RSS

اپنی جاں نظر کروں؟

06 مئی

ویسے توجہاں لکھنو والے ادب و آداب ، ذوق فونوں لطیفہ کی وجہ سے داد پاتے ہیں وہیں لکھنوی بانکے اپنی "برداشت اور تحمل” کی مناسبت سے شہرت رکھتے ہیں اور وہ کھلے بندوں دھینگا مشتی اور مغلیاظ سے اجتناب برتتے ہوۓ مقابل کی لچ سے لچ حرکت بشمول ہر جسمانی حملے پر بھی اس تنبیہ "اب کے مار ، میرا تاؤ آے گا….” پر اکتفادہ کرتے ہیں .میں یہ کہنے کی گستاخی نہی کر سکتا کہ شاید ہماری ساری کی ساری عسکری، ” حکمران سیاسی” قیادت اور نوکر شاہی لکھنو کے ان بانکوں سے بہت متاثر لگتی ہے اور آمرا و جاناں انداز میں لگاتار یہی الاپ رہی ہے "آئندہ ایبٹ آباد جیسا کوئی عمل برداشت نہی کیا جائے گا…” شاید اس دفعہ بات میں سنجیدگی بھی ہو اور وہ ایسا کر بھی دکھائیں . پر بہادری اسی وقت آتی ہے جب دامن صاف ہو.. ادھر تو اک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرے جھوٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے… اک ہی دن ، اک ہی عمل کے جواب میں مختلف آرا سامنے آ رہیں ہیں… افسری اور عسکری زبان آپس میں میل ہی نہی کھا رہی ، ایک کہتا ہے ریڈار جام کردِیے گے تھے اور دوسرا اسی سوال پر پیڈسٹل فین کی طرح گردن دائیں بائیں گھما رہا ہے. "ہمیں اسامہ کے بارے میں کچھ نہی پتا تھا” تو اسی خبر کے ارد گرد یہ فخریہ اعلان موجود پایا جاتا ہے "ہماری ہی اطلاعات پرامریکا آپریشن کرنے کے قابل ہوا”

مجھےاور میری قوم کو اس بات سے کوئی غرض نہی رہی کہ کونسے معملات تہه تھے اور کونسے نہی ، کیا پتا تھا اور کیا نہی …کیا سچ اور کیا جھوٹ ، نا ہی اس بات سے سروکار کے آئندہ کسی ایسی کروائی پر ردعمل ہوگا یاں نہی اور نا ہی کسی کی نیت پر شق کرنے کی جسارت ہے .. بس عرض و غرض اتنی ہے کہ کوئی ذھنوں میں اٹھنے والے ان چند سوالات کے جواب دے دے جو کم از کم میری دسترس سے باہر ہیں ، ہوسکتا ہے کہ رات کے آخری پہروں "میرے عزیز ہم وطنوں .. .” کی صدا کے بےچین طالب ان کا جواب دے پائیں ..

یہ قوم جاننا چاہتی ہے جب بچے ، بڑے ، مرد ، عورت آٹے کی لائن میں لگے ہوتے ہیں تو کس کے گودام دو ، دو سال کے راشن سے بھرے پڑے ہوتے ہیں؟ . جب بجلی کے شارٹ فال سے کارخانے بند ، روزگار بند ، نا دن کو کوئی کام نا رات کو کوئی آرام تو کن کن بڑے علاقوں کے بلب مسلسل جل جل کر فیوز ہو جاتے ہیں؟ … جب لا کھوں غریب کسانوں کی فصلیں ڈوب رہی ہوتی ہیں تو بند کس انتہائی اہم جگہ کو بچانے کے لیے توڑ دِیے جاتے ہیں ؟ جب فنڈز کی عدم دستیابی پر کئی عوامی منصوبے روک دے جاتے ہیں تو کن کو مالی سال کے آخری اوائل میں بھی ترقیاتی بجٹ سے ہنگامی کٹوتی کر کے نواز دیا جاتا ہے؟ جب غریب کو دال سبزی تو کجا ، روکھی روٹی بھی کھانے کو میسر نہی ہوتی تو کن کے "میس کے دسترخوان ” من و سلویٰ سے سجے ہوتے ہیں؟ جہاں عوام کو خالص اجناس اب خواب میں ہی نظر آئیں تو کن کے لیے "اکاڑوی فارمز” پر محنت کی جاتی ہے؟ تاکہ انکو اصلی اور خالص دودھ تک ملے” .

شاید یہ سب کچھ ہم ان عظیم لوگوں کے لیے کر رہے ہیں، جب عربی ، ازبک ، تاجک ، چیچین الغرض دنیا بھر کے "مصّوم طالبعلم” ہمارے مغربی سرحد پر اپنے "تعلیمی درسگائیں” بنا رہے تھے تو یہ عظیم لوگ دن رات ایک کر کے "خطرناک” لوگوں کو دھڑا دھڑ پکڑ کر "مسنگ پیپل” بنا کر ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے تھے . جب پرامن اسامہ اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو رہا تھا تو تقریباً اسی دور میں ، یہ اعلی سوچ کے حامل افراد سابق بلوچ "باغی وزیراعلی” کو کچھ ایسا سبق سکھانے میں مصروف تھے کہ انکو پتا بھی نا لگا کہ کیا چیز کہاں سے انکو "ہٹ” کرگئی . ہمارے آنکھوں کے تاروں نے دارلخلافہ کے بیچوں و بیچ مسجد نما لال عمارت کو صبح صادق اپنی جان پر کھیل کر "مسلحه خاتون دہشت گردوں” سے بازیاب کروا کے ملک کو ممکنہ خطرات سے بچایا تھا ، یہ بھی کارنامہ کچھ کم ہے کہ جب چند نیک دل حضرات غیر شرعی عمال سے سوات کو پاک کرنے کے لیے اکھٹے ہونا شروع ہو رہے تھے تو ہمارے مجاہدوں کو اس جنتی مقصد میں حائل ہونا مناسب نا لگا اور پوری توجہ کالے کوٹوں والوں کے کالے ارادے ختم کرنے پر مرقوض رکھی … صفحات ختم ہو جایئں گے ، سیاہیاں ناپید ہو جائیں گیں ، لکھتے لکھتے ہم تھک جائیں گے ، پران عظیم ، ہر گھڑی تیار جان نثار ، ہمارے موحسنوں کے کارناموں کی فہرست ختم نا ہو پاے گی جن سے قوم ان کو فرصت دیتی تو کسی اور طرف دیہان جاتا نا .. اور انہی کارناموں کے عیوض ساری قوم کو یکسو ہو کر انکی خدمت کرتے رہنے چائیے اور اس ہلکی سی غفلت پر سوال جواب کی گستاخانہ حرکت نہی کرنی چائیے. حقیقت تو یہ ہے کے ہمارے نذرانے انکی خدمات کے کے شایان شان نہی اور مذکورہ عظیم ترین افراد کو ملک و قوم کی حفاظت جیسے حقیر کام کی یاد دہانی کے لیے ہم پر فرض ہے کہ سب یک زبان ہو کے کہیں "اپنی جاں نظر کروں …اپنی وفا پیش کروں؟ ، قوم کے مرد مجاہد تھجے (اور کیا) کیا پیش کروں؟؟؟”

Advertisements
 
19 تبصرے

Posted by پر مئی 6, 2011 in سیاسی

 

19 responses to “اپنی جاں نظر کروں؟

  1. Malik

    مئی 6, 2011 at 4:26 شام

    maae baap k samnay onchi awaz waisay achi nhe lagti.. jis ka namak khatay hain us ko dhamki bhe achi nhe lagi.. america hamara mae baap hay.

     
  2. Mian Tariq Hanif

    مئی 6, 2011 at 4:32 شام

    jo aap ny likha ha us pe kaya comment karoon.?aap ny to tasweer ka aik hi rukh dikhaya ha.kaya hi acha hota aap yeh bhi likh deity ky jab zalzala aya tha to yehi Army thi jo apney logon ky liye Din Raat aik ky huwey the.Jab flood aya to yehi log thy jihon ny apni jaan pe khail ker logon ko bachaya.Yehi wo army ha jiss ki waja sy hum chain ki neend sotey hein.Agar yeh na hoon to India kab sy hamary ooper attack ker chukka hota,,,jaan to jaaan ha laikin izzatein bhi mehfooz na rehtein

     
    • بے ربطگیاں

      مئی 6, 2011 at 4:51 شام

      طارق صاحب ، اگر آپ کے گھر کا چوکیدار ، آپ کی سبزیاں بھی کاٹے، بچے بھی سکول چھوڑ آے ، باغبانی بھی کرے ، رات کو اگر وہ آپ کی مالش بھی کردے ، مگر جب چور آے تو وہ باتھ روم میں جا کر چپ جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے ؟ کیا اس کو نوکری پر رکھے رکھنا پسند کریں گے ؟؟؟ وہ پنجابی میں اک محاورہ ہے نا "پٹھ پے او سونا جے کنا نوں پیا کھاوے” ….

       
      • Mian Tariq Hanif

        مئی 6, 2011 at 8:51 شام

        Sir G baat itni sada nahi ha jesey aap ny ker di.Siyasat,Hakumat aur Riyasat mein kabi bhi 2+2 = 4 nahi hotey kabi yeh 3 bhi ho saktey hein aur kabi 5 bhi.AAp jis tarah ki baat ker rahey hein ordinary situation mein to theek ha,But you just think if Pakistan had interrupted the copters of US and shot down them then what will be the consiquences of that act.I think Pakistan is in a very bad condition at that time,if did not allow US to attack them they will attack us if allow them to attack you people criticise.

         
      • بے ربطگیاں

        مئی 7, 2011 at 1:00 صبح

        میاں صاحب ، یہاں بات سیاست کی نہی ہو رہی معامله ہمارے کچھ اداروں کی نا اہلی اور ملک کی سکیورٹی کا ہے ، ویسے میں نے کہیں ذکر کیا کہ امریکی ہیلی کاپٹر مار گرادینے چائیے تھے؟ مجھ سمیت ساری قوم کو اندازہ ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں (اگر حقیقی ردعمل کرنا ہوتا تو آج ڈرون کا کچھ نا کچھ ہو جانا تھا) پر ہماری کل کی "لکھنوی بڑهک” کے جواب میں امریکا نے پھرہمیں ہماری اوقات یاد دلانے کے لیے وزیرستان پر پھر اسی طرح حملہ کردیا جس طرح ریمنڈ کی رہائی کے اگلے دن کیا تھا.

         
  3. ALISA

    مئی 6, 2011 at 9:29 شام

    just consider that PAKISTAN IS FACING THREE BIGGEST ENEMIES ,AMERICA .,INDIA ,ISRAILL,AND DEFENDING YOUR CONTRY IS NOT A JOKE AT THIS TIME .YES MUSHARAF DID MISTAKES ,..AND THIS LEADERSHIP OF ARMY IS FACING CONSEQUENCES OF THOSE MISTAKES.BUT GIVE YOUR TRUST TO YOUR SOLDIERS ,THEY NEED YOU RIGHT NOW ,NOT YOUR CRITICISM…+ABOUT THE POOR ,GHAREEB AWAM WONT BE HAVING ANYTHING TO EAT BUT WONT MISS TO WATCH MORAL CORRUPTION I MEAN INDIAN DARAMAS MOVIES ,SINCE 1970 PAKISTANIES ARE DYING TO WATCH INDIAN CRAP .OKAY IF ARMY IS NOT PROPLY DEFENDING YOU ,ARE PAKISTANIES DEFENDING AND ,FIGHTING AGAINST OPERATION BLUE TULSI .ANSWER IS CLEAR AND ONE BIG ..NO

     
    • بے ربطگیاں

      مئی 7, 2011 at 1:28 صبح

      علیسا ، پاکستان کے سب سے بڑے دشمن اس وقت باہر نہی سرحدوں کے اندر ہیں ، مشرف کے بعد کی کارگزاری بھی اتنی شاندار نہی کے ان کی پیٹھ تھپکی جائے ،جو ادارہ اپنے ہیڈ آفس کی حفاظت نا کر سکا ، جو دنیا کے سب سے مطلوب شخص کی رہائش گاہ کی انتہائی حساس مقام پر تعمیر کو نظرانداز کر گیا وہ باقی ذمداریاں کیسے نبھاے گا ؟ آپ جس ادارے کی ہر ضررورت کو اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر پورا کرتے ہیں وہ ہی جھنڈی کرا دے تو پھر باقیوں کا کیا کہنا … ویسے جب کرپشن ، نااہلی ، سیکورٹی رسک کے نام پر منتخب حکومتوں کو نکال باہر کیا جا سکتا ہے تو اور کسی کا احتساب کیوں نہی ہو سکتا ؟ سب برابر ، سب کے ساتھ یکساں سلوک ، سہی اور حدود میں رہتے ہوے جائز کام پر شاباشی اور غلطیوں پر سرزنش … یہاں پر کوئی مقدس گائیں نہی ہونی چاہیے …اسی میں ہماری بقا ہے.

       
  4. Mian Tariq Hanif

    مئی 7, 2011 at 1:58 صبح

    yehi to baat mein keh raha hoon,,ky hum itney na-ahal hein ky USA sy muqabla nhi ker saktey.weseiy hakoomat chalti hi siyasat sy ha.Un ko rokna ya na rokna political faisala hi hota.

     
  5. ALISA

    مئی 7, 2011 at 11:16 صبح

    YOU ARE NOT CONSIDERING HARDSHIPS PAK ARMY IS FACING RIGHT NOW ,WHY AND YOU DO NOT OWN PAK ARMY WHY ,IS THAT THE PAK ARMY IS NOT PAKISTANI PEOPLE . DEFENSE OF PAKISTAN IS THE DUTY OF EVERY PAKISTANI ,ARE YOU FIGHTING AGAINST ATTACKS ON YOUR CULTURE AND IDENTITY ?NO?THEN WHY TO BLAME ARMY ONLY ..?ARMY IS BEEN UNDER CIA MEDIA WARFARE ATTACKS SINCE LONG ETHER ITS SHAZIA MURRY FAKE CASE OR SO …THE THING IS WHO WILL PUNISH PAKISTANI PEOPLE FOR WATCHING INDIAN MEDIA AND BECOME MENTALLY CORRUPTED ?AND ITS SHEER INSULT OF PAK ARMY THAT YOU SAY THAT WE PAY THEM, LIKE WHAT ?DO YOU PAY THEM TO SACRIFICE THEIR LIVES FOR YOU,YES EVERY PAKISTANI IS ASHAMED AT THE ATTACK ON OUR SOVEREIGNTY,AMERICA USED STEALTH HLICOPS THAT CAN HIDE UNDER RADAR AND YES THEY DID KILL GOD KNOWS WHO?BUT DO NOT SUSPECT PAK ARMYs PATRIOTISM .IT WAS LACK OF TECHNOLOGY BUT NOT ANYMORE COZ ONE OF THOSE HELI WERE SHOT DOWN TO BE STUDIED.

     
  6. ALISA

    مئی 7, 2011 at 11:19 صبح

    IF ANYONE WANTS TO FIGHT FOR PAKISTAN ,JOIN PATRIOTIC ELEMENTS ON NET

     
    • بے ربطگیاں

      مئی 9, 2011 at 6:43 شام

      علیسا ، حب الوطنی کی سند صرف کسی مخصوص وردی والوں کو نہی دی جا سکتی ، نا ہی سارے کے سارے چھ ساتھ لاکھ سو فیصد محب وطن ہیں اور نا ہی لاکھوں کی تعداد میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے سارے کے سارے غدار! ، پہلے ہم کافر کافر کھیلتے تھے ، کیا اب ہم غدار غدار کھیلیں ؟

       
  7. ALISA

    مئی 7, 2011 at 11:33 صبح

    WHAT WOULD YOU SAY ABOUT THEM ?THERE HAVE BEEN 3 MAJOR SUICIDE ATTACKS ON CIA IN AFGHANISTAN WE NEED TO UNDER STAND HOW BIGGER THE THREAT IS THAT PAKISTAN IS FACING RIGHT NOW ,IT IS TIME FOR PAKISTANIES TO STAND UP BE UNITED .KEEPING IN MIND THAT MEDIA IS A WAR TOOL NOW.TO DEMORALIZE ANY NATION MEDIA IS USED .TO BRAIN WASH A NATION MEDIA IS USED .WE NEED TO TAKE A LOOK AT THINGS THROUGH EVERY ASPECT

     
  8. Mian Tariq Hanif

    مئی 7, 2011 at 12:30 شام

    We are never been defeated if we stands hands to hands with our Army.This media
    war will be over soon then people will know who was used by CIA and different agencies .They want to demoralize our army ,it is their weapon but we will not let them do this.Every where we will fight against them.

     
  9. Nadia Karim

    مئی 9, 2011 at 5:50 شام

    Totally agree with the article but the author when talking about arabs, uzbiks, tajiks and cheychens forgot to mention pushtuns. Dont understand why? Out of the 35,000 people who died in the so called war on terrorism 85% of those died are poor children of pushtuns who have brain washed by there own army to commit crimes in the name of religion, used to make money from americans.Nobody wants to talk about that . Why?? If there is so much hatred then the only solution is division of country with baloch and pushtuns one side. Thank you.d

     
  10. بے ربطگیاں

    مئی 9, 2011 at 6:26 شام

    محترم دوستو ، ہم دونوں دو مختلف موضوعات پر بات کر رہے ہیں، آپ پاک امریکا مجموئی پالیسی اور دہشتگردی کی پوری جنگ میں پاکستانی کردار کی بات کر رہے ہیں اور میں صرف اور صرف اسامہ کے پاکستان میں ہونے ، اور دو مئی کے آپریشن کے بارے میں کہہ رہا ہوں. کیسے امریکی سرحد پار سے آے ؟ ریڈار کو چھوڑئیے ، کیسے ہیلی کاپٹر کی آواز تک کسی کو نا سنائی دی(پڑسیوں کو تو آواز سنائی دے گئی پر جگہ جگہ پر انسانی سکہ بند مخبروں کو کچھ نا سنائی دیا جو بارڈر سے لے کر شہروں تک پهیلے ہوتے ہیں) ؟ اس دن پاکستانی حدود کی دو دفعہ خلاف ورزی ہوئی اک آپریشن کی وقت ، دوسری جب اسامہ کی میت سمندر کی طرف لیجائی گئی (یاد رہے افغانستان کو کوئی سمندری حدود نہی لگتی اور اس کا راستہ یاں ایران یاں پھر پاکستان ہے) .اگر پاکستانی "عسکری” حکام کو پہلی حرکت کا پتا نا چلا تو کیا دوسری مرتبہ بھی وہ کان آنکہ بند کِیے بیھٹے تھے ؟ (شواہد کے مطابق اعلی حاکم پہلے آپریشن کے چند منٹ بعد ، جب امریکیوں نے اپنا ہیلی خود تباہ کیا تھا ، پتا چل گیا تھا کے یہاں کوئی امریکی آپریشن ہو چکا ہے) اگر پہلی غفلت نظر انداز کر بھی دی جائے تو دوسری کو کیا کہیں گے ؟

     
  11. بے ربطگیاں

    مئی 9, 2011 at 6:35 شام

    نادیہ بی بی ، آپ جو بات کر رہیں ہیں وہ سو فیصد درست ہے ، یہاں پر اگر سچائی لکھنے پر آئیں تو اس بلاگ پر "صرف عسکری” دشمنی کا داغ لگ جائے گا. مثال کے طور پر خالی پختونوں کے ہی نہی ، 9/١١ سے پہلے بھی "کشمیری جہاد” پر ہم نے اپنے لاکھوں بچے شہدات کے لیے بھیجے ہیں …ہم کس کس بات کا رونا روئیں ؟؟؟

     
  12. Asif Azeem

    مئی 11, 2011 at 1:52 شام

    Ap sab ki ray kisi na kisi had tak theek hay But hamari army Jaisi hay us ki tarif mein thora by rehmana andaza istaimal kerna sahi nahien hay . Mein yeh samajhta hon k Army hi ki waja sy ham logo ka jo Thora buhat khof sab py hay wo qayam hay yeh aik wahid institute hay jis ny Mulk ki salmyat py kabhi haraf nahien any deya .But in sab baton k elawa jahan tak AbbotAbad case ka taloq hay han wahan py mujhay kafi Shock lga k itna bra Opration without our Interference ho gya or hamary Raidar Jam ho gay Hamari Army chup chap khari rahi yeh sab wo batein hein jin ka sahi jawab abhi tak nahien mil ska or yeh bhi k Ager is bat ko defend ker rahy hein to kiss leya???

     
  13. yaqub ahmad

    مئی 11, 2011 at 3:08 شام

    ALISA
    Hmmm, i think you must be joking or you are also one of them?? wese yar bara jigra hy tera, ke ab be es be gairat army ko support ker rahe ho??

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: