RSS

غیرت مندانہ راز

02 مئی

نمبردار ملک جبّار کا طوطی دور دور تک بولتا تھا اسکا خاندان گزشتہ دو نسلوں سے گاؤں کی نمبرداری کے فرائض سر انجام دیتا آ رہا تھا. اس سال چند خیر اندیشوں کے مشورے کے بعد اس نے تحصیل کی سرپنچی کے چناؤ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا. ویسے تو ملک جبار کا حریف نا تو اس جیسا خاندانی پس منظر رکھتا تھا اور نا ہی کوئی معاشی و طاقتی جوڑ، پر منہ پھٹ مخالف جگہ جگہ ، گلی گلی ، ہر اک جلسے میں ملک کی دھجیاں کچھ ان الفظ میں اڑاتا "جو نمبردار اپنے گھر کی عزت نا سمنبھال سکا ، اسکا منہ کالا کرنے والی کو جو آج تک نا ڈھونڈھ سکا. ایسا بے غیرت اور تھکڑ شخص ، سرپنچ بن کر کیا فیصلے کرے گا” (دراصل ملک جبار کی لاڈلی بیٹی نکی کچھ سال پہلے کسی نا معلوم شخص کے ساتھ رات کے اندھیرے میں بھاگ گئی تھی ) ملک کا خون ایسی باتیں سن کر مزید کھول جاتا کیونکہ پرکھوں کا کمایا نام مٹی مٹی ہو رہا تھا ، اسکی دن رات بس اک ہی تمنا تھی کہ کسی بھی طرح اسے ان منحوسوں کا پتا چل جائے اور وہ انکے خون سے اپنے خاندانی دامن پر لگے داغ کو دھو سکے ….

امانت خان ، گاؤں کا چوکیدار اس راز سے مکمل باخبر تھا اور یہ بھی جانتا تھا کے ملک کی نکی ، ہیڈ ماسٹر کے منڈے کے ساتھ اب کس شہر میں رہتی ہے کیوں کے اس رات بھی وہ چوکیداری پر تھا جب اسکی آنکھوں تلے یہ سب ہوا . پر وہ کسی ایسے وقت کا انتظار کر رہا تھا کے جب یہ "غیرت مندانہ راز” بتاۓ تو وہ ملک جبّار کے قہر و جبر سے بھی بچ جائے اور منہ مانگا انعام بھی وصول پاے … آخر خدا نے اسکی سن لی ، پنچایت کا چناؤ اسکے لیے مبارک گھڑی ثابت ہوا . ملک جبار کی گردن چھری کے نیچے تھی، امانت خان نے موقع مناسب جان کر سب بتا دیا ، اور وہی ہوا جو امانت خان اور ملک جبّار کی منشا تھی . اب ملک نے شریکوں کے منہ بھی بند کروا دِیے تھے اور امانت خان بھی اب اپنے ذاتی 2 مربعوں کا مالک تھا. فساد کی جڑ بھی ختم اور دونوں خوش.

آج اسامہ بن لادن مارا گیا… جس کو دنیا کا ملک جبّارنے پہلے تو بڑے لاڈو نازوں سے پالا تھا ، اسکے ہر نخرے اٹھاے ، پر نکی جب باغی ہوگئی اور اسنے ملک جبّار کے منہ پر کالک تھوپ کر فرار ہوئی ،تب سے جبّار اسے ڈھونڈھ رہا تھا ، برسہا برس کے بعد اچانک اسکی خبر لگی ، فورن سرحد پار سے ملک کے چند کنٹٹے آے ، کام مکمل کیا اور ملک صاحب نے ٹیلی وزن پر آ کر دامن پر لگے داغ کے دھلنےکا علان کیا . یہ سب کچھ ہمارے گاؤں کے اندر ہوا ، کیا ہمارا امانت خان اس سب سے بے خبر تھا ؟، کیا اتنے اہم مقام کے قریب نکی کا ٹھکانہ اسکی نظروں سے اوجھل تھا ؟ یاں وہ چوکیداری پر تھا ہی نہی ؟ یاں پھر امانت خان کی بھی کچھ منشا تھی ؟ حالات کے کھر بتاتے ہیں ، حال ہی میں کچھ ہفتوں سے امانت خان ملک جبّار کے ڈیرے پر متواتر چکر لگاتا پایا گیا …شاید موقع مناسب جان کراس نے بھی "غیرت مندانہ راز” افشاں کردیا .. کہتے ہیں کہ دونوں میں کافی گرما گرمی بھی ہوئی تھی . کسی بات پر کچھ اڑا ہوا تھا، شاید لیں دیں پر .. پر پھر سب "سیٹ” ہو گیا … ملک جبّار نے تو فخریہ طور پر اپنا دامن صاف کرلیا ہے اور اسکی سرپنچی بھی پکی ہی سمجھی جائے، پر اب دیکھنا یہ ہے کہ امانت خان کو کب اور کتنے "ذاتی مربعے” ملتے ہیں… کیوں کے معلوم تو اس کو سب کچھ کافی عرصے سے تھا بس ذرا مناسب موقع اور دام اب ملا ہو ….

Advertisements
 
5 تبصرے

Posted by پر مئی 2, 2011 in سیاسی

 

5 responses to “غیرت مندانہ راز

  1. Naeem Ullah

    مئی 3, 2011 at 7:15 شام

    Ab yea to Malik pey depend kerta hey Thudey maarta hey Yaa Murabbey nawazta hey, lets see.

     
  2. Arsalan Jawaid

    مئی 5, 2011 at 7:10 صبح

    i likes

     
  3. م بلال

    مئی 6, 2011 at 3:04 صبح

    واہ بہت خوب۔ حقیقت اور کہانی کو ملا کر کیا نقشہ پیش کیا ہے۔
    اندازِ تحریر بہت ہی اچھا ہے۔
    ویسے اردو فونٹ کے لئے ایچ ٹی ایم ایل ٹیگ استعمال کر لیں تو کم سے کم تحریر پڑھنے میں روانی زیادہ بہتر ہو جائے گی۔

     
    • بے ربطگیاں

      مئی 6, 2011 at 3:30 شام

      بلال ، آپ کی قمیتی رائے کا بہت بہت شکریہ ، نئی پوسٹ پر فونٹ سائز بڑھا دیا گیا ہے .

       
      • م بلال

        مئی 8, 2011 at 4:29 صبح

        محترم صرف فونٹ سائز بڑھانے سے کام نہیں چلے گا۔ آپ تحریر کا فونٹ جمیل نوری نستعلیق کیوں نہیں کرتے۔ جن کے کمپیوٹر میں جمیل نوری نستعلیق ہو گا کم از کم وہ تو تحریر روانی سے پڑھ سکیں گے۔ جن کے کمپیوٹر میں جمیل نوری نستعلیق فونٹ نہیں ہو گا ان کو تحریر اسی طرح نظر آئے گی جس طرح ابھی ہے۔
        برائے مہربانی تحریر کے شروع میں درج ذیل کوڈ لکھیں
        <font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4">
        اور تحریر کے آخر پر درج ذیل کوڈ لکھ دیں
        </font>
        یوں آپ کی تحریر جمیل نوری نستعلیق میں نظر آئے گی۔
        اردو بلاگ کے زیادہ تر قارئین نے اردو فونٹ انسٹال کیا ہوتا ہے اور وہ کسی نستعلیق فونٹ میں ہی تحریر پڑھنا پسند کرتے ہیں۔

         

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: