RSS

غیر سیاسی لوٹے اور قوم

15 اپریل

ہر روز ایک نئی پر اثر تحریر ، ہر ٹالک شو میں جھنھورٹنے والے موضوعات ، خواب غفلت سے جگا دینے والے ابتدا ے ، معاشرے میں بدنما عناصر کی نشاندہی کرنے والے حقیقی شو ، مختصراً اتنی خدمات، ، محنت ، محنت اور مزید… محنت کے باوجود ہم اپنے ان محسنوں کے فرمودات کو اتنی اہمیت کیوں نہی دیتے ، آخر ہمارے یہ دانشور اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود اس قوم میں دانش اور فیھم کی روح نا پھونک سکے؟ ،

کہا جاتا ہے کے انسان کی بات میں اس وقت تک اثر نہی آتا جب تک وہ خود اس پر عمل پیرا نا ہو ، شاید یہی کچھ ان دانشور حضرت پر بھی صادق آ رہا ہے . میں جب ان اشخاص کو جمہوریت کی افادیت پر لب کشائی کرتے دیکھتا ہوں تو چاہیتے ہووے بھی میں میں ان شامی اور حسینی تحروں کو اپنے نو عمر دماغ کے کسی کونے سے نہی نکال پاتا جو مرد مومن کو شہدات کے ساتھ ساتھ درجات تک پوھچانے کے لیےہ لکھی گیں تھیں . میں کیسے اس مسعودی جادو گر کو بھول جاؤں جو اپنے حقیقی افکار کے بر عکس کفار کی قبر اور قیامت کی نشانیاں طالبانی گورکنوں کے ہاتھوں میں ہونے کی پیشن گوئی کرتا رہااور ہم جیسے آمین ثم آمین کہنے والوں پر اپنی حقیقت آشکار نا ہونے دی. کیا میں ان لقمانی حکایات گو کو نظر انداز کردوں جو نا جانے کس حکمت کے تحت اتنے ادارے بدل چکے ہیں کے شاید پنڈت جی نے اپنی پوری عمر انتنی دھوتیاں نا بدلی ہوں گی ، موصوف آج کل کھری باتیں سنا رہے ہیں کے شاید کوئی عتبار کرلے. ادھر ہمارے میری بھائی ہر کچھ عرصے بعد اپنا نوا بُت تراش کر پر انے صنم کی جفا کشی کا دکھڑا سناتے پاے جاتے ہیں کہ شاید عوام انکے نوے محبوب کی پزیرائی کردے اور وہ عوام کو نئی قیادت دینا کے سہرا اپنے سر باندھ سکیں، یاں میں ان رحمانی حاجیوں سے چشم پوشی کرلوں جو دوسروں کے نوافل پر بھی آنکہ لگاے بیٹھے ہیں کے سہووان ہی سہی ابھی ان سے کوئی رکعات چھوٹ جائے اور وہ عوامی فتویٰ صادر کردیں. .

اپنے اپنے انداز سے ،یہ تمام دانشور ، فہم و فرا ست کے حامل افراد ، قوم کو ایک نیا سویرا ، نئی سمت دینے کا بیڑہ اٹھاۓ کھڑے ہیں ، دن رات ایک کیے ہماری سیاسی گندگی صاف کر رہے ہیں پر قوم کے کان پر جوں تک نہی رینگتی ، آخر کیوں ؟ ، شاید قوم لوٹوں، مداریوں اور مفاد پرستوں کو نا پسند کرتی ہے چاہے وہ سیاسی ہوں یاں غیر سیاسی . قوم اتنا شعور تو رکھتی ہے نا؟

مورخہ ٢٨ مارچ ، 2011

Advertisements
 
تبصرہ کریں

Posted by پر اپریل 15, 2011 in سماجی

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: