ اس اعلی مرتبہ مقام پہ بیٹھا ہوتا … پر جج صاحب ، کاش اس ماں نے اپنا فرض سہی وقت پر پورا کیا ہوتا ، کاش! ” اور جیرا زاروقطار رونے لگا….

میری گزشتہ تحریر "اپنی جاں نظر کروں؟” کی وجہ سے جا ہاں پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، بہت سو نے سراہا , وھیں کچھ خیر اندیش لوگوں نے اپنی آرا کے ڈھکے چپھے الفاظ میں اور کچھ نے براۓ راست ای میل کے ذریعه "غدار” اور ملک دشمن جیسے القاب سے نوازنے کی مہربانی کی ہے ،اگر حب الوطنی جانچنے کے ان کے پیمانوں کو مدنظر رکھا جائے تو شاید اس ملک میں صرف چند لاکھ ہی محب وطن ہوں..پھر باقیوں کا کیا کیا جائے ؟؟؟ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی مخصوص ادارے میں لوگ نا ہی پڑوس سے بھرتی کیے جاتے ہیں کہ ہم ان پر ہروقت ، موقع بے موقع لٹهھ لے کر پڑے رہیں اور نا ہی انکا اندراج سیدھا جنت سے ہوتا ہے کہ ہم انکی ہر بات ، ہر عمل پر لبیک کہتے رہیں …. ہمارے معاشرے میں جس کا میں بھی فرد ہوں ، کوئی نا کوئی ، کبھی نا کبھی ، چھوٹی یاں بڑی ، انفرادی یاں "اداری” غلطی کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہاں تک پہنچے ہیں. پر ایک مخصوص ادارے کو ملک کے سیاہ او سفید کے فیصلہ کرنے کا بلاواسطہ یاں بلواسطہ فرض زیادہ ملا ہے. اب جس کا جتنا بڑا رتبہ اور کردار ہوتا ہے اتنی ہی بڑی ذمداری بھی ، اور اسکی طرف اٹھنے والی انگلیوں کی تعداد بھی … اس ادارے میں قوم کے ہی لخت جگر، بھائی ، بزرگ اور بیٹے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، اب قوم کے پاس دو ہی راستے ہیں ، اول ہم گاندھی جی کے تین بندر بن کر انکی ہر برائی ، غلطی یاں غفلت پر کچھ نا کہو ، کچھ نا سنو ، کچھ نا دیکھو کے اصول کے مطابق اپنی زبان ، کان ، آنکھ بند کر لیں اور حب وطنی کی سند حاصل کر لیں یا پھر اک حقیقی ماں کے روپ میں اچھے اور جائز کام پر تھپکی اور غلط پر سرزنش کرتے رہیں ؟ تاکے کل کو دنیا کی بھری عدالت میں ہمارے سپوت اپنی ماں کو کھڑا کر کے یہ نا کہتے پائے جائیں کہ "کاش ماں تو نے ہمیں روکا ٹوکا ہوتا ، کاش!” .

نوٹ: اس تحریر کی بنیاد فراہم کرنے پر ، میں اپنی سب سے بہترین دوست ، ناقد اور مداح ، اپنی شریک حیات کا ممنون ہوں.

Advertisements
 
5 تبصرے

Posted by پر مئی 10, 2011 in سیاسی

 

5 responses to “کاش

  1. raza saleem

    مئی 10, 2011 at 8:34 شام

    جناب آپکے کہنے پر میں نے آپکی کاش پڑی ہے ، اگر یہ افسانہ نما تحریر طبح ازاد ہے تو بہت آچھی ہے ۔
    آپ آپنی کوشش جاری رکھیں ۔ آور خیال رہے جو بھی لکھیں دل سے لکھیں

     
    • بے ربطگیاں

      مئی 10, 2011 at 8:57 شام

      محترم سلیم ، آپ کی پسند دیدگی کا شکریہ ، دل کہتا ہے تو ہی انگلیاں چلتی ہیں ، اور جھوٹ لکھا اور پڑھا اک حد تک جا سکتا ہے … افسانوی تہمد باز دفعه اس لیے بھی ضروری ہو جاتی ہے کیونکہ ہم سیدھی اور بلاواسطہ بات سننے کی ہم کو عادت ہی نہی ہے …..، میں ، آپ ، ہم سب چسکا قوم ہیں …..ہے بھی ذرا مسالہ تھیکہ رکھنا ، کیوں ہیں نا ؟

       
  2. Mian Tariq Hanif

    مئی 10, 2011 at 9:20 شام

    its a very good article .In common life you are very right to your point of view.But in specific situation like Pakistan we can not criticize Army.You know Pakistan is on war like situation with India since its creation. .so we should take some care while criticizing our Army.

     
  3. wasim pardesi

    مئی 13, 2011 at 5:36 صبح

    I love my army but I hate those generals in the army who have no desire or ambitions to protect and safe guard us but rather their main aim is to grab all of the best plots in DHA before retirement, they are misusing American aid to build their own empires. They are spending the hardworking civilian tax payer’s money as defense budget on their personal benefits and at the same time they don’t want to have a audit of this budget. And shamefully they call these tax payers as "Bloody civilians”.

     
  4. Asif

    مئی 15, 2011 at 4:30 شام

    Pakistan has been badly damaged/exploited by the dirty nexus of army and USA

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: