RSS

راج گدھ

15 اپریل


جہاں دو چار لاکھ میں خودکش حملہ آور دستیاب ہو ، جس کو اس بارے میں کوئی شک بھی نہی کہ وہ بچے گا , تو بیس کروڑ تو بہت بڑی رقم ہے وہ بھی ان کے عیوض جو لوٹ کر واپس نہی آ سکتے. مذہب اور خیرات کے نام پر سیاست کرنے والے جو آج سڑکوں پر آ کر لعن و تان کر رہے ہیں، وہ اس وقت کہاں تھے جب دونو بھائیوں کے ورثا یہ دہائی دے رہے تھے ایک ہم پر دیت کا دباؤ ہے ، ہم نے یہ مشترکہ اککونٹ کھولا ہے ہماری مدد کی جی تاکے ہم دیت پر مجبور نا ہوں . اس وقت کسی خیراتی جماعت کے انقلابی رہنما اور کسی منصوری امام نے یہ نہی کہا کے ہم پہل کرتے ہوے اتنے لاکھ اس اککونٹ میں جمع کرواتے ہیں. اور پھر پوری قوم کو اس کو تلقید کا مشورہ دیتے تا کے یہ لوگ کسی مالی مجبوری میں نا آئیں اور دیت نا ہو پاے، پر نہی ، اگر وہ ایسا کرتے تو وہ بمپر سیل نا لگتی جس کی وجہہ سے آج انکی دکان پر وقتی رش ہے. سب کے ساتھ ساتھ وہ نام نہاد انقلابی اور مذہبی رہنما بھی اتنے ہی مجرم ہیں جو انتظار کرتے رہے کب کیس کی جان نکلے اور وہ ِگدھوں کی طرح مردے پر ٹوٹ پر ہیں . مجھے اس وقت رودالی فلم یاد آ رہی ہے کہ ٹھاکر مرے گا تو جھوٹا رونا رو کر ان کو فائدہ ہوگا. افسوس ہم آج ان رودالیوں کے آنسوؤں پر اعتبار کر کے انکو اپنا شریک غم سمجھ رہے ہیں. اگر جمع تفریک کریں تو معلوم پڑھے گا کے حکمران اور ورثا ہی نہی وہ گدھ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں یہ گدھ ہر وقت دور کہیں مجود رہتے ہیں بس ذرا مرنے کی دیر ہے وہ آ دھمکے گے ، بس اس چیز کا خیال رہے کے کہیں یہ گدھ ، راج گدھ نا بن جائیں .

مورخہ ١٩ مارچ ، ٢٠١١

Advertisements
 
تبصرہ کریں

Posted by پر اپریل 15, 2011 in سماجی, سیاسی

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: