RSS

… جا تیرا ککه نا روے

15 اپریل

ہر ایک پاکستانی کی مانند میں ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم نہی کر پایا کہ کرکٹ ٹیم میچ ہار گئی ہے. (یہ سچ ہے کہ جیسے اولاد چاہے جتنی بری کیوں نا ہو ماں باپ کو پیاری ہوتی ہے ، اسی طر ح باشندہ چاہے جس ملک کا بھی ہو اسے اپنے وطن سے جڑی ہر شہ سے پیار ہوتا ہے اب چاہے وہ کسی کھیل کی ٹیم ہی کیوں نا ہو) اوروں کی طر ح میں اسکی شکست سے باہر نہی نکل پایا .

اس وقت میں اپنی کرکٹ ٹیم کو تنقید کا نشانہ نہی بنانا چاہتا ، کیوں کہ انہوں نے تو اپنی استطعت سے بڑھ کر کر دکھایا ، نا ہی میں ان ماہر نجوم کو قصور وار ٹہراوں گا جن کے علمی ستارے سیریز شروع ہونے سے پہلے اور تیس مارچ تک چند ہفتوں میں ١٨٠ کے زاویہ پر پلٹا کھا گے تھے اور محشر کے دن تک نوید سعید سنا رہے تھے. نا ہی ان میڈیا آنکرس سے خائف ہوں جنہوں نے اپنے پروگرام کے مزاج سے ہٹ کر سیاسی سے سپورٹس شو بنا دیا ، نا ہی ان سیاسی لیڈروں سے نالاں ہوں جنہوں نے سپورٹس شو میں بھی اپنی سیاسی دکان چمکائی اور عین وقت پر (دوسرے ملک کے چینل سے ) جیب بھی . اب سب نے گنگا میں ہاتھ دھونے ہی تھے نا ، آخر اتنے عرصے بعد جو بہی. اگرچے ان تمام عوامل نے مل کر قوم میں ہیجانی کیفیت پیدا کردی تھی پر میں ان سے پریشان نہی ، درحقیقت پریشان کن تو وہ گندی سوچ اور ذہنیت ہے جو میچ ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر برھنہ ہو کر سامنے آگئی

شکست کے بعد غم غلط کرنے صدر بازار کی طرف گاڑی نکالی، رڈیو ٹیون کیا، پروگرام ہوسٹ کی آواز کانوں سے ٹکرائی .”ہار گے تو کیا ہوا؟ دیکھیا گا فائنل میں ہمارا بدلہ کس طر ح سری لنکن ٹیم لیتی ہے *انشاللہ *( انشاللہ پر زور دے کر) ، اور میرے دماغ میں پنجابی سٹیج ڈراموں کا وہ فقرہ گھوم گیا جو کافی دنوں سے اپنے دوست سے آزرمذاق کہہ رہا تھا ” جے ریا ساڈھا نہی ، تے انشاللہ رہنا توہاڈا وی نہی”. آخر کیوں جب ہماری ہمت جواب دے جاتی ہے یاں کوئی چیز دسترس سے باہر ہو جاتی ہے تو ہم بد دعأ اور کوسنوں کا مکروہ سہارا لیتے ہیں؟ ہر اس معاملے میں دوسروں کا کندھا کیوں تلاش کرتے ہیں جس پر ہمیں قدرت نا رہے ؟ اب چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یاں مغرب سے ناراضگی . سونے پر سوھاگہ ان بد دعأ وں میں انشاللہ پر ماشاللہ کافی زور ہوتا ہے جیسا کہ "امریکا کی بربادی انشاللہ طالبان کے ہاتھوں ہی ہو گی ” . میں تو یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کے آخر ہم دشمن کی بربادی ہی کیوں چاہتے ہیں؟(چاہے دوسروں کے ہاتھوں سے ہی سہی ) اسکو نیست و نابود ہوتا دیکھنا ہمارا مقصد حیات کیوں بن جاتا ہے ؟ شاید ہم شدید لاچار ہیں یاں شکست خوردہ , بزدل ہیں یاں پھر بے دلیل کیونکہ ہرایسے شخص کا آخری جملہ یہی ہوتا ہے "جا تیرا ککه نا روے” .

٠٢ اپریل ، ٢٠١١.

Advertisements
 
تبصرہ کریں

Posted by پر اپریل 15, 2011 in سماجی

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: