RSS

سلام اقبال

27 اپریل


لاری اڈے سے منزل تک کا سفر تقریباً ٣٠ منٹ کا تھا ، مولانا صاحب کو منزل مقصود تک پہچانا میری ذمداری تھی . وہ میری ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوگے. جیسے کہ ہمارے معاشرے کی خواتین کے پاس انجان ہم جنس سے بات کے دو ہی سانجھے موضوع "فیشن اور ساس بہو کے مسائل” ہوتے ہیں، اسی طرح جہاں ٢ مرد مل جائیں تو ان کے لیے یاں تو مہنگائی یاں پھر سیاست وقت گزارنے کے بہترین موضوعات ہیں . پس رسمی سلام دعا اور تھوڑی خاموشی کے بعد انتخاب سیاست کا ہوا. مولانا کا تعلق چوہدھریوں کے شہر سے ہونے کی ناتے میں نے چوہدھری بردران کے بارے ان کا نقطہ نظر جاننے کے لیے سوال کیا تو جواب میں انھوں نے سارے کے سارے "کافرانہ جمہوری” نظام پر تبرے بھیج دِیے(ان کےدلائل پر پھر کسی تحریر میں انصاف ہوگا) پر موصوف نے حضرت اقبال کے کچھ اشعار اس عمدہ انداز میں داغے کے موضوع تو دھرا کا دھرا رہ گیا اور میرا سارا دیهان اقبال نے اپنی طرف کھینچ لیا . موصوف کے دلائل تو میرے کانوں سے تو ٹکرا رہے تھے پر میری سوچ پر اقبال کا قبضہ ہو چکا تھا . میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا اگر حکیم ال امت حضرت علامہ اقبال کا طب خانہ نا ہوتا تو ہم جیسے کتنے بنا علاج مارے مارے پھرتے …

ذرا دیکھئے کس طرح اقبال کے شفا خانے کی شعری پڑیاں قوم کے ہر مکتبے فکر کو فیض یاب کر رہیں ہیں اور ہر حاجت مند کی سنی جا رہی ہے …. منمبر پر کھڑے کٹر واعظ کے بیاں میں الفاظی جادو، فرنگی لباس اور زبان بولنے اور اعلی تعلیم مغربی مدارس و اساتذہ کے زیر اثر حاصل کرنے والے، اپنے آخری آیام اک "نا محرم جرمن” خاتون سے خدمت کرواتے اقبال کے اشعار ہی پھونکتے ہیں جو حاضرین کو سحرزدہ کردیتے ہیں … ہمارے "مذہبی دانشور” اسی اقبال کے فلسفے حیات اور خودی کے سہارے "اسلامی مملکت” کا نقشہ کھینچتے پائے جاتے ہیں جن کو باخوب معلوم ہے کے یہ وہی اقبال ہیں جنھوں نےاپنے کئی مکتوب اک سیکولر، غیر عملی مسلمان کو قوم کی قیادت پر قائل کرنے کہ لیے لکھے . شکوہ اور جواب شکوہ ، اسلام کے شاہینوں اور اسلام کی زبو حالی کا رونا رونے والے قدامت پسند اقبال ہی ہیں جن کی شاعری آج بھی روشن خیال گلوکاروں کو ہر دل عزیز بنا دینے والے لیرکس دیتی ہے . پرجوش تقاریر کے حامل محب وطن سیاسی قائدین اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے عسکری سالار بھی "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا …” کے راقم کے عبارت سے ہی سامعین میں ولولہ پیدا کرتے ہیں … اور تو اور جمہوری اقبال سے اس ملک کے اک غاصب آمر نے ان کا شاہین تک چرا کر اپنی نوملود "عوامی” جماعت کے پرچم پر چسپا کر دیا کہ کوئی تو انکو اقبال کا "سچا شاہین” سمجھے گا .

اک پل کے لیہ ذرا سوچیے ، خدا نا خواستہ اگر اقبال نا ہوتے ؟ تو شاید منمبرنشین کو فیض احمد فیض کے "لازم ہے ہم بھی دیکھے گے…” پر اکتیفادہ کرنا پڑتا تو سامعین اک سے دوسری دفعه ادھر رخ بھی نا کرتے . بچے سکولوں میں "لب پر اتی ہے تمنا ..” کی جگہ حبیب جالب کی "میں نہی مانتا ،میں نہی مانتا ” جیسی باغیانہ نظم گنگناتے پاے جاتے .. اور اگر کرپٹ حکمران یاں "بہادر سالار” پروین شاکر کے مصروں "بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی….” پر تکیہ کرتے تو عوام کا جوش و ولولہ تو دیدنی ہوتا اگرچہ زاویہ الٹا ہوتا … پر شکر ہے لاج رکھنے کے لیے حکیم امت ، علامہ اقبال تھے اوران ہی کے بدولت اب "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”. کیوں کے ہر اک کو مطب اقبالی سے شفا کی دوا ملتی رہی ہے اور ملتی رہے گی…. اقبال ہی ہے جس نے مختلف شعبے زندگی سے پیوستہ اور ١٠٠ فیصد الگ الگ سوچ کے حامل افراد کو اک سانجھا تعلق دیا اور لوگ اس چشمے سےاپنے اپنے ڈھنگ سے فیضیاب ہوتے ہیں …اے عظیم شاعر، مفکر ، تجھے سب کی فکر تھی…تیرے افکار اور تیرے کلام میں ہر اک کے لیہ کچھ نا کچھ تھا ،تو کل بھی زندہ وجاوداں تھا اور رہتی دنیا تک رہے گا ،تیری دور اندیشی اور فیاض دلی(کہ تو نے ہر اک کا خیال رکھا) پر تجھے لاکھ لاکھ "سلام اقبال”….


یوم وفات اقبال پر

Advertisements
 
3 تبصرے

Posted by پر اپریل 27, 2011 in سماجی, سیاسی

 

3 responses to “سلام اقبال

  1. م بلال

    اپریل 28, 2011 at 5:58 شام

    بہت خوب زبردست تحریر ہے۔
    آپ کافی اچھا لکھتے ہیں۔ اگر پہلے اردو سیارہ اور اردو فیڈ میں آپ کے بلاگ کا اندراج نہیں تو پھر کوشش کریں کہ چند اور تحاریر لکھنے کے بعد اردو سیارہ اور اردو فیڈ
    http://www.urduweb.org/planet/
    http://www.urdufeed.com/
    میں اپنے بلاگ کا اندراج کروا دیں۔

     
    • بے ربطگیاں

      اپریل 28, 2011 at 6:26 شام

      بلال ، آپ کی پسند دیدگی کا بہت بہت شکریہ ، یقین مانئے کافی حوصلہ ملا ہے ، می آپ کی تجاویز پر جلد عمل کرنے کی سعی کروں گا.

       
  2. adnan jawaid

    مئی 4, 2011 at 3:40 صبح

    im extremely impressed nd delighted by ur work…i think ka aj kal ka door mein this type of writting means alot ….i wish u vry vry best of luck

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: